میں اور مسئلہ کشمیر

میری ڈائری میری آواز میں

کلک کریں

میں، مسئلۂ کشمیر، معاہدۂ لاہور، شہباز شریف، چناب فارمولہ، گارگل وار اور تاریخ کے سامنے شخصی شہادتیں۔


قسط نمبر ۱
آج 23 سال بعد میں کچھ ہَڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، کچھ آنکھوں دیکھا اور کچھ کانوں سُنا پاکستان کے عوام اور تاریخ کے سامنے ریکارڈ پہ لا رہا ہوں جسے، مسئلہ کشمیر کے ایک ممکنہ حل کے بارے میں تئیس سال پہلے شہباز شریف کی طرف سے 21 فروری 1999ء کی صبح چیف منسٹر ہاؤس لاہور میں ناشتے کی میز پر اُس وقت کے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور ہمارے بزرگ مہمان سردار پرکاش سنگھ بادل جی، سردار ترلوچن سنگھ جی اور جناب کُلدیپ نئیر صاحب کے سامنے بولا ہوا ایک جُملہ:
"اَو چَھڈّو سردار جی۔ جمّوں تُہاڈا، تے کشمیر ساڈا۔۔۔۔"میری طرف سے ایک تاریخی شخصی شہادت سمجھا جائے کیونکہ مجھے اور میرے ایک معاون عاصم اعظم چودھری کو مندرجہ بالا تینوں شخصیات نے خود بتایا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں کشمیر آپس میں بانٹ لینے کی آفر دی ہے۔

مندرجہ بالا تین شخصیات میں سے کلدیپ نئیر صاحب تو اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن شہباز شریف صاحب جو کہ اب خود وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں، اپنی دی ہوئی آفر سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ باقی دونوں بزرگ شخصیات تاحال حیات ہیں جو اس بات کی گواہی دے سکتی ہیں کہ 1999ء میں شہباز شریف نے انہیں 7۔کلب روڈ بلا کر خود یہ بات کی تھی کہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے جموں آپ رکھ لو اور کشمیر ہمیں دے دو۔لیکن شریف برادران کی اُس وقت کی کشمیر پالیسی (جب بڑا بھائی وزیرِ اعظم پاکستان جبکہ چھوٹا بھائی وزیرِ اعلیٰ پنجاب لگا ہوا تھا) کی وضاحت سے پہلے میں اپنے اور چند دیگر شہادتیوں کے بارے میں تھوڑا تعارف کروانا ضروری سمجھتا ہوں۔
میں وہ شخص ہوں جو گجرال ڈاکٹرائن کے تحت پاک بھارت عوامی رابطوں، امن کی کوششوں، امن کی آشا، آغازِ دوستی (پاک بھارت دوستی کی کوشش کے لئے تب اُٹھایا گیا ایک قدم)، شٹل ڈپلومیسی یعنی ٹریک ٹُو (جسے غیرسرکاری سفارت کاری بھی کہا جاتا ہے) کا چند سال حصہ رہا ہوں۔ اور جب کبھی بھی برصغیر میں امن کی کوششوں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ایک مائل سٹون، ایک سنگِ میل رائے یُوسُف رضا دھنیالہ (جہلم) کا بھی پڑھا جائے گا۔

اگرچہ اُس زمانے میں اپنے وفود کے ہمراہ میں نے بھی ہائی پروفائل یعنی سٹیٹ گیسٹ آف انڈیا کے طور پہ تین دورے کئے تھے اور ہماری کوششوں کے نتیجے میں ہی 19 فروری، 1999ء کو اُس وقت کے پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی صاحب دھلی۔لاہور بس سروس (صدائے سرحد) کے افتتاح کے موقع پر معاہدۂ لاہور کے لئے پاکستان تشریف لائے تھے۔
تاہم آج میں اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے اس بیان کی وضاحت اور شہادت پیش کروں گا جس میں اُنہوں نے اکیس فروری 1999ء کی صبح اپنی سرکاری رہائش گاہ، سیون کلب روڈ لاہور پہ تین معتبر بھارتی پنجابیوں کو دوستانہ انداز سے مُخاطب کرتے ہوئے پنجابی میں کہا تھا: "اَو چَھڈّو سردار جی۔ جمّوں تُہاڈا، کشمیر ساڈا۔۔۔۔۔

"(ارے جھگڑا چھوڑئیے سردار جی۔ جموں آپکا ہُوا اور کشمیر ہمارا۔۔۔۔")۔
واجپائی صاحب کے لاہور آنے سے پہلے چونکہ مُجھ سمیت جنوبی ایشیاء میں امن کے کچھ داعی، اور دو ارب کی آبادی کو کئی نسلوں سے جاری پاک بھارت جھگڑے سے نجات دلانے کے لئے متحرک کچھ پاک بھارت مُحسن اپنی کوششوں سے معاہدہ لاہور کی راہ ہموار کر چکے تھے، اور واجپائی صاحب کے وفد میں شامل کافی سارے ڈیلیگیٹس چونکہ پہلے سے ہی میرے بھی واقف تھے، لہذا 19 فروری کی شام کو واجپائی صاحب کا واہگہ کی سرحد پر تاریخی استقبال کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھا، اور پھر پی سی ہوٹل لاہور، جہاں مہمانوں کو ٹھہرایا گیا تھا، وہاں تین دن میں بھی موجود رہا، اور بھارتی وفد میں شامل جو لوگ پہلے سے میرے واقف نہیں تھے، اُن سے بھی خوب ملنے کا موقع ملتا رہا۔

قسط نمبر ۲

آج میں یہاں صرف اُن تین بھارتی پنجابیوں کا تعارف کرانا چاہتا ہوں جن کا آج کے عنوان یا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے شہباز شریف کے بولے ہوئے اس جملے کہ: "جموں تمہارا، کشمیر ہمارا" سے براہِ راست تعلق ہے، کیونکہ اِنہی کو مخاطب کرتے ہوئے شہباز شریف نے تب یہ کہا تھا کہ "اَو چَھڈّو سردار جی۔ جموں تُہاڈا، تے کشمیر ساڈا۔"

(1)۔ برطانوی ہند اور متحدہ پنجاب کے مالوہ علاقے میں پیدا ہونے والے پرکاش سنگھ بادل نے 1946ء میں لاہور سے گریجویشن کیا تھا، اور تقسیمِ ہند کے بعد سکھ پنجاب میں وہ چار بار چیف منسٹر رہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے پانچویں بار وہ خود مُکھ منتری نہ بنے بلکہ اپنے بیٹے سُکھبیر سنگھ بادل کو اپنی جگہ وزیر اعلیٰ پنجاب بنوا کر اپنی نِیم مذہبی مگر مکمل سیاسی جماعت "شرومنی اکالی دَل" کا پردھان بھی اُسے ہی بنوا دیا۔تاہم پرکاش سنگھ بادل جی اپنی جماعت کے تاحیات سرپرستِ اعلیٰ اور عملی سیاست میں آج بھی پوری طرح فعال ہیں۔
(2)۔ شہباز شریف سے ناشتے پہ ہونے والی ملاقات میں موجود دوسری بڑی شخصیت جناب کُلدیپ نئیر صاحب تھے جو انڈیا ہی نہیں بلکہ عالمی شہرت کے حامل ایک صحافی، کالم نگار، تجزیہ کار، رائٹر، مصنف، سابق سفارتکار، سیاستدان (راجیہ سبھا کے ممبر) اور برصغیر میں امن کے سب سے بڑے داعی بلکہ انسانیت کو پاک بھارت ایٹمی جنگ سے بچانے والے مسیحا تھے۔کُلدیپ نئیر جی 14 اگست، 1924ء کو سیالکوٹ شہر میں پیدا ہوئے لیکن ہندو ہونے کی بنأ پر پاکستان میں نہ رہ پانے کی وجہ سے مجبوراً دھلی جا کر آباد تو ہو گئے لیکن ساری زندگی وہ سیالکوٹ کو نہیں بھولے تھے۔میرے لئے وہ ایک شفیق باپ کی طرح تھے جن سے زندگی میں پہلی بار میں 1997ء میں اپنے وفد کے ہمراہ دھلی میں اُن کے گھر جاکے تب ملا تھا جب میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم اور اپنے بزرگ دوست آئی۔کے۔گجرال صاحب کی دعوت پر پہلی بار ہندوستان کے دورے پر گیا تھا۔

تب میں اپنی ایک پنجابی کی تنظیم "سانجھ وچار پاکستان" کا سیکرٹری جنرل ہوا کرتا تھا، اور اپنے پہلے ہی دورے کے دوران میں نے سانجھ وچار کے بھارتی چیپٹر کے طور پہ 10 جنوری، 1998ء کو پرائم منسٹر ہاؤس نئی دھلی میں وزیرِ اعظم اِندر کُمار گُجرال صاحب کی زیرِ صدارت "ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن (وِشو پنجابی سَنستھا)" بھی قائم کروائی جس میں ہزاروں مایہ ناز اور زمانہ ساز بھارتی پنجابیوں نے شرکت کی۔اِسی موقع پر گجرال صاحب کی ذاتی تجویز پر ہم دونوں طرف کے دانشور پنجابیوں نے یہ طے کیا کہ گجرال ڈاکٹرائن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے مابین عوامی رابطوں کے فروغ اور امن کی بحالی کے لئے پاکستان میں سانجھ وچار اور بھارت میں ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن کے فورم سے ٹریک ٹُو (شٹل ڈپلومیسی) شروع کی جائے۔
گجرال صاحب نے ذاتی طور پہ ہمیں یقین دلایا تھا کہ وہ ویزہ شرائط میں نرمی کر کے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ویزے کی سہولت مہیا کریں گے، جس سے بلا شبہ آنے والے چند سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانیوں نے فائدہ اُٹھایا۔وہاں یہ بھی طے پایا تھا کہ نومولود ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن کی طرف سے ستر سے سو جوڑوں (ڈیڈھ سے دو سو افراد) پر مشتمل ایک بڑا پنجابی وفد میری تنظیم سانجھ وچار پاکستان کی دعوت پر لاہور میں بسنت منانے کے لئے جناب کُلدیپ نئیر صاحب کی قیادت میں میرے پاس پاکستان آئے گا اور چونکہ نواز شریف حکومت کی خصوصی ہدایت پر دھلی میں موجود پاکستان کا ہائی کمیشن میرے ساتھ رابطے میں رہتا تھا، لہذا فروری 1998ء کے پہلے ہفتے میں جونہی میں پاکستان واپس آیا تو میں نے اپنی طرف سے اپنے ہائی کمیشن کو ایک دعوت نامہ دھلی فیکس کر دیا جس کی بنأ پر سو سے زائد لوگوں کے ویزے لگے اور کچھ دنوں بعد ہی وہ دھلی سے بذریعہ ٹرین پاکستان آ گئے جنہیں ہم واہگہ ریلوے اسٹیشن سے اپنی بسوں کے ذریعے لاہور شہر لے کے آئے، ایک اچھا سا اُنہیں ڈنر کروایا اور پھر راتو۔رات اُنہیں سیدھے میریٹ ہوٹل اسلام پہنچا دیا جہاں انڈین ہائی کمیشن نے بھی ہمیں جوائن کر لیا، اور نواز شریف صاحب نے ہمارے وفد کو سرکاری مہمان کا درجہ دے کر وفد کے دورے کی انتظامی ذمہ داری خود لے لی۔

وزیراعظم نواز شریف صاحب نے نہ صرف یہ کہ میرے مہمانوں کو سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دے کر لگژری گاڑیاں، پروٹوکول عملہ اور سیکیورٹی مہیا کر دی تھی بلکہ پرائم منسٹر ہاؤس میں لنچ دینے کے بعد اچانک کلدیپ نئیر صاحب کو آفر کی کہ چلو میں بھی آپ کے ساتھ بسنت منانے لاہور ہی چلتا ہوں۔ اور یوں نواز شریف صاحب نے کُلدیپ نئیر صاحب کو اپنی ذاتی گاڑی میں بٹھایا اور موٹروے کے ذریعے لاہور تک کے سفر کے چار گھنٹوں کے دوران دونوں نے پاک بھارت تعلقات پر تفصیلی تبالہء خیال کرلیا جو کہ کلدیپ نائر صاحب کے دورے کا اصل مقصد بھی تھا۔لاہور میں وفد کو پی سی ہوٹل ٹھہرایا گیا۔رات کو اور اگلے دن بھی بھارتی مرد وخواتین مہمانوں نے جہانگیر بدر، فخر زمان، اعتزاز احسن اور اقبال زیڈ احمد کی چھتوں پر بسنت کا تہوار منایا اور لاہوریوں کی میزبانی کا بھرپور لُطف اُٹھایا۔
اپنی لاہور میں موجودگی کی وجہ سے پرائم منسٹر نواز شریف صاحب نے ہمارے وفد کو گورنر ہاؤس لاہور میں بھی لنچ پر مدعو کر لیا جہاں اُنہوں نے تقسیم کے وقت لاہورشہر سے ہی ہندوستان چلی گئی اپنے وقت کی پنجابی کی بے مثال لوک گلوکارہ سُریندر کور جی (جو کہ میری ماں کی طرح تھی اور تقسیم کے بعد پہلی بار میرے پاس پاکستان آئی تھیں) سے لوک گیت سُنے اور سَر دُھنتے رہے۔ لیکن گورنر ہاؤس لنچ پہ بلانے کا اُن کا اصل مقصد کُلدیپ نئیر صاحب سے پاک بھارت تعلقات اور باہمی تنازعات کے حل کے لئے مزید مشاورت کرنا تھا۔یعنی اسلام آباد سے آتے ہوئے دونوں کے مابین جو بھی باتیں ہوئیں، اس کے اگلے راؤنڈ کے لئے نوازشریف صاحب نے کلدیپ نئیر صاحب کو وفد سمیت گورنر ہاؤس لاہور میں پھر مدعو کر لیا۔یہ فروری 1998ء کی بات ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ممکنہ حل کون کون سے ہو سکتے تھے، اس بارے میں بیک ڈور دونوں پنجابی وزراء اعظم کے مابین میری وساطت سے رابطے شروع ہو چکے تھے، اور کُلدیپ نئیر صاحب چونکہ گجرال صاحب کے چند رُکنی پنجابی فرینڈز کلب کا حصہ اور گجرال صاحب کے معتمدِ خاص تھے، لہذا وہ اپنے پردھان منتری کا وزیر اعظم نواز شریف کے لئے خصوصی پیغام لے کے آئے تھے۔کُلدیپ نئیر صاحب اپنے وزیر اعظم کا بااختیار (غیرسرکاری سفارت کاری کے تحت مشاورتی) نمائندہ بن کر آئے تھے، اور چونکہ دونوں طرف کشمیر سمیت پرانے تنازعات حل کرنے کا جذبہ اور بہترین موقع بھی تھا، لہذا نواز شریف صاحب نے کلدیپ نئیر صاحب کے ساتھ بہانے بہانے سے متعدد ملاقاتیں کرکے پاکستان اور بھارت کے مابین تمام متنازعہ موضوعات کی جُزئیات پر گھنٹوں کے حساب سے بات چیت کی۔
یہ وہ وقت تھا جب برصغیر میں دو ہمسایہ ایٹمی ممالک میں بیک وقت دو پنجابی وزرائے اعظم برسرِ اقتدار تھے، اور دونوں کا آبائی تعلق ایک دوسرے کے ملک سے تھا۔میرے گرائیں، اور میرے بزرگ دوست جناب اِندر کُمار گُجرال صاحب (جن کے ساتھ میرا قلمی رابطہ تب سے تھا جب میں ابھی اسٹوڈنٹ ہوا کرتا تھا) جہلم چھوڑ کر دھلی گئے تو آخر وہ 1997ء کو دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے پردھان منتری بن گئے۔اسی طرح نوازشریف کے باپ، دادا کا آبائی تعلق گاؤں جاتی عُمرا، امرتسر (موجودہ ضلع ترن تارن)، بھارتی پنجاب، انڈیا سے تھا، لیکن وہ تقسیم سے پہلے ہی قریبی شہر لاہور آگئے، تو پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میاں شریف کے دونوں بیٹے پاکستان کے اقتدار کے بلاشرکتِ غیرے مالک (بادشاہ سلامت) بن گئے۔

نوازشریف صاحب کے ہی چھوٹے بھائی شہباز شریف 1999ء میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھے جن کی بابت آج میں نے یہ کالم اس لئے لکھا ہے تاکہ بتا سکوں کہ 1999ء میں معاہدہ لاہور کے وقت برسرِ اقتدار دونوں شریف برادران کے ذہن میں پاک بھارت جھگڑے ختم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کا کیا خاکہ یا کونسا فارمولا موجود تھا۔لیکن میں شٹل ڈپلومیسی کے تحت 1998ء میں کلدیپ نئیر صاحب کے پاکستان آنے اور پرائم منسٹر نواز شریف صاحب کے ساتھ اُنکی ملاقاتوں کی اتنی تفصیل اس لئے بتا رہا ہوں کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہی ملاقاتیں اگلے سال معاہدۂ لاہور کی بنیاد بنی تھیں کیونکہ پرائم منسٹر نوازشریف نے ایک ذہن بنا لیا ہوا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ کیسے حل کرنا ہے۔اور کلدیپ نئیر صاحب کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کے بعد اگلے ہی سال فروری 1999ء کو جب نئے منتخب ہونے والی بھارتی وزیراعظم جناب اٹل بہاری واجپائی صاحب کو اُنہوں نے لاہور مدعو کر لیا تو نواز شریف صاحب نے واجپائی صاحب کے ساتھ ایم۔او۔یُو (میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ) تو سائن کر لیا تھا، لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ اتفاق رائے ہوا کس فارمولے پر ہے۔لیکن اُن کے چھوٹے بھائی شہباز شریف (جو ظاہر ہے کہ اپنے بڑے بھائی کے ہمراز تھے) نے ساری گل قبل از وقت کھول کے رکھ دی جب انہوں نے کلدیپ نئیر صاحب، پرکاش سنگھ بادل اور سردار ترلوچن سنگھ کو اپنائیت کے احساس کے تحت یہ کہہ دیا کہ: جھگڑا ختم کریں، اور جموں آپ رکھ لیں اور کشمیر ہمیں دے دیں (یعنی کہ چناب فارمولا)۔
کلدیپ نئیر صاحب کی معاہدۂ لاہور سے ایک سال پہلے کی نواز شریف صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیل میں اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ سیاق و سباق کے ساتھ معاہدۂ لاہور کرتے وقت شریف برادران کے ذہن میں موجود مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔
یہاں دو سن میں نے گُڈ مُڈ کر دئیے ہیں۔ یعنی 1998ء جب میں نے ہندوستان سے کلدیپ نئیر صاحب کو پاکستان منگوایا اور ان کی نوازشریف صاحب سے ملاقاتیں کروائیں۔ اور دوسرا وہ جب 1999ء میں نواز شریف نے خود واجپائی صاحب کو لاہور بلایا اور معاہدہ لاہور کیا، لیکن کسی کو بھی یہ بھید نہیں تھا کہ میاں نواز شریف مسئلہ کشمیر حل کریں گے کیسے، تاآنکہ انہی کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے خود ہی قبل از وقت تین بھارتی پنجابیوں کو بتا دیا کہ چناب فارمولے کے تحت کشمیر کی بندر بانٹ کر لیتے ہیں۔لیکن شہباز شریف کی کہی ہوئی یہ بات سننے والوں نے مجھے اور عاصم اعظم چودھری کو اسی وقت بتا دی بلکہ پتہ نہیں کن ذرائع سے یہ بات ایسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی پہنچ گئی، لہذا اس سے پہلے کہ عملاً تقسیم کشمیر پہ پیش رفت ہوتی، اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے مئی میں ہی کارگل کر دیا گیا اور پھر نواز شریف کا اپنا اقتدار بھی جاتا رہا۔
میں 1998ھ میں کلدیپ نئیر کے نواز شریف سے ملنے، اور 1999ء میں شہباز شریف سے ان کے ملنے کا بیک وقت ذکر کرنا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں تاکہ معاہدہ لاہور سے ایک سال قبل 1998ء میں میری دعوت پر گجرال کے نمائندے کے طور پہ ایک بڑے پنجابی وفد کے ہمراہ بسنت منانے جب کلدیپ نئیر صاحب پاکستان تشریف لائے تو ان کی نوازشریف صاحب سے متعدد تفصیلی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جس سے دونوں کے مابین کشمیر کے ممکنہ حل کے بارے میں شائد اتفاق رائے ہوتا رہا۔یہ میرا بلایا ہوا وفد تھا جس میں نواز شریف اور کلدیپ نئیر کو میں ڈسکس کر رہا ہوں۔
ہمارا وفد اگرچہ ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن کے بھارتی پنجابیوں پر مشتمل تھا جسے سانجھ وچار پاکستان کی طرف سے میں نے بسنت منانے کے لئے پاکستان مدعو کر رکھا تھا، لیکن اصل میں دونوں وزرائے اعظم نے بسنت اور کلچرل وِزٹ کا ایک اوہلا (آڑ) اور بہانہ رکھا ہوا تھا، کیونکہ اگر کلدیپ نئیر صاحب گجرال صاحب کا نوازشریف کے نام پیغام لے کر اکیلے پاکستان آتے رہتے تو اُنہوں نے فوراً پاک آرمی اور پریس کی نظر میں آ جانا تھا جس سے ہماری ایسٹیبلشمنٹ نے بہت زیادہ الرٹ ہو جانا تھا جبکہ پریس نے بھی آسمان سر پہ اُٹھا لینا تھا کہ پتہ نہیں کلدیپ نئیر کے ذریعے خفیہ طور پہ نوازشریف، گجرال کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر کون سی سودے بازی کر رہا ہے۔

لہذا دہلی میں ہی ہم نے یہ طے کر لیا تھا کہ کلدیپ نئیر صاحب گجرال صاحب کا پیغام نوازشریف صاحب کو پہنچانے پاکستان آئیں گے تو سہی لیکن اسے بسنت منانے والے ایک کلچرل پنجابی وفد کی آڑ میں رکھا جائے گا۔ اور پھر ہوا بھی یوں ہی کہ بڑے بڑے قومی اخبارات نے بھی ہمارے وفد کی بسنت کی مصروفیات اور گونر ہاؤس لاہور میں سُریندر کور کی لوک گائیکی کی بڑی بڑی خبریں شائع کیں، حتیٰ کہ اُس وقت کے بہت ہی رجعت پسند سمجھے جانے والے ضیاء شاہد نے بھی سُریندر کور جی اور بھارتی وفد کو خبریں اخبار کے اپنے دفتر میں بلا کر ان سے خود ملاقات کی۔اِسی طرح جنگ اخبار نے بھی سُرندر کور جی اور ورلڈ پنجابی آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل وِکرم جِیت سنگھ ساہنی اور چند دیگر نمایاں پنجابی مہمانوں کو اپنے ہاں "جنگ فورم" میں بُلا کر ہمارے وفد کے دورے پہ رنگین ایڈیشن چھاپے تھے۔
اور یوُں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ اصل میں دونوں پنجابی وزراء اعظم کے مابین کوئی خفیہ سفارت کاری ہو رہی تھی، ورنہ جیساکہ مودی کے عہد میں سجن جندال نواز شریف کو مری میں آکے ملا تو پریس نے سر آسمان پر اُٹھا لیا اور سیاسی مخالفین کی طرف سے آج تک نواز شریف کے خلاف سجن جندال سے مری میں ملنے کو پراپیگنڈہ کے طور پہ بطورِ غداری جِتلایا جاتا ہے۔
تاہم میں شاباش دیتا ہوں کہ گجرال صاحب نے کلدیپ نئیر صاحب کو پنجابی وفد کی آمد میں لپیٹ کے بھیجا تو اُس وقت نوازشریف صاحب نے بھی گجرال کے نمائندے سے ملنے کے لئے کمال احتیاط کی اور پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد میں ہمارے وفد کو لنچ تو دیا لیکن پرائم منسٹر ہاؤس کے اندر کہیں بیٹھ کے کلدیپ نئیر صاحب کے ساتھ بات چیت کرنے کا رِسک نہیں لیا تھا، کیونکہ پرائم منسٹر ہاؤس میں ہونے والی ہر بات پتہ نہیں کون سے آلات کے تحت سیدھی کسی اور مخصوص جگہ پہ جا سُنائی دیتی ہے۔ لہذا نوازشریف صاحب نے کمال ہوشیاری اور چالاکی اور پلاننگ سے کلدیپ نئیر صاحب کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور موٹر وے کے ذریعے لاہور لے گئے اور ان چار گھنٹوں کے سفر کے دوران دونوں نے باہمی مسائل پر سنجیدہ اور مخلصانہ گفتگو کر لی۔
اور پھر مذاکرات کے اگلے راؤنڈ کے لئے پرائم منسٹر صاحب نے ہمیں گونر ہاؤس لاہور کے وسیع لان میں لنچ پر بلا لیا جہاں باقی مردوخواتین گورنر ہاؤس کی خوبصورتی دیکھنے اور کھانا کھانے میں مگن رہے جبکہ نوازشریف صاحب کلدیپ نئیر صاحب کے ساتھ دونوں قوموں کے لئے قابلِ قبول مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل پہ غور کرتے رہے۔
تب پنجاب کے گورنر شاہد حامد ہوا کرتے تھے لیکن وہ اور اعتزاز احسن صاحب وفد کے باقی پنجابیوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف رہے اور نوازشریف اور کلدیپ نئیر صاحب کی تخلیے میں کیا باتیں ہوئیں ان سے وہ بھی بے خبر رہے۔
میں بھی اس ملاقات کا شاہد تو ہوں لیکن براہِ راست دونوں کی گفتگو نہیں سن سکتا تھا۔
تاہم چونکہ میں کلدیپ نئیر صاحب کا میزبان اور ان کی نوازشریف صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کا سہولت کار تھا، لہذا کلدیپ نئیر صاحب نے نوازشریف صاحب کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے کچھ مندرجات مجھے بتائے بھی تھے، جنہیں میں نے اتنے سالوں سے کبھی کسی سے بیان نہیں کیا تھا، اور آج دو عشروں بعد بھی میں شہباز شریف کی صرف وہ کہی ہوئی بات لکھنے جا رہا ہوں جو انہوں نے اگلے سال 1999ء میں کہی تو ناشتے کی میز پہ پرکاش سنگھ بادل، کلدیپ نئیر اور سردار ترلوچن سنگھ جی سے تھی مگر پتہ نہیں کون سے آلات سے وہ کسی اور کے پاس چند لمحوں میں پہنچ گئی، اور یہی وجہ ہے ہر بڑی ایجنسی والے اُسی دن مجھ سے اور عاصم اعظم چودھری سے یہ پوچھتے رہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے تقسیمِ کشمیر کی آفر انڈیا کو (تین پنجابی مہمانوں کے توسط سے) کی ہے؟
(3)۔ خیر کُلدیپ نئیر صاحب تو 23 اگست، 2018ء کو 95 سال کی عمر میں نئی دھلی میں فوت ہوگئے تھے لیکن شہباز شریف کے ساتھ جس ملاقات کا میں ذکر کر رہا ہوں، اس کے ایک اور شہادتی سردار ترلوچن سنگھ جی ابھی بھی حیات ہیں، لہذا اُس تیسری بڑی پنجابی شخصیت جن کا میں اپنے اس کالم کے ساتھ تعلق جوڑنا اور اُنہیں بطورِ گواہ پیش کرنا چاہتا ہوں، کے بارے میں بھی بتا دوں کہ وہ اُس وقت یعنی 1999ء میں دھلی ٹُؤراِزم کے چئیرمین تھے اور میرے پاکستان آنے سے پہلے کے واقف تھے اور واجپائی صاحب کے وفد میں بھی شامل تھے۔سردار ترلوچن سنگھ جی دھلی ٹورازم کے چیئرمین بننے سے پہلے انڈیا کے ایک ہونہار بیوروکریٹ اور صدرِ جمہوریہ ھِند کے پریس سیکرٹری رہ چکے تھے۔ اور بعد ازاں وہ راجیہ سبھا (بھارتی سینیٹ) کے ممبر اور اقلیتی کمیشن کے سربراہ اور پتہ نہیں کن کن مزید عہدوں پہ فائز رہے۔
یعنی وہ ایک بڑی شخصیت ہیں جنہوں نے آخری عمر میں دنیابھر کے دورے کئے اور اپنے سکھ مذہب کے ساتھ جُڑے ہوئے عالمی سطح کے منصوبوں کو پروان چڑھایا۔
میں نے جن تین بھارتی پنجابیوں کا ذکر کیا اور تقسیمِ کشمیر کے حل کی تجویز دینے پر شہباز شریف کے معاملے میں انہیں گواہ بنایا ہے، یہ تینوں عالمی شہرت کی حامل شخصیات ہیں، اور خود بھی بھارتی سیاستدان ہیں اور تینوں کا اپنا ایک کیلبر تھا جن سے چند سال میرا بھی ذاتی تعلق قائم رہا۔چونکہ اب میاں شہباز شریف صاحب بذاتِ خود وزیراعظم پاکستان منتخب ہو چکے ہیں اور مسئلہ کشمیر بدستور حل طلب ہے، اور عمران خان صاحب کے اقتدار سے بے دخل ہوتے ہی، اور چھوٹے میاں صاحب کے اقتدار سنبھالتے ہی ہندوستان کے مُوذی پردھان منتری نے اُنہیں ٹویٹ کر کے مبارکباد بھی بھیجی ہے، اور مودی کی مبارکباد کے شکریے کے طور پہ شہباز شریف نے جوابی ٹویٹ بھی کردیا ہے، تو ہمیں سمجھنا یہ ہے کیا شہباز شریف صاحب کی 21 فروری، 1999ء کی "جموں تُہاڈا، تے کشمیر ساڈا" والی آفر ابھی بھی موجود ہے یا پھر کارگل وار کی وجوہات سے عبرت حاصل کرکے وہ تقسیمِ کشمیر کے ایجنڈے سے تائب ہوگئے ہیں؟
شہباز شریف صاحب نے جن تین بھارتیوں کو کشمیر آپس میں بانٹ لینے کی بات کہی تھی، ان میں سے سردار ترلوچن سنگھ جی اور پرکاش سنگھ بادل صاحب ابھی حیات ہیں، اور چونکہ یہ بات مجھے اور عاصم اعظم چودھری کو ان تینوں نے بذاتِ خود بتائی تھی، اور میرے کانوں میں ان کی بتائی ہوئی بات ابھی تک گونج رہی ہے، اور میرا حافظہ بھی فی الحال درست ہے، اور مجھ میں کشمیری قوم، اپنے لوگوں اور تاریخ کے سامنے گواہی دینے کی چونکہ جرأت بھی بدستور موجود ہے، لہذا شہباز شریف صاحب کے غالباً چناب فارمولے کی پیشکش کی مزید تفصیل اگلی قسط میں بیان کرنا چاہوں گا کیونکہ یہ ایک سیریس ایشو ہے۔
میں، مسئلہ کشمیر، شہباز شریف، چناب فارمولا، کارگل وار اور تاریخ کے سامنے کچھ شہادتیں۔امرِواقعہ کچھ یُوں ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی جی کے وفد میں شامل بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار پرکاش سنگھ بادل بھی لاہور آئے ہوئے تھے، لہذا پاکستانی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ ہونے کے ناطے شہباز شریف نے اُن کے دورے کے آخری دن، یعنی 21 فروری، 1999ء کو اُنہیں ملاقات کے لئے صبح ناشتے پر مدعو کر رکھا تھا۔ لاہور کے مقامی میرے مُعاون عاصم اعظم چودھری صبح ساڑھے آٹھ بجے اُنہیں اپنی ذاتی گاڑی میں پی سی ہوٹل سے شہباز شریف کے پاس 7-کلب روڈ لاہور لے کر گئے۔پرکاش سنگھ بادل کے ہمراہ کُلدیپ نئیر اور سردار ترلوچن سنگھ بھی تھے۔
عاصم ملاقات میں موجود نہیں تھے۔ لیکن ڈیڈھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد جیسے ہی تینوں ملاقاتی باہر آکے گاڑی میں بیٹھے تو عاصم اعظم چودھری نے اُن سے پوچھا کہ کیسی رہی ملاقات؟اِس پر سردار ترلوچن سنگھ جی نے (پنجابی بولتے ہوئے) کہا کہ: "بہت بڑھیا رہی جی ملاقات۔ بالکل اپنے پن کے ساتھ وہ ہم سے ملے۔ بڑی بے تکلفی کے ساتھ، بالکل ویسے ہی جیسے ایک پنجابی دوسرے پنجابی سے ملتا ہے۔ جاتے ہی شہباز شریف صاحب نے بڑے کُھلے ڈُلہے پنجابی انداز سے ہمیں کہا: "او چَھڈّو سردار جی۔ جموں تُہاڈا، تے کشمیر ساڈا۔"
اور ذاتی طور پر میں بھی آج گواہی دیتا ہوں کہ یہی بات اُن تینوں نے اپنی زبانی خود مجھے بھی بتائی تھی۔ سردار ترلوچن سنگھ جی چونکہ تقسیم سے پہلے میرے ہی ضلع جہلم کے ایک گاؤں ڈُھڈیال (موجودہ ضلع چکوال) کے جَم پل تھے، لہذا آپس میں گرائیں (بلکہ باپ بیٹا جیسے) ہونے کے ناطے میری اُن کے ساتھ بےتکلفی ذرا زیادہ تھی۔ اِسی طرح کُلدیپ نئیر صاحب کے ساتھ ٹریک ٹُو (شٹل ڈپلومیسی) کے حوالے سے بھی سنجیدہ باتیں ہوا کرتی تھیں، لہذا دونوں نے شہباز شریف سے ملاقات اور آئندہ کے پاک بھارت تعلقات کے اُمید افزاء ہونے کے بارے میں مزید کچھ باتیں بھی مجھے بتائیں۔
تاہم چونکہ میرا موضوع مسئلہ کشمیر کے بارے میں شہباز شریف کی تین بھارتی پنجابی اسٹیک ہولڈرز کو دی گئی یہ آفر تھی کہ "(غالباً چناب فارمولے کے تحت) جموں (و لداخ کا ہندو اکثریتی علاقہ) آپ رکھ لیں جبکہ کشمیر (مسلمان اکثریتی علاقہ) ہمیں دے دیں۔" لہذا اب جبکہ شہباز شریف صاحب خود وزیراعظم بن چکے ہیں تو میں اِسی بات کو آگے بڑھاؤں گا کہ کیا اب بھی یہی حل اُن کے ذہن میں کہیں نہ کہیں موجود ہے یا اب کے بار وہ وہی کچھ کریں گے جیسے جیسے ایسٹیبلشمنٹ اُنہیں کہے گی؟
شہباز شریف صاحب سے ملاقات کے بعد تینوں بھارتی مہمان ہوٹل واپس لوٹے ہی تھے کہ اُس کے فوراً بعد پی سی ہوٹل میں موجود (تعینات) کچھ انٹیلیجنس والوں نے ہم سے پوچھنا شروع کر دیا کہ کیا واقعی شہباز شریف نے جموں بھارت کو دے دینے کی آفر کی ہے؟ ہم دونوں (عاصم اعظم اور میں) نے سب کو یہی بتایا کہ ہم دونوں چونکہ ملاقات میں موجود نہیں تھے، لہذا یہ بات وہ اپنے طور پہ کنفرم کریں۔
عاصم چونکہ تنظیمی یا سیاسی بندہ نہیں تھا، لہذا وہ اِس بات پہ حیرت زدہ تھا کہ ناشتے کی میز پہ ہونے والی بات ہمارے پی سی ہوٹل لوٹنے سے پہلے پہلے خفیہ والوں کے پاس کیسے پہنچ گئی۔لیکن میرے لئے ایسی باتوں میں کوئی استعجاب نہیں تھا، کیونکہ پاکستان میں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور یہاں پہ حکمرانوں کی سرگوشیاں بھی کہیں دُور سُنائی دیتی رہی ہیں۔
بیگم بھٹو بتایا کرتی تھیں کہ اُن کے ہر ٹیلیفون سیٹ کے اندر، ہر ڈرائنگ روم اور اُن کی قیام گاہ کے ہر حصے میں ایسے مائکرو اِنسٹرومِنٹ لگے ہوئے ملتے تھے جو بھٹو صاحب کی ہر بات اور ہم سب کی نقل و حرکت کہیں اور پہنچاتے رہتے تھے۔ بےنظیر جب پہلی بار وزیرِ اعظم بنی تو امریکی سفیر نے پرائم منسٹر ہاؤس کے ڈرائنگ رُوم میں بیٹھ کر اُس سے بات کرنے کے بجائے باہر لان میں ٹہلنے کی اُنہیں صلاح دی، اور پھر کُھلے صحن میں ٹہلتے ٹہلتے اُسے سمجھایا کہ بی بی احتیاط کیا کرو کیونکہ میٹنگ رُومز میں کی گئی آپ کی ہر بات کہیں اور سنی جاسکتی ہے۔
اور جیساکہ گزشتہ کالم میں، میں نے بھی بتایا تھا کہ گزشتہ سال (1998ء) کو وزیرِ اعظم نوازشریف صاحب نے بھی گُجرال صاحب کے نمائندے کُلدیپ نئیر صاحب سے اسلام آباد میں ہی بیٹھ کر دوطرفہ تبادلۂ خیال کرنے کے بجائے اُنہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور موٹروے کے ذریعے لاہور تک کے سفر کے دوران اُن سے پاک بھارت تعلقات پر گفتگو کرتے رہے۔ اور بات چیت کے اگلے راؤنڈ کے لئے بھی اُنہوں نے گونر ہاؤس لاہور کے لان میں ہی بیٹھنے کا اہتمام کیا تھا۔
بہرحال میں نے اپنی طرف سے بھی جب یہ گواہی دی کہ ہاں مجھے بھی تینوں (پرکاش سنگھ بادل، ترلوچن سنگھ اور کُلدیپ نئیر) نے ایسے ہی بتایا ہے جیسا کہ آپ نے کہیں سے سُنا ہے کہ "شہباز شریف نے اُنہیں پیشکش کی ہے کہ جموں اور کشمیر کو آپس میں بانٹ کر مسئلہ کشمیر حل کر لیتے ہیں۔" تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پی سی ہوٹل کی لابی میں بیٹھے ہوئے چند ذمہ داران نے اپنی اپنی ڈائریوں میں یہ بات باقاعدہ تحریر بھی کی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے آج 23 سال بعد بھی وہ الفاظ پھر سے روشن ہوگئے ہیں جو میرے نزدیک بیٹھے ہوئے ایک دوست نے یوں لکھے تھے:
"شہباز شریف نے سرداروں کو کہا ہے کہ آؤ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کشمیر بانٹ لیں۔ جموں تم رکھ لو اور کشمیر ہمیں دے دو۔" اِس سے آگے اُس نے کچھ کوڈ ڈالے تھے جو میری سمجھ سے باہر تھے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ سارا کچھ 23 سال بعد بھی مجھے یاد ہے تو کیا قومی سلامتی کے اداروں کے ریکارڈ میں شہباز شریف کی بھارتیوں کو کی گئی پیش کش موجود نہ ہوگی؟
تب تو یہ شخص ایک وزیرِ اعظم کا بھائی ہوا کرتا تھا، لیکن آج اُس شخص کو اتنے اہتمام کے ساتھ پارلیمنٹ میں نمبر گیم بناکے اگر وزیرِ اعظم بھی بنا دیا گیا ہے تو میں اپنی ایسٹیبلشمنٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اس کا 23 سال پہلے والا تقسیمِ کشمیر کا فارمولا بھی اُنہیں قبول ہے یا اب پاک بھارت تعلقات کے لئے شہباز شریف کی نہیں بلکہ ایسٹیبلشمنٹ کی ہی ہدایات اور خارجہ پالیسی چلا کرے گی؟

بہرحال میں 21 فروری 1999ء کی دوپہر کی رُوداد بتا رہا ہوں کہ مُجھ سے کچھ اہلکاروں نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اُن کے سامنے یہ بات کُلدیپ نئیر صاحب سے پھر سے چھیڑ کر کشمیر کے ممکنہ حل کے بارے میں شریف برادران کے ذہن میں موجود مزید تفصیل پتہ کروا کے دے سکوں؟
اصل میں وہ چاہتے تھے کہ میں کسی بہانے کُلدیپ نئیر صاحب کے کمرے میں جاؤں، اُن میں سے ایک سادہ لوح قسم کا سا میرا یار بن کے میرے ساتھ جائے، اور میں کُلدیپ نئیر صاحب سے کشمیر کے حل کے بارے میں پک رہی کھچڑی کے چند دانے اپنے ساتھ گئے ہوئے بندے کو چکھنے کا موقع دلواؤں۔ تاہم میں نے کُلدیپ نئیر صاحب کے رُوم میں اپنے ساتھ کسی اور کو لے کے جانا گوارا نہ کیا تھا۔
اُسی دوپہر گلبرگ کے دِی ویلیج ریسٹورنٹ میں بیگم عابدہ حسین صاحبہ کی طرف سے واجپائی صاحب کے وفد کے اعزاز میں لنچ دیا جانا تھا۔ لہذا یار لوگوں (اہلکاروں) نے مجھ سے درخواست کی کہ کچھ ایسا اہتمام کیا جائے کہ میں کُلدیپ نئیر، پرکاش سنگھ بادل اور ترلوچن سنگھ جی کو لے کر ٹھیک اُس ٹیبل پر لے جاکر بٹھا دوں جہاں وہ (ڈائری والے) پہلے سے جاکے بیٹھے ہوئے ہوں۔ اور یوں اُس ٹیبل پر ایسا ماحول بنایا جائے کہ باتوں باتوں میں کُلدیپ نئیر صاحب یہ بتادیں کہ تقسیمِ کشمیر کے منصوبے کے مندرجات یا خدوخال ہونگے کیا۔
لیکن ایسا ہو نہ پایا کیونکہ اُسی شام معاہدہ لاہور پر دستخط ہونے تھے، لہذا مذکورہ بالا تینوں شخصیات بھی گلبرگ آنے کے بجائے واجپائی صاحب کے ہمراہ پہلے مینارِ پاکستان اور پھر گونر ہاؤس لاہور چلی گئیں۔ لہذا کسی سائے کو اپنے ساتھ رکھ کر اُس دن مجھے دوبارہ اُن تینوں میں سے کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کا مزید موقع نہ مل سکا۔

اُدھر مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر اُس دن واجپائی صاحب نے بڑی اہم، تاریخی اور بہت ہی بامعنی بلکہ فیصلہ کُن بات کہی تھی کہ آج بھارت کے پردھان منتری کی حیثیت سے میں یہاں پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان ایک (اٹل) حقیقت ہے جسے میں قبول کرتا ہوں۔ ہم نے دو ہمسائیوں کی طرح اکٹھے رہنا ہے۔ آج سے ہم اپنے تعلقات اور دوستی کی ایک نئی شروعات کر رہے ہیں۔ ہم نے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے۔ مجھے پورا وِشواس ہے کہ اگر دونوں طرف نیک نیتی کا جذبہ موجود ہو تو ہم اپنے تمام تنازعات مل بیٹھ کے پُرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں، اور کشمیر کی سمسیا (مسئلہ کشمیر) بھی میں آپ کو بھگوان کی کِرپا سے (اِن شاءاللّٰہ) دس سے بارہ مہینوں میں حل کر دوں گا۔
آج میں یہاں اِس نِیتی (ارادے) سے آیا ہوں کہ"جنگ نہ ہونے دیں گے۔" اور ہم جو پہلے ایک ہی دھرتی ماتا کے بیٹے تھے، لیکن ہم میں بٹوارہ ہو گیا۔ پرنتُو بھائی اپنے بھائی سے کب تک خفا رہ سکتا ہے۔ آج مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میں اپنے بھائی کے گھر آیا ہوں، اور آپ بھائیوں کا پیار لے کے واپس بھارت جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔(میں نے واجپائی صاحب کی تقریر کا مفہوم یہاں دیا ہے۔ اُن کے الفاظ اور ترتیب الگ ہو سکتی ہے).
منٹو پارک میں مینارِ پاکستان کے چبوترے پہ کھڑے ہو کر واجپائی صاحب کا ایک سال کے اندر اندر مسئلہ کشمیر حل کر دینے کا واشگاف اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں وُزرائےاعظم کے مابین کشمیر کے کسی ممکنہ حل پہ اتفاق ہو چکا تھا۔تو کیا وہ تقسیمِ کشمیر کا (غالباً چناب فارمولا) تھا جس کا اظہار اُسی صبح ناشتے کی میز پہ شہباز شریف صاحب نے کیا تھا؟ تو پھر کارگل کیوں ہوا؟
21 فروری 1999ء کی شام کو معاہدہ لاہور پہ دستخط ہوئے، اور مئی میں ہی کارگل کا معرکہ کیوں شروع ہو گیا جس نے معاہدہ لاہور اور امن کے سارے عمل کو ہی سبوتاژ کر کے رکھ دیا اور یوں ہم ایک تاریخی موقعے سے محروم ہو کر ابھی تک دشمنی اور مستقبل کی کسی ہولناک ایٹمی جنگ کے خوف کے سائے میں رہ رہے ہیں جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سارے کا سارا کشمیر ہم جنگ کر کے اب بھی لے سکتے ہیں نہ مستقبل میں بھی کبھی لے پائیں گے۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ معاہدہ لاہور کو کارگل والے نے اِس لئے سبوتاژ کر دیا تھا کیونکہ اُس وقت کے مُطلقُ العنان وزیرِاعظم نے مسئلہ کشمیر پر واجپائی صاحب کے ساتھ کوئی معاہدہ یا وعدہ کرنے سے پہلے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو اعتماد میں لینا گوارا ہی نہیں کیا تھا۔
اور پھر یہ بات بھی جب سامنے آئی کہ جموں بھارت کو دے کر کشمیر لینے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں تو ہماری ایسٹیبلشمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کی نمائندہ حُریت کانفرنس سے اِس بابت دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نواز شریف حکومت نے اِس معاملے میں کشمیریوں، جو کہ تنازعہء کشمیر کے اصل فریق ہیں، کو اعتماد میں لیا ہی نہیں تھا۔ یعنی اصل فریق (کشمیریوں) کو اعتماد میں لئے بغیر ہی ہندوستان کو جموں دے کر اور کشمیر لے کر معاملات طے کئے جا رہے تھے۔
پس حریت کانفرنس نے تقسیمِ کشمیر کے منصوبے کو ویٹو کر دیا اور یوں جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا محاذ کھول کر نواز-واجپائی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
لیکن مسئلہ تو بدستور حل طلب ہے جسے حل تو آخر کرنا ہی ہے، تو پھر اِس کا، مسئلہ کشمیر (اور خطے) کے تمام فریقوں؛ پاکستان، بھارت، کشمیریوں، گلگت بلتستان کے لوگوں اور چین کے لئے، کون سا ایسا ممکنہ، قابلِ قبول اور منصفانہ حل ہو سکتا ہے جس سے ہم خطے کی دو ارب کے لگ بھگ آبادی کو جنگ اور غربت کے عذاب سے بچا کر دوستی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکیں، اس پر اگلے کالم میں بحث کریں گے۔


ڈائری کا اگلہ حصہ


افکار و نظریات: میری ڈائری۱