ایک غلط فہمی کا ازالہ

تبرید حسین
سانحہ کوئٹہ پر لکھا تھا کہ مظلوموں کی آہیں اور سسکیاں عمران خان کو لے ڈوبیں گی۔ پچھلے ہفتے بار دگر بطور یاد دہانی عرض کیا تھا کہ وہ وقت آن پہنچا ۔۔ 
میرے کچھ دوستوں نے سوال کئے کہ اگر عمران خان نہیں تو پھر کیا میں نواز شریف یا زرداری کی حمایت کرتا ہوں؟
نہیں قطعا نہیں ۔۔۔ 
پہلی بات تو یہ کہ میرے نزدیک محمد و آل محمد کے چاہنے والے اور انکی مظلومیت پہلی ترجیح اور پاکستانی سیاست دوسری ترجیح ہیں۔ 
باقی 
نواز شریف اور اسکا بھائی مل کر پینتیس سال حکومت کر چکے۔ اس دوران جو شہد اور دودھ کی نہریں بہتی رہیں وہ بھی ہم نے دیکھیں۔ 
زرداری نے نواز شریف کی کرپشن کے بھی ریکارڈ توڑ کر اپنے نام کئے۔ 
یہ سیاستدان جو کل تک جرنیلوں کے نام لے لے کر فوج کی مداخلت پر اس ملک میں انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے آج وہ زبانیں گنگ کیوں ہو گئیں ہیں؟
حامد میر، عاصمہ شیرازی، نجم سیٹھی اور بڑے بڑے چغادری صحافیوں کی فوج کیخلاف درس دیتے دیتے زبانوں میں لکنت کیوں آگئی۔
 شائید کہ اب فوج ان کے آقاؤں اور Employer کے سر پر دست شفقت رکھ چکی۔ 
زرداری کا پیٹ پھاڑنے والے چیتا صفت شہباز شریف جب زرداری کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھ کر احتراما جھکتے ہیں تو کیسا لگتا ہے آپکو؟
 بے نظیر بھٹو کی فحش تصویریں پھیلانے کے شریفانہ کام سے لیکر سیف الرحمن کے ذریعے زرداری کی ناک رگڑانے والے میاں نواز شریف اب زرداری کیساتھ مفادات کے حصول کیلئے باہم شیروشکر ہیں۔
نواز شریف کے اچانک پلیٹلیس کیسے پورے ہوئے۔ دل کی دھڑکنیں کیسے ترتیب میں آگیئں۔ کھونٹی ٹیکے چلتا زرداری کیسے جوان ہو گیا۔۔۔ 
نوٹوں کے بریف کیس بھرے زرداری ٹولہ پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گاہکوں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ 
اور ڈھول سپاہی خاموشی سے اپنا کھیل رچائے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اقتدار کے ہاتھ آنے کی خوشی میں بدمست سیاستدان سب بھول کر فی الحال ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں۔
یہ سکہ بند بکے ہوئے صحافی آپکو کیوں بتایئں گے بھلا۔ 
خیر پاکستانی سیاست مفادات کا بے رحم کھیل ہے۔ اس میں نظریات وغیرہ کا کوئی دخل نہیں۔ میں پاکستانی نظریاتی دوستوں کو اس کان میں سونے کی بجائے کوئلہ بنتے دیکھ رہا ہوں۔ کچھ نے تو شیعان عمران خان کا نعرہ بھی بلند کر دیا۔۔
 اناللہ و انا الیہ راجعون۔۔۔
باقی
 عمران خان پہ اگر کرپشن کا داغ نہیں بھی تو اس کے گرد زیادہ تر لوگ کرپشن میں زرداریوں اور شریفوں کی طرح لتھڑے ہیں۔ جن کی ہوشربا داستانیں جلد ہی ہمارے سامنے ہوں گی۔
بہرحال یہ بات درست ہے کہ عمران خان نے انٹرنیشنل فورمز پر پاکستان کی بہتر نمائندگی کی۔ مغربی دنیا کے سامنے اسلام فوبیا کا کیس احسن طریقے سے پیش کیا۔ کوویڈ کے حوالے سے بہتر حکمت عملی رہی۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہلکی سی انگڑائی لی گئی۔
مگر معیشت کو سنبھالنے میں ناکامی سے لیکر یکساں نصاب تعلیم کے نام پر ناصبی اور فرقہ وارانہ نصاب تعلیم دینے کی حماقت تک اور بزدار جیسے تحفہ پر بضد رہنے سے لیکر توہم پرستی کے زیر اثر ہونے والے فیصلوں تک سب تاریخ کا حصہ بن چکا۔۔۔
 عمران خان کی اپنی پارٹی اس وقت بدترین انتشار کا شکار ہے۔ گورنس میں ناکام، سیاسی تدبیر سے عاری اور اناوں کے ہاتھوں عاجز اور توہمات کا شکار عمران خان کا جانا اب ٹھہر گیا ۔۔۔  
مگر آخری اور ضروری بات یہ کہوں گا۔ کہ اپوزیشن نے عمران خان کو ایک اور life line دے دی ہے۔ عمران خان اگر اپنی وزارت عظمی کے پانچ سال پورے کرتا تو اس کا سیاسی سفر بہت طویل نہ ہوتا۔ مگر اب عمران خان سیاسی شہید بن کر  پاکستانی سیاست میں دوبارہ relevant ہونے جا رہا ہے۔
تبرید حسین
لندن
16 مارچ 2022