لہو اور بارش کا پہلا قطرہ 
🔏 جواد پاروی


پشاور  لہو لہو ہے۔ غم کی تاریکی چھا گئی۔ حسب سابق مذمتوں اور اظہار تسلیت کا تانتا بندھ گیا۔ 11 ستمبر کے بعد دہشت گردی کے نام پر  اسلاموفوبیا کی مہم چل پڑی اور اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا گیا کہ آج اپنے بھی اسلام کو ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھنے لگے ہیں۔ اس دلدل میں کچھ ناعاقبت اندیشوں کی وجہ سے ہم بھی کچھ اس طرح پھنس گئے ہیں کہ آج یہ دوسروں کی جنگ، ہماری اپنی بقا اور سالمیت کی جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔
وطن عزیز پاکستان کی تاریخ میں  خودکش حملوں کی ابتدا  نومبر 1995 میں مصر کے سفارتخانے پر حملے سے ہوئی۔ لیکن ان میں شدت 11 ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ پر حملوں کے بعد آئی اور صرف 2002 سے 2007 کے درمیان تقریبا 50 سے زیادہ خودکش حملے ہوئے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد بڑھتی گئی اور صرف سال 2020 میں ان حملوں کی تعداد 95 تھی جو کہ بڑھ کر سال 2021 میں 121 تک جا پہنچی۔
ان حملوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن زیادہ تر یہ کاروائیاں شیعہ نشین علاقوں میں ہوئیں جس میں تقریبا 40 ھزار کے قریب اہل تشیع پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ کراچی، پاراچنار، کوئٹہ، گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے شیعہ شہریوں کو چن چن کر شہید کیا گیا۔ لہذا  ریاستی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ  ہے کہ  دہشت گردوں  کے خصوصی نشانے  پر صرف اہل تشیع ہی  کیوں ہیں ؟؟؟ یہ سوال ہر باشعور انسان کے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ اگردہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں تو دہشت گرد صرف  ایک مسلک کے لوگوں کو  چُن کرکیوں نشانہ بناتے ہیں اور مذہبی عبادت گاہوں پر کیوں حملے کرتے ہیں؟
اب یہ ہر شیعہ اور سُنی بخوبی سمجھنے لگا ہے کہ پس دہشت گردوں کا بھی ایک مذہب ہے  جس کی سہولتکاری کیلئے اور اسے مزید پالنے پوسنے  کیلئے  یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں۔ بے گناہوں کے  لہو کے دھبے بتا رہے ہیں اور خون بول رہا ہے کہ جی ہاں دہشت گردوں کا ایک مذہب ہے جو پاکستانیوں کا خون بہانا  جائز سمجھتا ہے،جو پاکستان کو کافرستان، پاک فوج کو ناپاک فوج اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہتا ہے۔ دہشت گردوں کے سرپرست اُس مذہب پر لاکھ پر دے ڈالیں اور دہشت گر بے شک ہزار برقعے پہنیں ، ملت پاکستان کو  اپنے اتحاد اور وحدت کے ساتھ ان کے چہروں سے نقاب اور برقعے ہٹانے پڑیں گے۔
ظاہر ہے جو دہشت گردوں کو قیمتی اثاثے کہتے ہیں، جو انہیں انسان کُشی کیلئےمحفوظ راستے فراہم کرتے ہیں، جو انہیں نقل و حرکت کیلئے پروٹوکول دیتے ہیں اور جو انہیں گرفتاری کے بعد بھی خاموشی سے  محفوظ مقامات پر منتقل کر دیتے ہیں وہ تو ان کے مذہب کا کبھی نام نہیں لیں گے، اب کسی کو تو نام لینا ہوگا، کوئی تو بارش کا پہلا قطرہ بنے۔