اچھائی پر مبنی مستقبل کی امید

نذر حافی

جھگڑا چھوٹا سا ہے۔ بصارت اور بصیرت کی لڑائی ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ ہو جائے تو میرا ایک   دوست مجھے تعزیتی پیغام ضرور بھیجتا ہے۔اس کی  کسی نہ  کسی سطر میں یہ  لکھا  ہوتا ہے کہ پاکستان بنا کر آپ لوگوں کو کیا ملا؟ ہمیں جو ملا ہے وہ اُسے دکھائی نہیں دیتا اور  اُسے  جو دکھائی دیکھتا ہے ، اسے ہم نے دل و جان سے قبول کر کے ہی  پاکستان بنا یاتھا۔ وہ کیا جانے پاکستان کیا ہے؟  ہمارے لئے  پاکستان محض ۲۲ کروڑ کی آبادی پرمشتمل مِٹّی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ  ایک آزاد وطن کا وژن ہے۔ہم نے یہ وژن صرف کاغذوں اور کتابوں سے نہیں بلکہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی عملی جدوجہد سے لیا ہے۔ میرا دوست  یہ نہیں جانتا کہ علامہ اقبال کے وژن کے مطابق :
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
اقبال نے یہ صرف کہا نہیں بلکہ اس کی بنیاد پر پاکستانیوں نے  بطورِ قوم اپنا وطن حاصل بھی کیا ہے۔  وہ  یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے جغرافیے  کی بنیاد خون کی لکیر پر قائم ہوئی ہے۔ لہذا  اب  پاکستان میں بہنے والا خون اس لکیر کو پھر سے دھو دے گا۔ اسی طرح   اُس کا خیال ہے کہ پاکستان بے روزگاری، مہنگائی ، افلاس اور  معاشی مشکلات کی وجہ سے جلد یا بدیر پاش پاش ہو جائے گا۔  اُس کو بڑی امید ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں مردہ باد امریکہ کے نعرے اور امریکہ و یورپ کے ساتھ محاز آرائی پاکستان کو مہنگی پڑے گی۔یہ سب کہتے ہوئےوہ زمینی حقائق بھول جاتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ   پاکستان کی بنیاد خون پر نہیں بلکہ رائے عامہ پر رکھی گئی تھی۔ پاکستان نے جمہوریت  اور عوامی رائے کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔  سرحدوں کے تعین کے وقت جن لوگوں نے رائے عامہ پر شب خون مارا وہ عالمِ انسانیت اور جمہوری اقدار کے مجرم ہیں۔پہلی بات تو میرے دوست کو یہ ماننا چاہیے کہ رائے عامہ  اور جمہوریت ہی اتنی بڑی طاقت ہے کہ جس سے پاکستان متولد ہوا ۔دوسری بات بھی میرے دوست کو ذہن نشین کرنی چاہیے کہ پاکستان نے جنم ہی مالی و معاشی مشکلات میں لیا ہے اور  اپنی ابتدا سے ہی اس بادِ مخالف کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ پاکستانیوں کیلئے اقتصادی مشکلات کوئی نئی مشکلات نہیں ہیں، ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔تیسری بات جو میرے دوست کے ذہن سے نکلی ہوئی ہے وہ  پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی حقیقت ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق پاکستانیوں کا نظریاتی خمیر دنیا کے دیگر ممالک سے انتہائی مختلف ہے۔ تہتر برس پہلے جن لوگوں نے نظریاتی طور پر پاکستان کوقبول کیا تھا وہ خالی ہاتھ ہونے کے باوجود اپنے زمانے کے سب سے بڑے استعمار برطانیہ کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ پاکستانیوں کی نس نس  میں  استعمار کی دشمنی رچی بسی ہے۔برطانیہ جیسے  بوڑھے استعمار کے بعد  امریکہ جیسے جوان استعمار کی بالا دستی کو بھی پاکستانی عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔  یہی وجہ ہے کہ آپ کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان اور یمن کے مسئلے کو ہی لیجئے۔ عوامی سطح پر اگر کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان اور یمن کے حق میں کوئی موثر  آواز بلند ہوتی ہے تو وہ پاکستان کے عوام ہی کرتےہیں۔
 آج یہ جو پاکستان کی اسمبلی میں مردہ باد امریکہ کی آواز گونج رہی ہے یہ پاکستانیوں کیلئے کوئی نئی آواز نہیں ہے۔ یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ یہ آواز  پاکستانی عوام کی آواز ہے جو پہلی مرتبہ پاکستان کے ایوانوں اور سیاستدانوں کی زبان پر آئی ہے۔  ۱۹۴۷میں استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آج سرکاری سطح پر مردہ باد امریکہ کا نعرہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ گزشتہ تہتر سالوں میں  ہم لوگ  علامہ محمد  اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے افکار سے منحرف نہیں ہوئے۔ رہی مشکلات کی بات تو قائداعظم اور علامہ اقبال نے جس راستے کاانتخاب کیا تھا وہ مشکلات کا راستہ ہی تھا۔  ہم نے بطورِ قوم قائداعظم اور علامہ اقبال کے وژن کی تکمیل کیلئے  مشکلات میں سے گزرنا ہے، مشکلات کو دیکھ کر وژن کو تبدیل نہیں کرنا۔
ہم نے قائداعظم ، علامہ اقبال اور تحریکِ پاکستان کے شہدا سے یہی سیکھا ہے کہ بدترین  حالات اور مشکلات میں قوم کو اچھائی پر مبنی مستقبل کی امیددلائی جانی چاہیے۔
قنوطیت اور مایوسی یعنی pessimism کی تھیوری پر  کسی  الگ کالم میں بات کریں گے۔ موجودہ حالات میں اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قنوطیت کا doctrine  کیا ہے اور  اقوام کیسے قنوطیت کی شکار ہوتی ہیں۔

تبصرہ

@⁨V⭕N⁩ نذر حافی صاحب!


نظریۂ پاکستان، یعنی اسلام کی بنیاد پر ملک اور قوم کی تشکیل کی وکالت پر مبنی آپ کا کالم "اچھائی پر مبنی مستقبل کی اُمید" پڑھا۔ جس میں آپ نے نظریۂ اسلام کو نظریۂ پاکستان کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس سے لمبی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔
میں آپ کے نظرئیے کی مخالفت نہیں کرتا لیکن تجزیہ کرنے اور سوال اُٹھانے کا حق رکھتا ہوں کہ تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آج تک جتنے بھی سیاسی جغرافئے وجود میں آئے وہ جنگی فتوحات یا جغرافیائی وحدت کی بنأ پر تشکیل پاتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان ایک سیاسی تحریک کے نتیجے میں مسلم شناخت کے ساتھ اگر بوجوہ وجود میں آ بھی گیا تھا تو وہ بھی محض 23 سال بمشکل قائم رہ پایا اور پاکستانیوں کی اکثریت نے پاکستانیوں کی اقلیت سے 1971ء میں باقاعدہ خونی لڑائی کر کے علیحدگی حاصل کرلی اور جغرافئے اور زبان کی بنیاد پر خود کو بنگالی شناخت دے لی اور اپنا بنگلہ دیش بنا لیا۔

تب میں چھوٹا سا تھا اور اُس دن شکست خوردہ میرا باپ لاکھوں مغربی پاکستانیوں کی طرح بےبسی اور دُکھ کے گہرے احساس کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا جب اندرا گاندھی نے انتہائی وارفتگی کے عالم میں اپنی پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ ہم نے دو قومی نظریے کو بنگال کی کھاڑی میں غرق کر دیا ہے۔

نذر حافی صاحب!
اگر نظریۂ اسلام واقعی اتنا طاقتور، حقیقت پہ مبنی اور قومیت کی اصل بنیاد ہوتا تو نہ تو بنگلہ دیش بنتا اور نہ اس وقت اپنے اپنے جغرافیے کے 60 کے لگ بھگ الگ الگ اسلامی ممالک ہوتے۔

آپ جس اسلامی ملک کی بات کر کے اُمید دِلا رہے ہیں، خود اِسی باقی ماندہ مغربی پاکستان میں بھی گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر آپ کے وفاق کا تاحال حصہ نہیں ہیں اور اُن میں پاکستانیوں سے الگ ہونے کا زُعم یا الگ شناخت کا مطالبہ و احساس موجود ہے۔

باقی ماندہ چار صوبوں میں بھی سندھو دیش، مہاجر صوبہ یا جناح پور، آزاد بلوچستان اور پختونستان کی علیحدگی کے عناصر یا نظریات موجود ہیں۔
اور آپ کو پتہ ہی ہے کہ نظرئیے کا توڑ بھی صرف نظریہ ہی ہوتا ہے ورنہ جبر، تشدد، قتل و غارت، فوجی آپریشن یا طاقت کے زور پر آپ بندے تو مار سکتے ہیں لیکن اُن کا نظریہ کبھی نہیں مار سکتے!

تو جس پاکستان کے بارے میں آپ اتنے پُراُمید ہیں اور ہمیں بھی اُمید دِلا کے رکھنا چاہتے ہیں، تو کیا واقعی یہ پاکستان ایک آئیڈیل ریاست ہے؟

نذر حافی صاحب!
یہ پاکستان وہ ملک ہے جس پر گورے انگریز کے جانے کے بعد کالے انگریز نے پوری طرح قبضہ کر لیا تھا اور یوں یہ ملک ایک ایسی اشرافیہ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، بڑے بڑے خاندانوں اور جابر سلطانوں کی ایسی ریاست بن گیا جس پہ صرف وہ اور ان کی اولادیں حاکم تھیں، ہیں اور رہیں گی۔

میرا باپ جو آپ کے بیان کردہ نظریۂ اسلام کا سب سے بڑا حامی تھا لیکن عملاً وہ جس ملک میں زندگی گذار کر دنیا سے رخصت ہوا، وہ بھی ایک بالادست حکمران طبقے کی ریاست تھی، اور میں بذاتِ خود جس ملک میں زندگی  گذار رہا ہوں، صحیح معنوں میں آج بھی یہ چند طبقات کی جنت اور اُسی بالادست طبقے کی ریاست ہے جس میں اپنے مرحوم باپ کی طرح میں بھی کروڑوں لوگوں کی طرح اشرافیہ کا غلام ہوں!

کہا جاتا ہے کہ جنرل ایوب کے زمانے، یعنی میرے باپ کی زندگی میں اِس ملک پر بائیس بالادست خاندان حکومت کیا کرتے تھے، لیکن پھر ملک میں جمہوریت آ گئی تو اب اِس ملک پر لگ بھگ بائیس سو خاندان حکومت کیا کرتے ہیں، جبکہ اِس ملک کی کُل آبادی بائیس کروڑ سے زائد ہے۔

تو نذر حافی صاحب! بائیس سو خاندانوں کے محکوم اس ملک کے بائیس کروڑ لوگوں کو آپ نظریۂ اسلام کا لالی پوپ دے کر بدستور سٹیٹس-کو کی ترغیب دے رہے ہیں یا آپ کے نظریہ اسلام کی کوئی ایسی تشریح بھی موجود ہے جو میرے باپ کے پاکستان کو تو اشرافیہ کے تسلط سے آزاد نہیں کروا سکا تو کیا میرے ہم عصر لوگوں کو بھٹو زرداری خاندان، میاں شریف کے خاندان، مُفتی محمود کے خاندان، چودھری ظہور الٰہی کے خاندان، باچہ خان کے خاندان، لدّھڑ خاندان، گھرمالہ خاندان، راجہ خاندان، نوابزادہ خاندان، کائرہ خاندان، مخدوم خاندان، ملک خاندان، اعوان خاندان، سادات خاندان، پیرزادہ خاندان، لغاری، مزاری، سومرو، لَک، نون، چیمے، چٹھے، دولتالہ، میانہ، شہانہ، خواجہ، قاضی اور مزید سینکڑوں فلاں فلاں خاندانوں اور جرنیلوں سے کم از کم اب تو سماجی اور سیاسی طور پہ آزاد کروا سکے؟

کیا ایسے پاکستان میں جہاں پارلیمانی جمہوریت بائیس سو کے لگ بھگ اشرافیہ پہ مشتمل خاندانوں کے گھر کی لونڈی ہے، وہاں کوئی ایسا نظریہ واقعی موجود ہے جو جغرافیے اور زبان و کلچر کی بنیاد پر علیحدگی کے نظریات رکھنے والوں کے نظرئیے کا توڑ کر سکے؟
 
آپ میرے علاقے چک جمال و دھنیالہ، ضلع جہلم و میرپور آزاد کشمیر کے لوگوں سے پوچھ کر گواہی لے لیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ میرا باپ جسے مُجاہدِ اہلسنت کہا جاتا تھا، ساری زندگی بالادست طبقات کے خلاف لڑتا رہا اور اپنے علاقے کے لوگوں کو نظریۂ اسلام کی تبلیغ کرتا رہا ہے۔ لیکن اشرافیہ کے قبضے میں پوری ایک ریاست تھی جس کے وسائل لوٹ لوٹ کر بالادست طبقات طاقتور فرعون بنتے چلے گئے، اور عام آدمی کی سیاست اور سماج میں قدر نہیں بڑھ سکی!

 اپنی بساط کے مطابق لڑ تو میں بھی رہا ہوں ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے سماج، سیاست، وسائل، میڈیا، ملازمتوں اور عہدوں پر قبضہ کر کے بائیس کروڑ کی جنتا کو بے بس و محکوم بنا رکھا ہے لیکن نتیجہ وہی کہ ہر گزرتے دن بالادست طبقے کا شکنجہ مزید گہرا ہوتا گیا ہے۔
میرے باپ نے بھی جیل اور مارشل لأ کی سزا کاٹی تھی اور میں نے بھی جیلیں کاٹی تو ہیں لیکن اس ملک کا نظام سامراج کی باقیات پہ مبنی ہے جس نے اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ تو کیا ہے لیکن تھانے اور کچہری کو عام آدمی کو سبق سکھانے کے لئے انہوں نے رکھا ہوا ہے۔

میرا باپ تدریس کیا کرتا تھا جبکہ میں قلم کا جہاد کر رہا ہوں لیکن اس کے باوجود ہم مات کھاتے جا رہے ہیں۔

لہذا نذر حافی صاحب!
آپ کا کالم جس ریاست اور نظرئیے کی وکالت کر رہا ہے وہاں جاگیرداری، سرمایہ داری، افسر شاہی، گِنے چُنے بالادست خاندانوں کی حکمرانی، جہالت، ہندؤوانہ پن، تعصب، تنگ نظری، تہذیبی پسماندگی، ظلم، جبر، آمریت، چودھراہٹ، طبقاتی تقسیم، وسائل کی غیرمنصفانہ ترسیل، اونچ نیچ، امیری غریبی، ذات پات، برادری ازم، حق تلفی، قبضہ مافیا، تشدد، فرقہ واریت، انتہأ پسندی، صوبائیت، لوٹ مار، کرپشن اور ناانصافی اتنی زیادہ ہے کہ یہ سب سہتے سہتے پانچویں نسل تک ظلم کا سلسلہ دراز ہو آیا ہے، اور آپ اب بھی اُمید دلا رہے ہیں کہ نظریۂ اسلام بائیس کروڑ عوام کے دکھوں کا مداوا اور مملکت پاکستان کا مستقبل تابناک بنا دے گا۔
لیکن کب؟

ہمارے باپ دادا مر گئے لیکن آپ کے تخئیل والا پاکستان وہ دیکھ پائے نہ ہم دیکھ پائیں گے۔
تو پھر کون، کب اور کہاں دیکھے گا ایک اصول پسند اور خوشحال پاکستان؟

ویسے برا نہ منائیے گا پلیز لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے نظریۂ اسلام اور نظریہ پاکستان کو جھٹلا کر مغربی پاکستان کے استحصالی ٹولے اور جاگیرداروں سے جان چُھڑا کر بنگالی قومیت کی بنیاد پر اپنا بنگلہ دیش بنا لیا تھا، آج وہ ہمارے اس موجودہ پاکستان سے معاشی ترقی، تعلیم، شناخت اور جمہوریت کے اعتبار سے بہت بہتر ہے۔ جبکہ ان کی ریاست کی بنیاد جغرافیے اور بنگالی قومیت پر ہے۔ 

ویسے نذر حافی صاحبِ!
دیانت داری کے ساتھ بتائیے کہ اگر بنگالی اکثریت ہمارے ساتھ رہی رہتی تو کیا ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آ پاتے؟
نہیں! کیونکہ بنگالی مِن حیث القوم مڈل مگر ہم سے زیادہ منظم اور باشعور تھے جنہوں نے مغربی پاکستان کی اشرافیہ، بائیس خاندانوں اور جرنیلوں کو جمہوریت کی طاقت کے ساتھ ووٹ کی پرچی سے شکست دی تو مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے اُن سے پکی پکی جان چھڑا کر باقی ماندہ پاکستان میں اپنی حکمرانی پکی کر لئی جہاں بھٹو کی نسلیں بھی اب راج کرتی رہیں گی۔

نذر حافی صاحب!
یہ کیسا نظریۂ اسلام پہ مبنی دیس ہے کہ جہاں پچھلے چالیس سالوں سے میاں شریف کا خاندان، مفتی محمود کا خاندان، بھٹو زرداری خاندان، چودھری ظہور الٰہی کا خاندان، باچہ خان کا خاندان اپنے طفیلی علاقائی بائیس سو کے لگ بھگ مزید خاندانوں کے ساتھ مل کے کئی نسلوں سے کروڑوں کی آبادی والی ریاست پہ حکمرانی کر رہا ہے۔

میں نے بتایا ناں کہ لگ بھگ بائیس سو الیکٹیبل سیاسی اجارہ دار خاندان حکمران ہیں جبکہ بائیس کروڑ کی آبادی اُن کی محکوم ہے۔
تو ریاستِ پاکستان کی بابت آپ کا جو نظریۂ اسلام ہے کیا وہ ہمیں اِن  قابض خاندانوں کے چنگل سے نجات دلا سکتا ہے پلیز؟

یقیناً نہیں!
یقین نہ آئے تو دیکھ لیجئے گا کہ کچھ دنوں تک وہی خائن لوگ جو کئی عشروں تک بلاشرکت غیرے پہلے بھی پاکستان کو لوٹ لوٹ کر کھاتے رہے ہیں، پھر سے باقاعدہ جمہوری طریقے سے ہم پہ مسلط ہونے والے ہیں۔
میری مراد بھٹو زرداری خاندان، میاں شریف خاندان، مفتی محمود خاندان، چودھری خاندان، باچہ خان خاندان اور ان کے اتحادی الیکٹیبل سیاسی خاندانوں سے ہے!
 
کیا اس طرح کے پاکستان میں نظریۂ اسلام عوام کا محافظ ہو پایا ہے پلیز؟
ایک نیا کالم لکھ کر بتائیے گا!


✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
ولد حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللّٰہ علیہ،
جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان

اگلا کالم:    برائی پر مبنی مستقبل کی امید