خون آلود مکّہ اور دعوتِ تحقیق
چمن آبادی

ابو طالب یزدی 22 سال کا تھا۔ وہ اردکان کا رہائشی تھا۔آج سے تقریبا 79 سال قبل وہ حجاز پہنچا۔وہ اپنی بیوی کے ساتھ حج کی غرض سے وہاں گیا تھا۔ اسے سمندری راستے سے کویت اور پھر وہاں سے اونٹ سواری کے ذریعے سر زمین حجاز تک پہنچنا نصیب ہوا تھا۔ یکے بعد دیگرے مناسک حج انجام دیتا گیا۔ طواف کی باری آئی تو جھلسا دینے والی گرمی میں ابوطالب خانہ خدا کے گرد چکر کاٹ ہی رہا تھا اچانک اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور قے کے آثار نمودار ہوئے۔ اس نے حرم کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے اپنے لباس احرام کا دامن اپنے منہ کے آگے پھیلا دیا تاکہ اس میں قے کی جا سکے۔ اضطرار میں لباس احرام تر ہوگیا۔ سعودی شرطہ(پولیس) ابو طالب پہ ٹوٹ پڑی اور اس کو خوب زد کوب کیا پھر گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ اس کی بیوی شوہر کی نجات کے لیے خانہ خدا کا واسطہ دیتی رہی لیکن خانہ خدا کے محافظ اس کے شوہر کو کب چھوڑنے والے تھے۔ ابوطالب کی گرفتاری کے چند دنوں کے اندر اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ فاضل جج نے اس کو حرم نجس کرنے کے جرم میں پھانسی کا حکم سنایا۔ ابو طالب چیختا چلاتا رہا کہ اس نے عمدا قے نہیں کی ہے لیکن جج صاحب نے فیصلہ سنانا تھا سو سنا دیا۔ اگلے دن ہی ناکردہ جرم کی سزا میں ابو طالب مارا گیا۔ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا یہ سلسلہ بہت دلچسب ہے۔ دلچسب اس لئے کہ سعودی عرب میں داخل ہوتے ہی آپ کی جان و مال اور دین و ناموس سب کچھ حکم طبقے کے قبضے میں ہوتا ہے۔
اگر کوئی آدمی کسی شاہی مفتی، مُلّاں یا کسی ظل الہی کی آنکھوں میں کھٹک گیا تو پھر وہ کافر، مشرک، مرتد، غدار اورملعون وغیرہ سب کچھ ہے۔ پھر اس کی سزا یہی ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، ہاتھ کاٹ دئیے جائیں گے، زبان کھینچ لی جائے گی، اور سر قلم کردیا جائیگا۔
سعودی عرب میں چونکہ شہنشاہیت ہے اس لئے کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اس وجہ سے اہلِ تشیع کو ایک سیاسی حریف اور سخت اپوزیشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پس اسی وجہ سے انہیں سیاسی طور پر محکوم اور کمزور رکھنے کیلئے چھوٹے موٹے بہانے بنا کر تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے۔ سنہ 1979ء کی بات ہے کہ شیعہ حضرات کے جلوس عزا پر پابندی عائد کر دی گئی۔ شیعہ مجالس عزا کو ایک دینی عبادت کے طور پر مناتے ہیں لیکن سعودی حکمران اسے ایک سیاسی سرگرمی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُس سال جب شیعہ عزاداری کرنے کے لیے باہر نکلے تو پولیس نے فائرنگ کر کے 36 عزاداروں کو اناً فاناً مار دیا۔ پھر سنہ 1980ء میں 63 لوگوں کے سر تن سے جدا اسی وجہ سے کیے گئے تھے۔ سنہ 80 کی دہائی کے بعد سرکار کی سرپرستی میں مسلح وہابی شدت پسندگروہوں نے بھی شیعوں کے خلاف حملوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔
سنہ 80 کی اسی دہائی میں سعودی حکومت نے حکومتِ پاکستان کو بھی اعتماد میں لیا اور پھر پاکستان میں بھی گلی گلی کافر کافر، شیعہ کافر، نعرے لگائے گئے اور اہلِ تشیع کے قتلِ عام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
سنہ 2011ء میں سعودی عرب نے اپنے ملک میں پڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر ایکٹو شیعہ حضرات کی پکڑ دھکڑ کی ۔ اس دوران سینکڑوں افراد کو قتل کرنے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔
سنہ 2013ء میں ایک مرتبہ پھر سعودی بادشاہ پر اعتراض کرنے کے جرم میں کئی سو افراد لاپتہ اور بعد ازاں قتل ہوئے۔ اسی طرح جنوری 2022ء میں 47 افراد کو سزائے موت سنائی اور بغیر کسی توقف کے ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ ابھی دو تین دن پہلے پھر ایک مرتبہ اکیاسی افراد کی گردنیں ماری گئی ہیں۔ سعودی عرب میں اس تسلسل کے ساتھ نہتے لوگوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ ساری دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔ اس خاموشی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کی استبدادی حکومتیں اور جابر ریاستی ادارے سعودی عرب کی پُشت پر خم ٹھونک کر کھڑے ہیں۔
چنانچہ یوکرائن میں تو انسانی ہلاکتوں پر واویلا مچا ہوا ہے لیکن یمن اور سعودی عرب میں بہنے والا خون گویا انسانی خون ہی نہیں۔
اس وقت سعودی عرب میں اہلِ تشیع کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
🚫 شیعہ زمیندار، ماہی گیر، نخلستان والے، مزدور، اوروکیل وغیرہ سے حکومت ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ اہل سنت کو اس ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔
🚫 شیعہ اگر اپنے مال مویشی بیچے تو اس کی قیمت کا 8 فیصد حکومت کو ادا کرنا ضروری ہے جبکہ اہل سنت اس قانون سے مستثنی ہیں۔
🚫 شیعوں کی زمینوں پر حکومت جب چاہے قبضہ کر سکتی ہے۔
🚫 شیعہ علاقوں میں رفاہی مراکز بنانے میں حکومت لیت ولعل سے کام لیتی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں ایسے ادارے بکثرت سے پائے جاتے ہیں۔‌
🚫 شیعہ فردی اور اجتماعی آزادی سے محروم ہیں۔
🚫 سرکاری اہم پوسٹوں پر کوئی شیعہ بھرتی نہیں ہو سکتا۔
🚫 ملک کے کسی کونے میں بھی کوئی شیعہ کسی قسم کی سیاسی یا اجتماعی نمائندگی نہیں کر سکتا۔
🚫 کوئی علمی و فکری فورم تشکیل دینا شیعوں کے لیے شجر ممنوعہ ہے ۔
🚫 صرف شیعہ اکثریتی شہر قطیف میں شیعوں کی ایک آدھ امام بارگاہ اور مسجد موجود ہے جبکہ شیعہ اقلیتی شہروں میں جیسے إحساء، جدہ، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں شیعہ کوئی مسجد یا امام بارگاہ نہیں بنا سکتے۔ حتی کہ مجلس امام حسین ؑ کو منعقد کرانے کی سزائے گردن زنی ہے۔ مدینہ منوّرہ اور مکہ میں تو ہزاروں لوگ اپنے آپ کو شیعہ ظاہر بھی نہیں کر سکتے۔ اگر کسی نے بھول کر بھی شیعیت کا اظہار کیا تو اس سے حق زندگی چھین لیا گیا یا اسے فورا شہر بدر کردیا گیا۔
🚫 ایجوکیشن سسٹم میں کوئی شیعہ دینی علوم، تاریخ، اور عربی کا ٹیچر نہیں بن سکتا، اسی طرح سے کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی متعین نہیں ہوسکتا۔ شیعوں کو پرائیویٹ سکول کھولنے کی اجازت بھی نہیں ۔ معمولاً عموما شیعہ لڑکے ایف اے تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، اس کے بعد یونیورسٹی جانے کی سکت نہیں رکھتے کیونکہ فیسیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ہر کوئی افورڈ نہیں کر سکتا۔ سعودی حکومت اہل تشیع کے علاوہ دیگر طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سرکاری سکالر شپ پر مغربی ممالک بھیج دیتی ہے۔
🚫 سعودی عرب کے شیعہ دنیا کے کسی دوسرے شیعہ سے سوشل میڈیا پر رابطہ نہیں کر سکتے اور اپنے گھر پر دعوت بھی نہیں کر سکتے۔
🚫 سعودی عرب مساجد کے ائمہ محکمہ اوقاف معین کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سارے آئمہ جماعت سرکاری ملازم ہیں اسی لیے شیعہ آبادی والے علاقوں میں امام جماعت حکومت معین نہیں کرتی بلکہ خود شیعہ اپنے خرچے کے بل بوتے پر امام جماعت معین کرتے ہیں۔
🚫 سعودی عرب کا سارا تیل شیعہ آبادی والے مشرقی علاقوں سے نکلتا ہے لیکن وہاں کے شیعہ حضرات غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ جب بھی کوئی شیعہ شخص دولت کی تقسیم میں مساوات و انصاف کی رعایت نہ ہونے، اسی طرح مذہبی حقوق سے محروم کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پر یا کہیں بھی بات کرتا ہے تو اُسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اندر اکیاسی افراد کی گردن زنی نے ہمیں لرزا دیا ہے۔ اس موقع پر ہم نے تمام منصف مزاج انسانوں، دنیا میں عدل و انصاف، انسانی حقوق، سماجی بیداری، اور شعور و رواداری کیلئے فعالیت کرنے والے اداروں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور حقائق کا کھوج لگانے والے صحافیوں کیلئے یہ ایک ابتدائی رپورٹ پیش کی ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے آپ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ سعودی عرب میں بہتے ہوئے اس انسانی خون کا شور سُنیں، آپ اسکے بارے میں تحقیق کریں ، کم از کم ٹھوس شواہد کے ساتھ ہماری اس رپورٹ کو رد ہی کر دیں۔