ضرورتِ تقاریب برائے شعور 

ابراہیم شہزاد

 

 "23 مارچ" کو بہت زیادہ تقاریب ہوتی ہیں۔  اسی سلسلے میں ایران کے شہر قم القدس میں بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا  گیا۔سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم  نے  یہ تقریب منعقد کی تھی ۔ تقریب کی میزبانی جناب نذر حافی  نے کی جبکہ مہمانوں میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مسئول تعلیم و تربیت برادر قمر عباس غدیری صاحب اور مجلس وحدت المسلمین کے مسئول امور خارجہ حجۃ الاسلام و المسلمین جناب ڈاکٹر شفقت شیرازی تھے۔ تلاوت کلام الٰہی سے اس تقریب کا آغاز ہوا۔ تلاوت کے بعد محترم  نذر حافی  نے جناب قمر عباس غدیری  کو دعوت سخن دی ۔

فاضِل مہمان نے جامع اور مختصر گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی تنظیم کے  تعارف کے ساتھ ساتھ ملک عزیز کو در پیش مسائل کا ذکر بھی کیا۔ ان کے مطابق یہ ملک اخوت، بھائی چارے اور مذہبی آزادی کے لئے بنایا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے اس میں  آج کل یہ چیزیں خال خال ہی ملتی ہیں۔ ملکی و قومی حالات کو سنوارنے کیلئے  انہوں نے چند ایک تجاویز  بھی حاضرین کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل اور  دکھ درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عوام سے  خواص کی دوری بہت سارے مسائل کی وجہ  ہے۔ عوام کو  خواص سے  زیادہ امید نہیں رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں موجود دینی و سیاسی تنظیموں  کو مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے اپنا درد دل بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے پاس کوئی ایسا  مشترکہ لائحہ عمل ہونا چاہیے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے عوام کو  اقتصادی، سیاسی، قانونی اور اجتماعی تحفظ فراہم کر سکیں۔

ان کی تقریر کے بعد میزبان نے دوسرے مہمان "جناب ڈاکٹر شفقت شیرازی صاحب" کو اظہار رائے کی دعوت دی۔ انہوں نے قیام پاکستان کے اہداف کے حوالے سے بات کی اور آجکل رائج ایک سوال کے بارے میں بڑا مفصّل جواب بیان فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ  آج کل ہمیں بار ہا سننے کو یہ  ملتا ہے کہ قائد اعظم انگریزوں کے ایجنٹ تھے لہذا  انہوں نے انگریزوں کے کہنے پر  عظیم برصغیر کو دو  دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ علامہ صاحب نے انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے سے لیکر پاکستان بننے تک کے بہت سارے اہم واقعات  کی طرف اجمالی  اشارہ کیا۔ انہوں نے واقعات کو ترتیب کے ساتھ بیان کر کے یہ  ثابت کیا کہ انگریزوں کی  کٹھ پتلیاں تو وہ  لوگ تھے  جو ہمیشہ انگریزوں اور کانگرس کے وفادار رہے۔ جنہوں نے اپنی  تحریک خلافت میں بھی  لیڈر کے طور پر گاندھی کو رکھا ہوا  تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزوں اور کانگرس کے مہرے تو وہ تھے جنہوں نے کہا  تھا کہ الحمدللہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں ہوئے۔  یہی لوگ  تو انگریزوں کے ماضی میں بھی ایجنٹ تھے  اور  آج بھی  تک پاکستان کے مفادات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ اگر قائد اعظم انگریزوں کے ایجنٹ ہوتے تو وہ مسلم ہندو اتحاد کے سفیر کے طور پر نہ پہچانے جاتے بلکہ وہ بھی کسی فرقہ پرسترہنما کی شکل میں سامنے آتے، اگر قائد اعظم انگریزوں کے مہرے ہوتے تو تقسیم کے وقت پاکستان کے ساتھ اتنی نا انصافی نہ  ہوتی، اگر قائد اعظم انگریزوں کے ایجنٹ ہوتے تو آج کشمیر ہمارا ہوتا، اگر قائد اعظم انگریزوں کے ایجنٹ ہوتے تو ملک کے بننے کے فوراً بعد اس کی  باگ ڈور   ایک انگریز وائسرائے  ہاتھوں میں تھما دیتے۔ (جس طرح ہمارے پڑوسی ملک نے کیا تھا۔) انہوں نے اپنی تقریر میں اس وقت کے مسلمانوں کی قربانیوں  اور قائد اعظم کی خدمات کو سراہا  اورکہا کہ  آج ہمیں ایک منظم قوم بننے، اپنے مطالبات کے حصول کے لئے مناسب انداز میں آواز اٹھانے اور ایک مفید شہری بننے  پر  توجہ دینی چاہیے۔

تقریب کے اختتام سے پہلے پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد کے نعروں کی گونج میں یوم  پاکستان کا کیک کاٹا گیا۔ یوں یہ تقریب تو اپنے اختتام کو پہنچ گئی تاہم اس تقریب نے قائداعظم اور پاکستان کے مخالفین کے چہروں سے نقاب بھی ہٹا دیا۔قارئین محترم !جہالت کے پردوں کو صرف شعور کے آلے سے ہی چاک کیا جا سکتا ہے۔  ہمیں چاہیے کہ ہم اسی طرح  اپنی تقاریب میں حاضرین کے  شعور و آگاہی کی سطح کو بلند کریں۔

 


افکار و نظریات: ضرورتِ تقاریب برائے شعور