ابنِ مُلجم کی نسل
نذرحافی

ابنِ ملجم کا تعاقب ضروری ہے۔چونکہ امام علیؑ کوصرف شہید نہیں کیا گیا بلکہ تختہ مشق بنایا گیا۔ بنو امیّہ نے کبھی امام علیؑ کو بے نمازی ، کبھی نعوذباللہ کافر ، کبھی واجب القتل اور کبھی بے عمل کہا ۔ یہ آدھا سچ ہے کہ بنو امیہ نے آلِ رسولﷺ پر مظالم ڈھائے ہیں جبکہ پورا سچ یہ ہے کہ بنو امیّہ تو ساری انسانیت کے دشمن تھے، انہوں نے خلیفہ اوّل کی اولاد حضرت عائشہ ؓ ، حضرت عبد الرحمن ابن ابوبکرؓ، حضرت محمدابن ابو بکرؓ سمیت حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ، حضرت عبدللہ ابن زبیر ، حضرت ابوذر غفاریؓ،حضرت عمار یاسرؓ اور حضرت عبدالله ابن عبّاسؓ جیسی ان گنت نامور ہستیوں کے ساتھ بدترین اور ناروا سلوک کیا۔
یہ بات اتنی سادہ نہیں کہ ایک خارجی نے مسلمانوں کے خلیفہ چہارم کو شہید کر دیا اور بس۔
صرف ابنِ مُلجم کو ہی قاتل ٹھہرانا ، اسی پر لعنتیں کرنا اور اُسی کو بُرا بھلا کہہ کر بات ختم کردینا، یہ خود ایک سازش ہے۔آج اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ابنِ مُلجم نے امیرالمومنینؑ کو شہید کیا لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ ابنِ مُلجم تو اُموی نہیں تھا ، پھر وہ بنو امیہ کے ہاتھوں استعمال کیوں ہوا!؟

ابنِ مُلجم نے کیوں حاکمِ شام کے ایجنڈے کی تکمیل کی!؟
دوسروں کے ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے بے گناہوں کا خون بہانے والے تو آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہی تو اس زمانے کے ابنِ مُلجم ہیں، انہی کا تو ہم نے سراغ لگانا ہے ۔ ایسے لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو آسانی سے اغیارکے آلہ کار بن جاتےہیں۔
دین کا درست شعور نہ ہونے سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو حق اور باطل میں تمیز کرنا نہیں جانتے، جنہیں درست اور غلط کا فرق پتہ نہیں چلتا ،جو نعوذباللہ آدم ؑ اور ابلیس کو ایک جیسا اور بھائی بھائی کہنے لگتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی کا ابنِ مُلجم بنو امیہ کے ہاتھوں استعمال ہوا تھا اور آج کا ابنِ مُلجم ہندوستان، امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔یہ جو آج بچوں کے سکولوں پر حملے کر رہے ہیں، مسجدوں میں نمازیوں کو شہید کر رہے ہیں،اور لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہیں یہ ہمارے دور کے ابنِ مُلجم ہیں۔ انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک دینی فریضے کے طور پر حقیقت اور سچائی کو چھپایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے دیندار لوگ اپنے ہم مسلک یا پیٹی بھائیوں کی غلطیوں کو غلط نہیں کہتے۔

یاد رکھئے!

برطانیہ ، ہندوستان ،امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیلنے والے، نفرتوں کا پرچار کرنے والے اور بےگناہوں کو شہید کرنے والے ابنِ مُلجم نہ شیعہ ہیں اور نہ سُنی، لیکن اس کے باوجود ابنِ مُلجم جیسے ناسمجھ شیعوں میں بھی ہیں اور اہلِ سنت میں بھی۔ چونکہ دونوں طرف حق بات اور سچ بات کو چھپانے والے لوگ موجود ہیں، جب تک دنیا میں حق بات اور سچ بات کو چھپانے والے موجود ہیں تب تک دنیا میں ابنِ مُلجم پیدا ہوتے رہیں گے۔ابنِ مُلجم کی نسل یہی تو ہے جو آج بھی غلط کو غلط یعنی ابنِ مُلجم کو ابنِ مُلجم نہیں کہنے دیتی۔


افکار و نظریات: ابنِ مُلجم  ہے کون