اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مستشرقین کی اقسام اور چالیں مستشرقین کی دو چالیں مذکورہ دو چالوں کا نتیجہ مستشرقین کا یہ وہ حربہ تھا، جو سب سے بڑھ کر کارگر ثابت ہوا اور آج بھی دیندار طبقے میں اس نیوٹرل پن کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ حالانکہ حق و باطل کے بیچ میں کوئی درمیانی راستہ نہیں اور حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبدار ہو جانا دراصل باطل کی ہی مدد ہے۔ مستشرقین کے لے پالک اب استعمار نے مستشرقین کے علاوہ اپنے لے پالک مسلمان بھی تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے بہت سارے ایسے مسلمانوں کی پرورش اور تربیت کی ہے جو مسلمانوں کے درمیان آج ان کے آلہ کار ہیں۔ استعماری ممالک مختلف ممالک سے مسلمانوں کو وظیفہ دے کر تعلیم کیلئے مغرب خصوصاً برطانیہ لے جانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسی طرح کاروبار اور ملازمتوں کے نام پر بھی ایک بڑی عوامی کھیپ کی ذہن سازی اور برین واشنگ کی گئی ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے ایسے ذہن تیار کئے گئے ہیں کہ جو مشرق میں متولد ہونے اور رہنے کے باوجود بھی مغرب کی پرستش کرتے ہیں اور مغرب کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مستشرق نہیں ہیں، لیکن یہ استعمار کے جدید لے پالک ہیں۔ یہ ایسے مسلمان ہیں، جن کے مفادات کسی نہ کسی بہانے برطانیہ یا کسی استعماری ملک سے ہی وابستہ ہیں۔ نام نہاد روشن فکروں کے علاوہ استعمار کے جدید لے پالکوں میں وہ لوگ بھی آتے ہیں، جو بظاہر مسلمان علماء کے روپ میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار استعمار کے خلاف بیانات بھی دیتے رہتے ہیں، لیکن یہ اسلام کے منبر کو ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دوریاں بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر مغرب میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں اور یا پھر انہیں ادھر کے ویزے جلدی مل جاتے ہیں اور جو وہاں نہ بھی رہیں، اُن کے ڈونرز اور مالی معاون وہیں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ اس لئے دوسرے مسلمانوں کے اکابرین و مقدسات کی توہین کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ استعمار کے لے پالک جہاں مسلمانوں کو استعمار کے مقابلے میں نیوٹرل رہنے کی تلقین کرتے ہیں، وہیں لوگوں کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ممکن ہی نہیں، یہ مسلمانوں کو اصلاحِ احوال اور اتحاد سے مایوس کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو اپنے استحکام سے مایوس کرنے، اُن میں احساسِ کمتری ایجاد کرنے، ایک دوسرے سے لڑانے اور کمزور کرنے کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ہر اُس شخص اور ہر اُس آواز کے خلاف ہوتے ہیں، جو مسلمانوں کو استعمار کے خلاف بیدار کرے اور انہیں باہمی اتحاد و وحدت کی دعوت دے۔ ان کا مشن مسلمانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ شیعہ و سُنی مسلمانوں کی فرقہ واریت میں استعمار اور مشتشرقین کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ مسلمان فطرتاً ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ ان کے بقول مسلمان چودہ صدیوں سے ایک دوسرے پر شب خون مار رہے ہیں اور قیامت تک مارتے رہیں گے۔ یہ قرآن مجید اور سیرت النبی ؐکی اتحاد و وحدت کی تعلیمات کے برعکس ضعیف روایات اور متنازعہ تاریخی و فرقہ وارانہ واقعات کو اپنے تجزیات اور کتابوں و بیانات کی صورت میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان استعماری لے پالکوں کی کاٹ مستشرقین سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا آج کے دور میں ان کو پہچاننا اور مسلمانوں کی صفوں میں ان کی نشاندہی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں جھانکنے اور ان کی فکری بنیادوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ کہیں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکوں کی نوعیت قدرتی آفات یعنی زلزلے اور سیلاب کی مانند نہیں ہے، بلکہ جہاں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکے ہوتے ہیں، ان کے پیچھے ایک فعال، مدبر اور منصوبہ ساز انسانی دماغ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور پسِ پردہ ماہر منصوبہ ساز بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں اپنی تاریخ کے کسی بھی گوشے کو بغیر تحقیق کے تاریک نہیں چھورنا چاہیئے۔ دشمن ہمیشہ تاریکی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور سب سے خطرناک تاریکی عدمِ آگاہی، عدمِ تحقیق اور جہالت کی تاریکی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
مستشرق Orientalist کیلئے غیر مسلم ہونا ضروری ہے۔ ایسا غیر مسلم جو کسی مشرقی ملک کا مقامی باشندہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مغرب سے مشرق کا رخ کرتا ہے۔ اب جدید تعریف کے مطابق مغرب کی قید اٹھا دی گئی ہے ۔ اب ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں، خواہ وہ کسی مغربی ملک کا رہنے والا ہو یا مشرقی ملک کا۔
مغربی ہونے کی قید اٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے غیر مسلم جو مشرقی ممالک جیسے ہندوستان اور چین میں رہتے ہیں، وہ بھی جب اسلام کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں تو اس کی نوعیت مغربی غیر مسلم محقیقین کی طرح ہی ہوتی ہے اور غیر مسلم ہونے کے ناطے ان کے مشرقی یا مغربی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لہذا اب مغربی کو ہٹا کر مغربی کی جگہ غیر مسلم لکھنا درست قرار پایا ہے۔[1]
زمانہ قدیم میں استشراق سے مراد شرق شناسی لی جاتی تھی لیکن آہستہ آہستہ تاریخ نے یہ حقیقت کھولی کہ شرق شناسی کے بہانے اسلام کی کھوج لگائی جا رہی تھی اور اسلامی ممالک کے دینی نظریات نیز آبی و معدنی اور فوجی وسائل مستشرقین کے پیشِ نظر تھے۔ چونکہ اسلام کا طلوع بھی مشرق سے ہوا ہے تو استشراق کے دائرے میں مشرقی مملکتیں اور اسلام دونوں آتے ہیں اور مستشرق دونوں کے بارے میں کھوج لگاتے ہیں۔
ظہورِ اسلام اور استشراق
ظہور اسلام کے وقت لوگوں کا ذوق و شوق سے مسلمان ہونا، غیر مسلموں کے لئے سخت تشویش کا باعث تھا، بعد ازاں پیغمبرِ اسلام ﷺ نے جب دیگر ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کی قبولیت کا پیغام بھیجا تو دیگر ادیان کے دینی رہنماوں کے ساتھ ساتھ بادشاہوں کو بھی اسلام سے شدید خطرہ محسوس ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب غیر مسلم دانشمند اس حقیقت کو سمجھ چکے تھے کہ وہ تلوار کے ساتھ اسلام کا راستہ نہیں روک سکتے، چونکہ اسلام کو لوگ عقل کے ساتھ قبول کر رہے تھے۔ بعد ازاں ایک طرف مسلمانوں نے اسلامی حکومت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور دوسری طرف اسلام سے سہمے ہوئے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوگئے۔ مجموعی طور پر تین طرح کے لوگ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوئے:
مستشرقین کی اقسام
مختلف تحقیقات کے دوران حسبِ ضرورت مستشرقین کی متعدد انواع و اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ ہم قارئین کی سہولت کے لئے مستشرقین کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں:
1۔ عیسائی مبلغین
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
1۔ عیسائی مبلغین
عیسائی مبلغین، علم و قلم کے ساتھ عیسائیت کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لئے مسلمانوں کے نکات ضعف کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرتے تھے اور اسلام کا عیسائیت سے غلط موازنہ کرکے لوگوں کو عیسائیت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجئے کہ قرآن مجید کا لاطینی میں پہلا ترجمہ 1143ء عیسوی میں ہوا اور ترجمہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی مسلمان حکمران نے یہ ترجمہ کیا تھا بلکہ فرانس کے کلیسا کے سربراہ یعنی کشیش جس کا نام پِطرُس تھا، اس نے یہ ترجمہ کیا۔ اگرچہ اس ترجمے میں بہت ساری غلطیاں موجود تھیں، لیکن چونکہ کسی مسلمان نے اصلاح یا نیا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، چنانچہ یہی ترجمہ جہانِ غرب میں مقبول رہا اور اسی ترجمے سے اٹلی، جرمنی اور ہالینڈ کی زبانوں میں بھی ترجمے کئے گئے۔[2]
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
اب دیکھتے ہیں کہ مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کیا کرتے تھے، ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا، ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا تھا۔ مستشرقین کی فراہم کردہ معلومات کے باعث ہی اس وقت بھی اسلامی ممالک کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی قراردادیں غیر مسلم ممالک سے بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جنگیں بھی مستشرقین کے نقشے کے مطابق لڑی جاتی تھیں، مثلاً آج بھی ہم میں سے کتنوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ صلیبی جنگوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کتنا عرصہ لڑی گئیں اور ان میں مستشرقین کا کیا کردار تھا۔؟
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
اب آئیے صرف تحقیق کرنے والے مستشرقین کی بات کرتے ہیں، تو انہوں نے بھی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے ترجمے کئے اور اسلامی عقائد کو متعارف کروایا، اس کے ساتھ ساتھ کئی مستشرق مسلمان بھی ہوئے، لیکن زیادہ تر نے مذہبی تعصب کی بنا پر قرآن و حدیث کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے قرآن و حدیث پر اشکالات وارد کئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے عقائد کی غلط تبیین کی، تاکہ لوگ اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام سے متنفر ہونے لگیں۔
اسلام کی تبلیغ کو روکنے کے لئے تحقیق کے بعد متعصب مستشرقین نے دو کام کئے، ایک تو مسلمانوں کی کتابوں کے ترجمے کرتے ہوئے ان میں شبہات وارد کئے اور لوگوں کو اسلام کی غلط تصویر دکھائی، جبکہ دوسرا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کے درمیان اس بات کو عام کیا کہ آپ یہ حق اور باطل، صحیح اور غلط کی باتیں چھوڑ کر نیوٹرل ہو جائیں۔ آپ کے لئے نعوذباللہ بُت بھی اور اللہ کی ذات بھی برابر ہے، اگر آپ بتوں کے نقائص نکالتے ہیں تو پھر نیوٹرل رہنے کے لئے معاذاللہ، اللہ کی ذات میں بھی خامیاں تلاش کریں۔ اگر آپ تورات و انجیل میں تحریف کے قائل ہیں تو نعوذباللہ قرآن مجید میں بھی تحریف کو قبول کریں۔ اسی طرح اپنی زندگیوں میں اصول پرستی کے بجائے نیوٹرل بن جائیں، بے شک آپ کے اردگرد ظلم ہوتا رہے، لیکن آپ نیوٹرل بن کر تماشا دیکھتے رہیں۔
یہ دیندار طبقے کی اس نیوٹرل فکر کا نتیجہ ہے کہ آج بھی غیر مسلم مل کر مسلمانوں پر مظالم کرتے ہیں، ان کے حقوق پامال کرتے رہے، انہیں دہشت گرد ٹولوں میں تقسیم کرتے رہے اور مسلمان نیوٹرل بن کر ایک دوسرے کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ جس کی تازہ مثالیں کشمیر و فلسطین، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی صورت میں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔
[1] استفادہ از دکتر عبدالمنعم فواد، من افترائات المستشرقین علی الاصول العقدیہ فی الاسلام ص ۱۷
[2] شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان از دکتر محمد حسن زمانی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں