اقتصادی اِمدادیا قاتل خنجر

چمن آبادی 

زمین پر سردترین علاقہ قطب شمال ہے۔ وہاں سخت سردی سے ہر چیز جم جاتی ہے۔ شکاری اس  سردی میں ایک چال چلتے ہیں۔ وہ  تیز دھار چھریوں کو خون میں رنگین کر لیتے ہیں۔ پھر انہیں مختلف جگہوں پر  درختوں کی طرح برف میں گاڑھ دیتے ہیں۔ ۔ کُتّے برف کی سفیدی میں خون آلود چھریوں کو دور سے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔  وہ  ان چھریوں کو چاٹنا شروع کرتے ہیں۔ چھریوں کو چاٹنے کے دوران ان کی زبان سے خون جاری ہونے لگتا ہے۔ تازہ خون دیکھ کر کُتّے یہ سوچتے ہیں کہ ان کو بہترین شکار ہاتھ آیا ہے۔  چاٹتے چاٹتے جاتے ان کی زبان سے خون کا فوّارہ بہنے لگتا ہے۔ وہ اپنا ہی  خون چاٹتے چاٹتے مر جاتے ہیں لیکن انہیں یہ  پتہ بھی نہیں چلتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔
انٹرنیشنل کنگ میکرز ایسا ہی کچھ دنیا بھر کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ قرض اور  امداد کی شکل میں قاتل خنجر مزّین کر کے ان کے سامنے نصب کئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ  لیبیا کے معروف لیڈر معمر قذافی کے ساتھ ہوا۔ وہ امداد کے جھانسے میں ہی مارا گیا۔ اسے کہا گیا کہ اگر تم اپنی ایٹمی پاور ختم کردو تو ہم  اقتصادی پابندیاں ہٹا کر تمہیں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اور  تمہارے ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ قذافی نے امریکہ کے وعدوں پر عمل کرنا شروع کر دیا  اور نہایت خوشی و رغبت کے ساتھ جنوری 2004 ء میں اپنے ہاتھوں سے ہی ملکی میزائل ٹیکنالوجی اور سینٹری فیوجز امریکہ کے حوالے کر دئیے۔ پھر 2011 ء میں 7 سال کے قلیل عرصے میں معمر قذافی کے ساتھ وہی ہوا جو قطب شمال کے کتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیبیا کے اندر خانہ جنگی کا ماحول گرم کیا گیا اور سب سے پہلے امریکہ نے ہی قذافی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کئے۔ وہاں بھی ماری پی ڈی ایم  جیسے کردار کے مالک لوگوں کو اسلحہ دیا گیا،  جس کے نتیجے میں اسرائیل مخالف، نڈر رہنما معمر قذافی اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں راہی اجل ہوا۔اس کے بعد  12 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود لیبیا میں امن بحال نہیں ہو سکا۔
پاکستان کے ساتھ بھی امریکہ کا رویہ بالکل لیبیا والا ہے۔جس طرح  لیبیا کو  ایٹمی پاور بنتے دیکھ کر امریکہ اور اسرائیل کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں اسی طرح سے پاکستان کو اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت دیکھ کر پاکستان ،  امریکہ و  اسرائیل اور بھارت  کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔اس راستے میں پاکستان متعدد قربانیاں دے چکا ہے۔  
دوالفقار علی بھٹو کو  جان کی  اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنی عزت کی قربانی دینی پڑی۔ قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں ہماری  عوامی حکومت کا  دھڑن تختہ کر کے عنانِ اقتدار چوروں، ڈاکوؤں، اور قوم کا پیسہ کھانے والے موروثی نااہل سیاستدانوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے عوام نے  بیک زبان اپنے ملک میں امریکی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے تا ہم  عوام کو ہمیشہ قیادت اور رہبری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت تمام باشعور پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی احتجاجات کو درست سمت میں لے کر جائیں۔ مردہ باد امریکہ کے نعرے ضروری تو ہیں مگر کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ سے درآمد شدہ تمام پالیسیوں کے خلاف عوام کو کھڑا کیا جائے اور امریکہ کے مدّمقابل بلاک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر زور دیا جائے۔ امریکہ کی تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ ناقابلِ اعتماد ہے۔ خود داری، آزادی اور استقلال کے بدلے میں کسی کی  جو اقتصادی امداد کی جاتی ہے عاقل اُسے امداد نہیں بلکہ قاتل خنجر کہتے ہیں۔

 

 


افکار و نظریات: ترقیاتی اِمدادیا قاتل خنجر