پرواز کا موسم

✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ،
جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان
آصف علی زرداری نے گارنٹی دے دی ہے۔ گارنٹی ن لیگ کی طرف سے چوہدری شجاعت حسین کو دی گئی ہے۔ گارنٹی کے مطابق چودھری پرویز الٰہی کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنا دیا جائے گا۔ تاہم اس گارنٹی کے ساتھ ایک شرط بھی ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ ق لیگ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے جمع کروائی گئی تحریکِ عدمِ اعتماد میں اگر اپوزیشن کا ساتھ دے اور شہباز شریف کو وزیراعظم پاکستان بنانے میں اپنی بیساکھیاں مہیا کر دے تو اس کے بدلے میں چودھری پرویز الٰہی کو ن لیگ کا حمایت یافتہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنا دیا جائے گا۔
اس بات پر چودھری برادران بہت خوش ہیں۔ اور عمران خان سے علیحدہ اور ن لیگ کے ساتھی بننے پہ تیار ہو گئے ہیں ۔اس کے بعد عمران خان کی ختم ہوتی ہوئی حکومت اور پی ٹی آئی کے اقتدار کی ڈوبتی ہوئی کشتی میں سوار اور بھی بہت سارے تیراک چھلانگیں مارنا شروع کر دیں گے ۔ ان چھلانگیں مارنے والوں میں ایم کیو ایم بھی شامل ہو گی اور پی ٹی آئی کے اپنے اراکینِ اسمبلی بھی۔یوں:"کہانی گئی مُک 'تے کِلّا گیا ٹھُکّ۔" "پرندوں کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔"
ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہم نے اپنی زندگی میں بار بار دوسروں کی چھت سے اُڑ کے آ کے پرندوں کے غول کے غول کسی نئی چھت پر دانا چُگتے دیکھے ہیں اور پھر ان کی واپسی کا جب موسم شروع ہوتا ہے تو
وہاں سے اُڑ کے واپس پہلے والی یا کسی نئی زیادہ دانے ڈالنے والی چھت پہ انہیں اکٹھے ہوتے دیکھا ہے۔

اسی لئے تو انہیں فصلی بٹیرے اور موسمی پرندے پاکستانی سیاست میں بہت پہلے سے کہا جا رہا ہے۔
ایسے موسمی پرندے مرنے سے پہلے اپنے بچوں کو بھی سیاست کا یہ گُر چنگی طرح سکھا جاتے ہیں کہ کیسے اور کس وقت کس کی چھت پہ جانا ہوتا ہے، اور پھر اُس چھت سے نئی چھت پہ جانے میں اِک ذرا بھی انأ، شرم اور جِھجک محسوس نہیں کرنی ہوتی بلکہ صرف دانہ چُگنا اپنی زندگی اور سیاست کا مقصد بنا کے رکھنا ہوتا ہے اور جو زیادہ دانہ پھینکے بس اُسی کی منڈھیر پہ جا کے بیٹھنا ہوتا ہے۔اور یوں پاکستان کی سیاست میں نسل در نسل یہ سلسلہ جاری ہے۔
اب پی ٹی آئی کی منڈھیر سے بھی اُڑ کے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔اب نیا کوٹھہ سجے گا جہاں سے پہلی سی غٹر غُوں کی خوب آوازیں سننے کو ملیں گی لیکن اس سے یہ ضرور ہو گا کہ پاکستان بدستور امریکی کیمپ میں ہی رہا رہے گا، اور عمران خان جو خطے کی بدلتی سیاست میں کسی نئے بلاک کی طرف رجوع کرنے کا اگر بالفرض کوئی فیصلہ لے بھی سکتا تھا تو اس بات کا امکان اب ختم ہو گیا ہے کیونکہ اب ناٹو، امریکہ اور یورپی یونین کے ہمنوا برسرِ اقتدار آنے کو ہیں۔
اور ہاں، اب آئندہ انتخابات EVM یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے بھی نہیں ہو پائیں گے بلکہ پہلے کی ہی طرح کے مینوئل الیکشن کروانے کا بھی بندوبست کروایا جائے گا بھان متی کے کنبے کی طرف سے۔اقتدار سے محرومی کے بعد اب عمران خان کے پاس بھی اگلے ڈیڈھ سال کا کافی ٹائم موجود ہوگا کہ وہ نئی حکومت کی بھرپور اپوزیشن کرے اور آئندہ الیکشن جیتنے کے لئے زوردار انتخابی مہم چلاتا چلا جائے تاکہ پاکستان میں عوام کے لئے پرانے چار پانچ "خاندانوں" کا متبادل آپشن موجود رہے اور ڈیڈھ سال بعد ہونے والے انتخابات میں بھٹو زرداری خاندان، میاں شریف خاندان، مفتی محمود خاندان اور چودھری ظہور الٰہی خاندان سے بالکل اسی طرح ہمیشہ کے لئے ہمیں چھٹکارا حاصل ہو پائے جیسے مشرقی پنجاب میں حالیہ دنوں میں عام آدمی پارٹی نے بڑے بڑے خاندانوں اور پرانے اجارہ دار سیاستدانوں کو سیاست سے نکال باہر کیا ہے۔
اس کے لئے اب عمران خان پہ لازم ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات سے پہلے پہلے ابھی سے ہر وقت انتخابی مہم چلاتا اور عوام میں بیداری پیدا کرنے کا مشن شروع کئے رکھے۔
اگر سابق وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے عمران خان نے اپنی جنگ جاری رکھی تو پھر آئندہ الیکشن میں اس کی پارٹی اتنی اکثریت ضرور حاصل کر لے گی کہ اسے اگلی بار کسی اتحادی سے بلیک میل نہیں ہونا پڑے گا، ان شاءاللہ۔
عوام پہ بھی لازم ہے کہ وہ "خاندان پرستی" کی نفسیات سے باہر نکل کر چار کے ٹولے سے نجات حاصل کرنے کے لئے عمران خان کو 2023ء کے الیکشن میں بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ واپس لے کے آئے۔


افکار و نظریات: پرواز کا موسم