اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
🔏  جواد پاروی 


 غلامی کا بھی ایک نشہ ہے ۔یہ ایک ایسا نشہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی نشہ نہیں۔ جو قومیں غلامی کی زنجیروں کو قبول کر لیتی ہیں غلامی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
وطن عزیز پاکستان کو 14 اگست 1947 میں آزادی مل تو گئی لیکن بعد کی تاریخ غلامی سے بھری تاریخ ہے۔ 1950ء میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ سے  پاکستان غلامی کے نئے بندھن میں بندھ گیا تھا۔ واشنگٹن میں جنرل ایوب خان کے لئے اعزازی طور پر دی گئی پرتعیش ضیافت سے لے کر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے " یس سر " سب کچھ آپ کے سامنے ہے ۔
2015 ء کی سعودیہ اور  یمن جنگ میں جب پاکستانی فوج کےسپہ سالار ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف نے آل سعود اور امریکہ کی خدمت کرنے  کے لئے آل سعود کی تشکیل شدہ اسلامی فوج کی سربراہی قبول کی تو اس سے غلامی کے ایک اور باب میں اضافہ ہوا۔ یہ سلسلہ  2021 ء تک مختلف نشیب و فراز کے ساتھ چلتا رہا۔
وطن عزیز پاکستان کو امریکہ کی طرف سے "پتھر کے دور میں پہنچا دینے والی "  دھمکی کے بعد اس پرائی جنگ میں  ہماری 80 ہزار سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ۔ ملکی معیشت مکمل بیٹھ گئی ہے۔ مجال ہے کہ  امریکہ نے کبھی اتنی تفصیل سے پاکستانی قربانیوں کا ذکر یا افسوس کیا ہو۔ جب بھی بات آزاد خارجہ پالیسی یا آزاد فیصلے کی آتی ہے احسانات کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے اور بس غلامی کی زنجیر پہنے آقاوں کی خوشنودی کے لئے دم ہلائے جا رہے ہیں وہ بھی ایک ایسے آقا کی جس کے ساتھ تعلقات کی تاریخ ، عدم اعتماد اور خودغرضی کی  تاریخ ہے ۔
1947 ء میں یونان میں امریکی مداخلت سے شروع ہونے والی کہانی کا دائرہ کار کوریا، ویت نام، میکسیکو، چین، یوکرائن، افغانستان، عراق، شام،لبنان، کویت، صومالیہ، یمن ،لیبیا، وینزویلا اور  پاکستان تک پھیل چکا ہےاور اپنے مفادات کے لئے اسے ان ممالک کے مستقبل کی کوئی پراوہ نہیں کی۔ تازہ ترین مثال افغانستان کی ہے جہاں اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد افغانستان کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔   دنیا میں فسادات کی جڑ امریکہ ہے اور جہاں جہاں  امریکہ نے قدم رکھا وہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اور زوال کا شکار ہوا ۔
آپ دیکھئے جب تک ایران شاہ کے ہاتھ میں تھا تب تک کوئی مشکل نہیں تھی لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑا کانٹا بن گیا۔ عراق میں جب تک صدام ہاں میں ہاں ملاتا رہا سب کچھ ٹھیک تھا لیکن بعد میں اسی کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ، اسی طرح پاکستان میں جنرل ضیاء الحق افغانستان  پر سوویت یونین کی لشکر کشی تک مغرب کی نظر میں ناپسندیدہ تھے لیکن بھٹو کی آزاد منش فکر کے مقابلے میں بعد میں نور نظر بن گیا۔ جنرل پرویز مشرف 9/11 سے پہلے امریکن فریم سے باہر تھے لیکن "یس سر "کے بعد  آنکھ کا تارا بن گیا۔ 1965ء کی جنگ میں بعنوان حلیف ملک مدد کی بجائے پاکستان کو ہر قسم کے اسلحے فروخت کرنے پر پابندی لگا دی۔ 1971ء میں  سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کو الگ ملک کے طور پر تسلیم کرنے والوں میں امریکہ پیش پیش رہا۔
بھٹو کے ایٹمی پروگرام کو ترک نہ کرنے پر نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی اور بھٹو کو کہنا پڑا کہ" سفید ہاتھی میرے خون کا پیاسا ہے" اور بعد میں نشان عبرت بنا بھی ڈالا۔ 1998ء میں یوم تکبیر کے بعد پاکستان کو پابندیوں میں جکڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ اپنی من مانی اور "do more" کے لئے " IMF" اور "FATF" کی تلوار ہمارے اوپر لٹکا رکھی ہے تاکہ آفاقی ذہنیت کی بجائے نوکری کے خواہشمند افراد کے لئے دروازہ کھلا رہے.
وہ غلام جنہیں اپنی زنجیروں سے پیار ہو، انہیں اپنی غلامی اچھی لگتی ہے اور انہیں اچھے برے کا فرق ہی نظر نہیں آتا۔ ہمارے اکثر سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار ان حالات میں امریکہ کے احسانات اور اپنی غلامی کے اسباب گنتے نہیں تھکتے جس کی تازہ مثال معروف کالم نگارعرفان صدیقی صاحب  کا 3 جنوری کو لکھا گیا اداریہ " خطرناک بیانیے کا نتیجہ " ہے جس میں موصوف نے اس مراسلے کو  روزمرہ کا ایک معمولی مراسلہ قرار دیا جس کو نیشنل سکیورٹی اجلاس نے ملکی سلامتی کے لئے تھریٹ قرار دیا تھا اگر حقیقت پسندانہ دیکھا جائے تو  پاکستان کی قربانیوں اور  کاوشوں کے سامنے ان  احسانات کی کوئی حیثیت نہیں جیسا کہ جنرل ضیاء نے کہا تھا امریکی امداد کے بارے میں کہ " اونٹ  کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے" 
2021 ء میں "ایبسولوٹلی ناٹ“ Absolutlely Not سرزمین حریت پر بارش کا پہلا قطرہ بن کر گرا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کچھ ہی عرصے میں جو عوامی امنگوں پر مشتمل قومی شعار تھا وہ قوم کے ایوان میں بھی گونجنے لگا۔ 
آپ  ہماری غلامانہ ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ تصور کئے جانے والے مراسلے کو پہلے تو جھٹلایا جاتا ہے ۔پھر جب بات ذرا آگے نکل گئی تو خواجہ آصف کہتے ہیں کہ " ہم امریکہ کے بغیر نہیں رہ سکتے " اور نئے متوقع وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا بیان تو کمال بندگی کا بیان ہے کہ" بھکاریوں کی کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہوتی ہمیں تو بس اپنے لوگوں کا پیٹ پالنا ہے " ۔ ایسے میں وہ لوگ بھی کسی سے پیچھے نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تو ہمارے معاشی مسائل سے غرض ہے بس ہمیں امریکہ سے بنا کر رکھنی چاہیے۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امریکیوں کی ڈو مور کا اگلا نشانہ پاکستان کی عسکری افواج اور ایٹمی اثاثے ہیں۔وہ اپنے آپ کو علامہ اقبال سے بھی بڑا دانشور اور دانا سمجھتے ہیں، اُن کے نزدیک علامہ اقبال ایک فوت شدہ اور کاغذی شاعر تھے لہذا اقبال کو ہمارے آج کل  کے مسائل کا کیا پتہ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تشکیلی پاکستان کو بھی اُن کی طرح کے دانشمندوں نے دیوانے کا خوب کہا تھا۔ جی ہاں وہ دیوانہ جس نے ہمیں تصوّرِ پاکستان دیا تھا آج بھی یہی صدا دے رہا ہے:
اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

 

 


افکار و نظریات: اے طائر لاہوتی