سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی تقریب تقسیم اسناد
رپورٹ سید کمیل گردیزی

گزشتہ روز سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے زیرِ اہتمام تقریب تقسیم اسناد منعقد ہوئی۔ تقریب کا انعقاد قم المقدس میں ہوا۔  تلاوت قرآن مجید کا شرف محترم عارف بلتستانی نے حاصل کیا۔

پروگرام کا افتتاحیہ بیان کرتے ہوئے آغانذر حافی نے معزز مہانوں کو اس تقریب میں خوش آمدید کہا اور مقبوضہ کشمیر پر قابض استعمار کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے سے معزز قلمکاروں کی کاوشوں اور جدوجہد کو سراہا۔

ان کے بعد اراکین اجلاس نے علم، قلم، معاشرے اور استعمار شناسی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔

قلمکار حضرات نے اس موقع پر حضرت امام حسن ؑ کو اپنے لئے ایک بہترین نمونہ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ نے اپنے قلم سے جبر و استبدادکو بے نقاب کیا۔

معزز دانشوروں کی طرف سے صلح حدیبیہ اور صلح امام حسن ؑ کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ 
تقریب میں نجف اشرف سے تعلق رکھنے والی مہمان شخصیت سید ذہین کاظمی نے بھی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ ماہِ مبارک رمضان کے فلسفے، حضرت امام حسنؑ کی سیرت اور حضرت امام علی ؑ کی تعلیمات کے مطابق ہمیں اصلاحِ معاشرہ کے لئے سرگرم رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ 


تقریب کے مہمانِ خصوصی علامہ ڈاکٹر سید شفقت شیرازی تھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر قلم فرسائی کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ملک کی تازہ ترین صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔

ان کے مطابق پاکستان کو استعماری طاقتوں کے چنگل اور غلامی سے نجات دلانا یہ ہر فرزندِ پاکستان کی اوّلین خواہش ہے۔ اس موقع پر انہوں نے معزز قلمی و علمی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کو استعمار کے قبضے سے نجات دلانے کیلئے ہمیں ایک لمبی نظریاتی جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مردہ باد امریکہ ہمارے لئے صرف ایک نعرہ نہیں ہے اور نہ ہی یومِ مردہ باد امریکہ منانا صرف ایک رسم ہے بلکہ یہ ہمارا اور ہر محبِ وطن پاکستانی کا وژن ہے۔ 
تقریب کے اختتام پر سپورٹ کشمیر فورم کی طرف سے محترم نذر حافی نےبہترین لکھاریوں اور سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی فعالیت کیلئے  جدوجہد کرنے والی شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا۔

 تفصیلات کے مطابق مہمان خصوصی نے اس موقع پر محمد بشیر دولتی، جواد پاروی، ابراہیم شہزاد، محمد صادق جعفری، محمد حسین چمن آبادی،سید علی کمیل گردیزی، عارف بلتستانی،محمدعلی شریفی، آفتاب علی اتحادی،ناصر حسینی،افتخار نقوی،عبد الحمید منتظر،رجب علی،سید ذہین کاظمی،منظوم ولایتی،اکبر ترابی،تنویر مطہری اور منظور حسین حیدری کو اپنے ہاتھوں سے اسناد اور شیلڈز عطا کیں۔

تقریب کا اختتام مظلوم کشمیریوں اور فلسطینوں کی آزادی، وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی اور حضرت امام مہدی ؑکے ظہور کی دعا و افطاری کے ساتھ کیا گیا۔

 

 


افکار و نظریات: تقریب تقسیم اسناد