انسان کشی بذریعہ نصاب تعلیم
چمن آبادی

نظام تعلیم میں نصاب کی اہمیت واضح ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل نصاب تعلیم سے مربوط ہوتا ہے۔ پاکستان میں نصاب کا تنازعہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے شروع ہوا۔ اس زمانے سے سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانے والی دینیات کا مسئلہ پہلی مرتبہ اٹھا اور ملک خداداد میں نصابی کتب کے ذریعے انسان کُشی کیلئے ذہن تیار کرنے کی کوششیں تیز ہوگئیں، ساتھ ہی جہادِ افغانستان کا فیصلہ ہوا تو جنت کے خریداروں نے جوق در جوق اس میں شرکت کی، اسی ضمن میں ملنے والے غیر ملکی فنڈز کی بدولت شدت پسندی کی لہر زیادہ طاقتور ہوگئی ۔ اس کے ساتھ پورے پاکستان میں انسان کشی بھی شروع ہو گئی۔ جابجاایک خاص طبقے کے مدارس کھلنے لگے اور جگہ جگہ کافر کافر کی وال چاکنگ دکھائی دینے لگی۔
1985ء میں پنجاب کے شہر جھنگ میں "انجمن سپاہ صحابہ" نام سے ایک تنطیم سامنے آگئی۔ جس کے بعد یکے بعد دیگرے شیعہ مساجد اور امامبارگاہوں کو نشانہ بنانے کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔
ضیاء الحق کے زمانے میں کوئٹہ، کراچی، پاراچنار اور گلگت میں باقاعدہ لشکر کشی ہوئی۔1981ء میں کرم ایجنسی کے جہادی گروہ نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر پاراچنار کے راستے پر موجود قصبہ "صدہ "میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل کر دیا۔ 1983ء میں کراچی میں شیعہ آبادیوں پر حملے ہوئے جن میں ساٹھ افراد شہید کر دیے گئے۔ 5 جولائی 1985ء کو کوئٹہ میں پولیس کی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے شیعوں کی قدس ریلی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 شیعہ جوان شہید ہوئے۔ 80 کی دہائی میں پاکستان بھر میں سات سو کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے 400 کے قریب لوگ 1988ء میں گلگت کی غیر مسلح شیعہ آبادیوں پر لشکر کشی کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
امریکہ نے 2002ء میں افغانستان میں قبضہ کیا تو پاکستان کے امریکہ مخالف تنظیموں کو پھر اسلحہ ملنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں شیعہ کشی میں خودکش دھماکے کا استعمال شروع کیا جس کے نتیجے میں اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے 2017ء تک تقریباً تین ہزار شیعہ ڈاکٹر، انجنئیر، ادیب، ماہر تعلیم، بنکار، پولیس آفیسرز اور دیگر باصلاحیت افراد قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہو کر زندہ لاش بن گئے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کوئٹہ، کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ ہیں۔
گزشتہ روز پشاور کی قصہ خوانی بازار کی جمعہ مسجد میں نماز جمعہ جیسی عظیم عبادت کے دوران حوروں سے ملاقات کے ایک مشتاق خودکش حملہ آور نے حملہ کر کے دسیوں لوگوں کو شہید اور زخمی کیا کیونکہ ان کی مذہبی آئیڈیالوجی یہی ہے کہ وہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت ہی نہیں کر پاتے۔ ایسے لوگ شیعوں اور سنیوں دونوں کو واجب القتل سمجھ کر قتل کرتے ہیں۔ خبروں میں تو بس یہ اعلان ہوتا ہے کہ نامعلوم دہشتگردوں نے حملہ کیا، حالانکہ دہشتگرد خود اعتراف کر رہے ہوتے ہیں لیکن میڈیا اور اداروں کی نظروں میں یہ لوگ ہمیشہ نامعلوم ہی ہوتے ہیں۔ ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد بھی یہ لوگ سیاسی رہنما، ایم این اے،ایم پی اے ، مصلح اور محب وطن ٹھہرتےہیں، جبکہ شیعہ بے گناہ جوان پاکستان دشمن، غیر ملکی ایجنڈ اور دہشتگرد ہیں کہ جو بغیر کسی ثبوت اور عدالت میں پیشی کے غائب کیے جاتے ہیں، معلوم نہیں زندہ ہیں یا مردہ۔
پاکستان میں جب تک ان لوگوں کی سرپرستی اور سہولتکاری کی جاتی رہے گی ، اس وقت تک ملک میں امن برقرار نہیں ہوسکتا۔ اگر ماں جیسی ریاست اور باپ جیسے حکمران اپنی اولاد جیسے عوام کی جان بچانا چاہتے ہیں تو انہیں ان سانپوں کو دودھ پلانے اور پالنے کا مشغلہ ترک کرنا ہوگا۔