مستشرقین کی اقسام  اور چالیں
نذر حافی


مستشرق Orientalist  کیلئے غیر مسلم ہونا ضروری  ہے۔ ایسا غیر مسلم  جو کسی مشرقی ملک کا  مقامی باشندہ نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مغرب سے مشرق کا رخ کرتا ہے۔ اب جدید تعریف کے مطابق مغرب کی قید اٹھا دی گئی ہے ۔ اب  ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں، خواہ وہ کسی مغربی ملک کا رہنے والا ہو یا مشرقی ملک کا۔
 مغربی ہونے کی قید اٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے غیر مسلم جو مشرقی ممالک جیسے ہندوستان اور چین میں رہتے ہیں، وہ بھی جب اسلام کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں تو اس کی نوعیت مغربی غیر مسلم محقیقین کی طرح ہی ہوتی ہے اور غیر مسلم ہونے کے ناطے ان کے مشرقی یا مغربی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لہذا اب مغربی کو ہٹا کر مغربی کی جگہ غیر مسلم لکھنا درست قرار پایا ہے۔[1]
 زمانہ قدیم میں استشراق سے مراد شرق شناسی لی جاتی تھی لیکن آہستہ آہستہ تاریخ نے یہ حقیقت کھولی کہ شرق شناسی کے بہانے اسلام کی کھوج لگائی جا رہی تھی اور اسلامی ممالک کے دینی نظریات نیز آبی و معدنی اور فوجی وسائل مستشرقین کے پیشِ نظر تھے۔ چونکہ اسلام کا طلوع بھی مشرق سے ہوا ہے تو استشراق کے دائرے میں مشرقی مملکتیں اور اسلام دونوں آتے ہیں اور مستشرق دونوں کے بارے میں کھوج لگاتے ہیں۔
ظہورِ اسلام اور استشراق
 ظہور اسلام کے وقت لوگوں کا ذوق و شوق سے مسلمان ہونا، غیر مسلموں کے لئے سخت تشویش کا باعث تھا، بعد ازاں پیغمبرِ اسلام ﷺ نے جب دیگر ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کی قبولیت کا پیغام بھیجا تو دیگر ادیان کے دینی رہنماوں کے ساتھ ساتھ بادشاہوں کو بھی اسلام سے شدید خطرہ محسوس ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب غیر مسلم دانشمند اس حقیقت کو سمجھ چکے تھے کہ وہ تلوار کے ساتھ اسلام کا راستہ نہیں روک سکتے، چونکہ اسلام کو لوگ عقل کے ساتھ قبول کر رہے تھے۔ بعد ازاں ایک طرف مسلمانوں نے اسلامی حکومت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور دوسری طرف اسلام سے سہمے ہوئے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوگئے۔ مجموعی طور پر تین طرح کے لوگ  اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوئے:
مستشرقین کی اقسام
مختلف تحقیقات کے دوران حسبِ ضرورت مستشرقین کی متعدد انواع و اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ ہم قارئین کی سہولت کے لئے مستشرقین کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں:
1۔ عیسائی مبلغین
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
1۔ عیسائی مبلغین
عیسائی مبلغین، علم و قلم کے ساتھ عیسائیت کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لئے مسلمانوں کے نکات ضعف کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرتے تھے اور اسلام کا عیسائیت سے غلط موازنہ کرکے لوگوں کو عیسائیت کی  طرف دعوت دیتے تھے۔ آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجئے کہ قرآن مجید کا لاطینی میں پہلا ترجمہ 1143ء عیسوی میں ہوا اور ترجمہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی مسلمان حکمران نے یہ ترجمہ کیا تھا بلکہ فرانس کے کلیسا کے سربراہ یعنی کشیش جس کا نام پِطرُس تھا، اس نے یہ ترجمہ کیا۔ اگرچہ اس ترجمے میں بہت ساری غلطیاں موجود تھیں، لیکن چونکہ کسی مسلمان نے اصلاح یا نیا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، چنانچہ یہی ترجمہ جہانِ غرب میں مقبول رہا اور اسی ترجمے سے اٹلی، جرمنی اور ہالینڈ کی زبانوں میں بھی ترجمے کئے گئے۔[2]
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
اب دیکھتے ہیں کہ مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کیا کرتے تھے، ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا، ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا تھا۔ مستشرقین کی فراہم کردہ معلومات کے باعث ہی اس وقت بھی اسلامی ممالک کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی قراردادیں غیر مسلم ممالک سے بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جنگیں بھی مستشرقین کے نقشے کے مطابق لڑی جاتی تھیں، مثلاً آج بھی ہم میں سے کتنوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ صلیبی جنگوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کتنا عرصہ لڑی گئیں اور ان میں مستشرقین کا کیا کردار تھا۔؟
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
اب آئیے صرف تحقیق کرنے والے مستشرقین کی بات کرتے ہیں، تو انہوں  نے بھی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے ترجمے کئے اور اسلامی عقائد کو متعارف کروایا، اس کے ساتھ ساتھ کئی مستشرق مسلمان بھی ہوئے، لیکن زیادہ تر نے مذہبی تعصب کی بنا پر قرآن و حدیث کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے قرآن و حدیث پر اشکالات وارد کئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے عقائد کی غلط تبیین کی، تاکہ لوگ اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام سے متنفر ہونے لگیں۔

مستشرقین کی دو چالیں
اسلام کی تبلیغ کو روکنے کے لئے تحقیق کے بعد متعصب مستشرقین نے دو کام کئے، ایک تو مسلمانوں کی کتابوں کے ترجمے کرتے ہوئے ان میں شبہات وارد کئے اور لوگوں کو اسلام کی غلط تصویر دکھائی، جبکہ دوسرا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کے درمیان اس بات کو عام کیا کہ آپ یہ حق اور باطل، صحیح اور غلط کی باتیں چھوڑ کر نیوٹرل ہو جائیں۔ آپ کے لئے نعوذباللہ بُت بھی اور اللہ کی ذات بھی برابر ہے، اگر آپ بتوں کے نقائص نکالتے ہیں تو پھر نیوٹرل رہنے کے لئے معاذاللہ، اللہ کی  ذات میں بھی خامیاں تلاش کریں۔ اگر آپ تورات و انجیل میں تحریف کے قائل ہیں تو نعوذباللہ قرآن مجید میں بھی تحریف کو قبول کریں۔ اسی طرح اپنی زندگیوں میں اصول پرستی کے بجائے نیوٹرل بن جائیں، بے شک آپ کے اردگرد ظلم ہوتا رہے، لیکن آپ نیوٹرل بن کر تماشا دیکھتے رہیں۔

 مذکورہ دو چالوں کا نتیجہ
یہ  دیندار طبقے کی اس نیوٹرل فکر کا نتیجہ ہے کہ آج بھی غیر مسلم مل کر مسلمانوں پر مظالم کرتے ہیں، ان کے حقوق پامال کرتے رہے، انہیں دہشت گرد ٹولوں میں تقسیم کرتے رہے اور مسلمان نیوٹرل بن کر ایک دوسرے کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ جس کی تازہ مثالیں کشمیر و فلسطین، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی صورت میں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔

مستشرقین کا یہ وہ حربہ تھا، جو سب سے بڑھ کر کارگر ثابت ہوا اور آج بھی دیندار طبقے میں اس نیوٹرل پن کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ حالانکہ حق و باطل کے بیچ میں کوئی درمیانی راستہ نہیں اور حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبدار ہو جانا دراصل باطل کی ہی مدد ہے۔

مستشرقین کے لے پالک

 اب  استعمار نے مستشرقین کے علاوہ اپنے لے پالک مسلمان بھی تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے بہت سارے ایسے مسلمانوں کی پرورش اور تربیت کی ہے جو مسلمانوں کے درمیان آج ان کے آلہ کار ہیں۔

استعماری ممالک مختلف ممالک سے مسلمانوں کو وظیفہ دے کر تعلیم کیلئے مغرب خصوصاً برطانیہ لے جانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اسی طرح کاروبار اور ملازمتوں کے نام پر بھی ایک بڑی عوامی کھیپ کی ذہن سازی اور برین واشنگ کی گئی ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے ایسے ذہن تیار کئے گئے ہیں کہ جو مشرق میں متولد ہونے اور رہنے کے باوجود بھی مغرب کی پرستش کرتے ہیں اور مغرب کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔

ایسے لوگ مستشرق نہیں ہیں، لیکن یہ  استعمار کے جدید لے پالک ہیں۔ یہ ایسے مسلمان ہیں، جن کے مفادات کسی نہ کسی بہانے برطانیہ یا کسی استعماری ملک سے ہی وابستہ ہیں۔ نام نہاد روشن فکروں کے علاوہ استعمار کے جدید لے پالکوں میں وہ لوگ بھی آتے ہیں، جو بظاہر مسلمان علماء کے روپ میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار استعمار کے خلاف بیانات بھی دیتے رہتے ہیں، لیکن یہ اسلام کے منبر کو ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دوریاں  بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

ایسے لوگ اکثر مغرب میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں اور یا پھر انہیں ادھر کے ویزے جلدی مل جاتے ہیں اور جو وہاں نہ بھی رہیں، اُن کے ڈونرز اور مالی معاون وہیں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ اس لئے دوسرے مسلمانوں کے اکابرین و مقدسات کی توہین کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

استعمار کے لے پالک جہاں مسلمانوں کو استعمار کے مقابلے میں نیوٹرل رہنے کی تلقین کرتے ہیں، وہیں لوگوں کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ممکن ہی نہیں، یہ مسلمانوں کو اصلاحِ احوال اور اتحاد سے مایوس کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو اپنے استحکام سے مایوس کرنے، اُن میں احساسِ کمتری ایجاد کرنے، ایک دوسرے سے لڑانے اور  کمزور کرنے کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ہر اُس شخص اور ہر اُس آواز کے خلاف ہوتے ہیں، جو مسلمانوں کو استعمار کے خلاف بیدار کرے اور انہیں باہمی اتحاد و وحدت کی دعوت دے۔

ان کا مشن مسلمانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ شیعہ و سُنی مسلمانوں کی فرقہ واریت میں استعمار اور مشتشرقین کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ مسلمان فطرتاً ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔

ان کے بقول مسلمان چودہ صدیوں سے ایک دوسرے پر شب خون مار رہے ہیں اور قیامت تک مارتے رہیں گے۔

یہ قرآن مجید اور سیرت النبی ؐکی اتحاد و وحدت کی تعلیمات کے برعکس ضعیف روایات اور متنازعہ تاریخی و فرقہ وارانہ واقعات کو اپنے تجزیات اور کتابوں و بیانات کی صورت میں پھیلاتے رہتے ہیں۔

ان استعماری لے پالکوں کی کاٹ مستشرقین سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا  آج کے دور میں ان کو پہچاننا اور  مسلمانوں کی صفوں میں ان کی نشاندہی کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات کے پس منظر میں جھانکنے اور ان کی فکری بنیادوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ کہیں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکوں کی نوعیت قدرتی آفات یعنی زلزلے اور سیلاب کی مانند نہیں ہے، بلکہ جہاں پر بھی نظریاتی انحراف، دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، تکفیر اور خودکش دھماکے ہوتے ہیں، ان کے پیچھے ایک فعال، مدبر اور منصوبہ ساز انسانی دماغ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور پسِ پردہ ماہر منصوبہ ساز بیٹھے ہوتے ہیں۔

لہذا ہمیں اپنی تاریخ کے کسی بھی گوشے کو بغیر تحقیق کے تاریک نہیں چھورنا چاہیئے۔ دشمن ہمیشہ تاریکی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور سب سے خطرناک تاریکی عدمِ آگاہی، عدمِ تحقیق اور جہالت کی تاریکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] استفادہ از دکتر عبدالمنعم فواد، من افترائات المستشرقین علی الاصول العقدیہ فی الاسلام ص ۱۷
[2] شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان از دکتر محمد حسن زمانی