حضرت سعد بن عبادہؓ

رجب علی
دینِ اسلام آزادی اظہار کا دین ہے۔ ہمارے طالب علموں کے ملحد، کیمونسٹ، سوشلسٹ،سیکولر اور لادین وغیرہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اُنہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اسلام میں اظہارِ رائے اور عقیدے کی آزادی نہیں ہے۔ حالانکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ اگر ہمارے نوجوانوں کو دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات اور سیرت النّبی ؐ و اہلِ بیت النّبیؐ اور صحابہ کرام کی تاریخ سے حقیقی معنوں میں آشنا کیا جائے تو اسلام سے زیادہ وسیع القلب کسی اور دین یا مکتب کو نہیں پائیں گے۔
تاریخِ اسلام کی ایک جلیل القدر اور عظیم شخصیت حضرت سعد بن عبادہؓ ہیں۔ آپ کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہے کہ آپ انصارِ مدینہ کی طرف سے خلافتِ راشدہ کے نامزد امیدوار تھے۔ یعنی خلافتِ راشدہ کے امیدواروں میں سے اگر ایک طرف حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ تھے تو دوسری طرف حضرت سعد بن عبادہؓ اپنے تمام تر انصارِ مدینہ کے ساتھ خلافت کے لئے کھڑے تھے۔ آپ نے بغیر کسی خوف کے ببانگِ دہل اپنی خلافت کیلئے اصرار کیا ۔ آپ جانتے تھے کہ بعنوانِ خلیفہ آپ اصحابِ سقیفہ کے
میرٹ پر پورے اترتے تھے۔ آپ نے حضور اکرم (ص)کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔ رسول اکرم (ص)کے اصحاب خاص میں سے شمار ہوتے تھے۔جنگ احزاب میں حضور اکرم (ص) کے مشیر کا اعزاز بھی انہی کو حاصل رہا۔ مختلف غزوات میں آپ انصار کے علمدار تھے جبکہ مہاجرین کے علمدار حضرت علی کرم اللہ وجہ تھے۔ رسول اکرم ؐکے ساتھ میثاق عقبہ میں حضرت سعد بن عبادہ ان بارہ نقباء میں سے ایک تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی علم سعد بن عبادہ کے ہاتھ میں تھا۔ آپ کے فضائل و مناقب اتنے زیادہ ہیں کہ سقیفہ بنی سعدہ میں موجود انصارِ مدینہ کا خلافت کے لیے تنہا اور واحد انتخاب آپ ہی تھے۔
سقیفہ بنی سعدہ میں جب حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور ابو عبیدہ جراح نے حضرت سعد بن عبادہ کے مدِّ مقابل تقاریر کیں تو حضرت سعد بن عبادہ اور اُن کے عظیم قبیلے کے موقف میں کسی قسم کی لچک نہیں آئی۔ آپ اپنے مخالفین کے استدلال سے قانع نہیں ہوئے اور ساری زندگی اپنے قبیلے کے ہمراہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اور آپ کے قبیلے نے خلیفہ اوّل اور دوّم کی بیعت نہیں کی ۔
خلافت کے مسئلے پر آپ کا موقف اتنا سخت تھا کہ خلیفہ دوم نے آپ کو مدینہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ آزادی اظہار اور آزادی بیان جیسی اقدار کو تاریخ اسلام میں زندہ رکھنے کیلئے آپ ۱۱ ہجری قمری کو شام کی طرف شہر بدر ہوگئے۔ شام کے شہر حوران کے نزدیک آپ کی کسی وجہ سے مخفیانہ شہادت ہوئی ۔تاریخی کُتب میں اس مخفیانہ قتل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کسی جن نے آپ کو قتل کیا ہے۔ البتہ یاد رہے کہ جِن عربی میں مخفی کو بھی کہتے ہیں۔ بعض نے اس سے جنّات کا معنی لیا ہے اور پسماندہ علاقوں کی طرح ایک کہانی گھڑی ہے کہ انہیں اس طرح ویرانے میں ایک جن نے مار دیا یا جنّات نے ان کی ٹارگٹ کلنگ کر دی۔
تاریخی کتب میں یہ بھی درج ہے ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور محمد بن سلمہ انصاری ، خلیفہ ثانی کے حکم سے شام میں حضرت سعد بن عبادہ سے بیعت لینے کے لیے گئے۔ حضرت سعد نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو ان کے درمیان مختصر جھڑپ ہوئی۔ ان دونوں نے حضرت سعد بن عبادہ کو تیر کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوگئے۔ بہرحال تاریخ تو تاریخ ہے، اب اسے مسخ یا تبدیل تو نہیں کیا جا سکتا۔ ہم تاریخ سے عبرت اور درس ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی شخصیت تاریخ اسلام کی انمول شخصیت ہے۔ ہم حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار، سیاست و شجاعت، جرات و استقامت اور ہجرت و شہادت کو اپنے سلیبس میں شامل کر کے اپنے بچوں کو تاریخِ اسلام سے یہ درس دے سکتے ہیں کہ اگر اظہارِ رائے، آزادی بیان اور اپنی انسانی و سیاسی حقوق کیلئے جدوجہد کرنی ہے اور آواز اٹھانی ہے تو آپ ملحدین اور مشرکین کے نقشِ قدم پر چلنے کے بجائے اپنے نبی (ص) کے صحابہ کرام ؓ کی تعلیم اور جدوجہد کو اپنائیں۔ اگر ہم تاریخِ اسلام کو شفافیّت کے ساتھ نصابِ تعلیم میں شامل کریں تو ہمارے بچوں کے ہیرو ملحدین کے بجائے صحابہ کرام ؓ ہی بنیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سچ بتانے پر راضی ہو جائیں۔

حضرت سعد بن عبادہ تاریخ اسلام میں تاریخ اسلام میں آزادی اظہار اور آزادی بیان کے علمبردار ہیں ۔ آج کے جدید اور ماڈرن دور میں جب ہر طرف آزای بیان، انسانی حقوق اور آزادی اظہارکا دور دورہ ہے ایسے میں آپ کی تعلیمات کو نصابِ تعلیم میں جگہ نہ دینا ، اس نصابِ تعلیم کا سب سے بڑا نقص ہے۔


افکار و نظریات: صحابہ