حُسنِ جمہوریت 
تحریر.  ابو ولی اللہ خان  

 ایک چرواہا میرا دوست ہے ۔ اس کی تیس سے پینتیس بکریاں ہیں۔ وہ ہر سال ان بکریوں سے جنم لینے والے بکروں کو قربانی کےلیۓ تیار کرتا ہے ۔عید سے  دس سے بارہ دن پہلے بہاولپور ۔ لاہور ۔ گوجرانوالہ یا کہیں اور جاکر انہیں  بیچ آتا ہے۔ میری آج اس سے ملاقات ہوئی۔ وہ جلدی میں تھا۔ اس نے اپنی بکریاں اور چھڑی مجھے  سونپی اورخود پانی لینے چلا گیا  ۔ میں اتنا تو پاگل ضرور ہوں کہ جانوروں اور پودوں سے بھی گپ شپ لگاتا ہوں ۔ میں نے ان میں سے ایک اداس کھڑی بکری سے اسکی اداسی کا پوچھا جس نے مم مم ممے ممے کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہر سال میرا مالک میرے بیٹوں کو اچھی طرح پالتا پوستا ہے اور قربانی کےلیۓ منڈی لے جاکر بیچ آتا ہے ان بکروں کو کبھی کبھی چور ڈاکو چوری بھی کرلیتے ہیں لیکن مقصد ان کا بھی قربانی کرنا ہوتا ہے ۔ پیدا ہونے سے قربانی تک کے سفر میں ہمارا کام صرف مم مم مم ممے ممے کرنا ہوتا ہے ہم نے کبھی اپنے مالک سے یہ نہیں کہا کہ فلاں کرپٹ انسان کو بکرے نہیں دینا یا فلاں قاتل کے پاس ہم نے نہیں جانا ۔ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں ان لوگوں تک پہنچائیں جو حلال پیسوں سے قربانی کرتے ہیں اور قربانی کے اصل مقصد کو جانتے ہیں یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی قربانی کا گوشت  شراب پینے والے بھی مزے سے کھاتے ہیں اور خون پینے والے بھی ۔ شروع شروع میں ہماری کچھ مرضی ہوتی تھی اب تو عادت ہوگئ ہے ہماری پوری قوم اب قربانی کےلیۓ تیار رہتی ہے چاہے قصائ کا پھٹہ ہو یا قربانی کا میدان یا جنگلی جانوروں کی بھوک ہم ہر حالت میں تیار ہیں ۔ بس ہمارا کام مم مم ممے ممے کرنا ہے اور کچھ نہیں ۔ اس مم مم ممے کو ہم بکریاں اپنی زبان میں اختلاف رائے کہتی ہیں ۔ میں ابھی باتیں کررہا تھا کہ دوست آگیا اس نے کہا خیر ہے اس بکری کے کان پکڑے ہوئے ہیں میں نے پوری بات بتائ تو کہنے لگا بکریاں بھلا بولتی ہیں ۔ میں نے جلدی سے کہا ہاں مم مم ممے ممے کرتی ہیں اور یہی اختلاف رائے ہے اور اختلاف رائے تو جمہوریت کا حسن ہے ۔ 
وہ مسکرایا اور کہا یار ہم بھی تو ساری قوم بس مم مم ممے ممے کرتے ہیں جو بھی حکمران جب چاہے جس جلسے میں لٹکا دے ۔  میں نے بکری کو چھوڑ کر مم مم ممے ممے کہا اور پانی پی کر دوست سے آجکل کے سیاسی مسائل پر مم ممے ممے کرکے اختلاف رائے کیا اور مم مم ممے ممے والی اختلاف راۓ مختلف وٹس ایپ کےگروپوں میں بھی ہوتا دیکھتا رہتا ہوں  ۔ کچھ لوگ میرا مم مم ممے ممے کرنا پسند کرتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں لیکن یہی تو جمہوریت کا حسن ہے.

 

 


افکار و نظریات: حُسنِ جمہوریت