اللہ کے خلاف جنگ

تحریر.  ابو ولی اللہ خان بہاولپور 

سوال,  کیا سود اللہ اور رسول اکرم ص کے خلاف جنگ ہے ؟
جوشیلے نعروں اور جذباتی تقریروں سے نہیں بلکہ محبت اعمال سے نظر آتی ہے, واضح ہے کہ کسی کے گھر میں حرام کا مال کھایا جارہا ہے تو اس کے اثرات گھر کے تمام افراد پر پڑیں گے, ایک ایسا شخص جو سارا دن اپنے جیسے انسانوں کو لوٹ کر شام کو اپنے بچوں کو کھلاۓ اور کہے کہ اس کے گھر میں اسلامی نظام ہے یہ سراسر زیادتی ہے اور مذاق  سوا کچھ نہیں, اسی طرح جب ہم ملک پاکستان کے نظام کی بات کرتے ہیں جو کہ سراسر فرعونی و یزیدی ہے ایسا نظام ہوتے ہوئے بھی مظلوموں کو انصاف کی امید کیسے ہو سکتی ہے, ہمارا معاشی نظام ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جسے علماء سو نے کبھی اہمیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا, کئ من گھڑت علماء معیشت پر بات نہیں کرتے بلکہ عبادت اور سیاست تک محدود ہیں اور تبلیغ بھی کرتے ہیں, جس ملک کے حکمران اور عوام اللہ سے جنگ کے لیے صف بندی کرتے رہے ہوں اور مزید جنگ جاری رکھے ہوئے ہوں وہ دنیا میں کیسے سر اٹھا کر جی سکیں گے یا ان کے نام کو قدر ملے گی ؟ جی ہاں  ! پاکستان میں سودی نظام کا عروج اس بات کی گواہی ہے سسکتے بلکتے مظلوم عوام اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ یہ غیر اسلامی نظام ملک و ملت کے لئے نقصان کا سبب بنا ہوا ہے, اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا " جو لوگ سود جیسی لعنت کھاتے ہیں وہ روز قیامت کھڑے نہیں ہوسکیں گے, مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بد حواس  کردیا ہو , یہ اس لیے کہ وہ کہتے تھے کہ تجارت بھی سود کی مانند ہے , حالانکہ اللہ ربّ العزت نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی سو وہ باز آگیا تو جو پہلے گزر چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جس نے پھر بھی لیا سو وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رییں گے " اسلام سودی نظام سے پاک معاشرہ کو پسند کرتا ہے, کیونکہ یہی سودی نظام ہی ہے جس نے فرعون کی شکل میں موسی علیہ السلام سے جنگ کی, جس نے نمرود بن کر تو کبھی قارون بن کر خدا سے جنگ کی اور ستیاناس ہوگۓ, حسین ع کی جنگ بھی صرف سجدوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ آپ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام پورا اسلامی نظام چاہتے تھے ایسا نظام جو دین محمدی ص کے عین اصول و ضوابط کے مطابق ہو, عبادات تو یزیدی بھی کرتے تھے لیکن افسوس خود کو مسلمان بھی سمجھتے تھے اسلام میں کرسی و اقتدار کی ہوس کی خاطر نہیں بلکہ اسلامی نظام کی خاطر تلوار اٹھائ جاتی ہے, خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جنگ کی اور اس جنگ میں جناب علی پاک ع نے خلیفہ اول کا ساتھ دے کر ثابت کیا کہ اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن اسلامی نظام ہی واحد حل ہے جس سے انسانیت صحیح طرح سے فائدہ اٹھا سکتی تھی, میں نے آج کے دور میں بہت کم علماء اسلام کے سوا بہت کم دیکھا کہ علماء نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف فتوے دیے ہوں یا سودی نظام کے خاتمے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہوں, یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے اور سود جیسی لعنت میں دھنسے ہوۓ بھی جب چندہ دیتے ہیں تو ان کے چندے قبول کیے جاتے ہیں اور ممبر رسول اللہ ص پر متمکن ہوکر ان کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں, یہ بات کسی ایک مسلک کی نہیں کی سب میں ایسے عناصر موجود ہیں, سود خور مجالس پڑھا دیں تو ان کی تکریم میں اضافہ کیا جاتا ہے, ہمارے ملک کی ہر اہم کرسی پر زیادہ تر سود خور بیٹھے ہیں اس کا ثبوت یہی ہے ورنہ کب سے یہ ملک اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوتا,  لعنت ہے اس شخص پر یا اس ادارے پر اور ملوث تمام ایسے افراد پر جو سودی نظام کی بہتری کیلئے دوڑے دوڑے پھر رہے ہیں ابھی حالیہ جب شریعی عدالت نے فیصلہ دیا کہ ملک پاکستان کے معاشی نظام کو 5 سال میں سود کی لعنت سے پاک کیا جائے تو سامراجی طاقتیں اس فیصلے کے خلاف سرجوڑ کر بیٹھ گئیں, ایک سوالیہ نشان رہے گا کہ شریعی عدالت نے جماعت اسلامی کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ دینے میں اتنا عرصہ کیوں لگایا ؟ کیا بطور مسلمان آپ کو نہیں علم کہ قرآن پاک میں سود کو اللہ اور رسول اکرم ص کے خلاف جنگ لڑنے والے کہا گیا, آپ نے اس پر اتنا وقت کیوں ضائع کردیا, آپ کی نیت آپ کے ساتھ لیکن حساب تو ہوگا پھر بھی آپ نے بہترین فیصلہ کرکے مسلمان ہونے کا ثبوت دیا اور اس پر اللہ آپ کو بھی اور خاص طور پر درخواست گزاروں کو بھی اجر عظیم سے نوازے,  آمین , 
حالیہ دنوں میں ہی سنا ہے کہ حبیب بینک لمیٹڈ شریعی عدالت کے اس فیصلے سے کہ معاشی نظام سے سودی نظام کو ختم کیا جائے تو سامراجی بنک اس کے خلاف سٹے لینے کی دوڑ میں ہے یعنی سودی نظام کے حق میں ہے, میں نے اس بنک کے خلاف سٹیٹس لگایا تو بہت سے مسلمانوں نے اس پر کوئی کمنٹ نہ کیا سواۓ ایک دوست کے انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم بہت زیادہ نہیں کرسکتے تو کم از کم اس بنک کا بائیکاٹ ہی کردیں, بہتر تو یہی ہے کہ اگر حبیب بینک سودی نظام کے حق میں ہے تو سب کو ہی چاہیے کہ ہم اس سے بائیکاٹ کر دیں , ہر فرد کو اب اس فیصلہ کے حق میں کھڑے ہوجانا چاہیے کیونکہ برسر اقتدار جماعتوں نے بھی اس پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا سواۓ جماعت اسلامی کے جو شروع سے سودی نظام کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی آرہی ہے, اس فیصلے کے آجانے کے بعد مذہبی و سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اسلامی نظام کی خاطر آواز بلند رکھتے ہوئے موثر اقدامات کریں صرف تالیوں تک محدود نہ رہیں, جب تک ملک پاکستان کے معاشی نظام کو آئ ایم ایف سے آزاد نہیں کرا لیتے تب تک ملک کا ہر فرد غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے, پاکستان تحریک انصاف کے حکمران جو آزادی کے نعرے لگوائے جارہے ہیں انہیں چاہیے تھا اپنے دور حکومت میں معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کی کوشش کرتے, ن لیگ کے دور میں بھی یہ فیصلہ اسی طرح آیا تھا لیکن ن لیگ اس فیصلے کے خلاف سٹے لے کر ملک کو مزید معاشی غلامی میں گرفتار کرواتی گئ, کون سی پاکستان کی ایسی جماعت ہے جو آئ ایم ایف کے فیصلوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوجائے, ہاں جو جماعتیں ابھی سر اٹھا رہی ہیں وہ نعرے لگائیں تو اچھی لگیں گی, سودی نظام درحقیقت ایک حسین و جمیل دوشیزہ کی طرح ہے جس کی پہنچ سے دور ہے وہ نیک ہے جس کی رسائی ہے وہ بغل گیر ہے, اس نظام میں تقریباً تمام جماعتیں آئ ایم ایف کی غلام بنتی دیکھی گئی ہیں, خان صاحب ایک امید تھے لیکن انہوں نے خودکشی سے بہتر انداز سے نمٹا اور آئ ایم ایف کے پاس چلے گئے, خان صاحب حکومت میں آئیں یا نواز اور زرداری صاحبان کی جماعتیں جو بھی آۓ آئ ایم ایف سے ٹکر لے, اگر کسی نے اس نظام کے خلاف ٹکر لی تو عوام کو چاہیے اسے اپنا سپاسالار مانیں دل سے حکمران تسلیم کریں اور اس حکمران کی اطاعت کریں کیونکہ وہ اسلامی نظام کی خاطر اپنی ذاتی و جماعتی قربانیاں دینے کے بعد ہی کامیاب ہوگا, مقننہ, عدلیہ, انتظامیہ اور افواج پاکستان کو چاہئے کہ پھر ایسے حکمران کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں, ورنہ یہی روش یہی نظام تو اللہ سے جنگ کے ہے, قرآن عظیم میں واضح ہے کہ سود تو اللہ کے خلاف جنگ ہے, امید ہے کہ آپ سب اللہ کے خلاف نہیں بلکہ ایسے اداروں اور لوگوں کے خلاف جنگ کریں گے جو اللہ کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں, یہی جہاد ہے کہ سودی نظام کا خاتمہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں. امید ہے کہ آپ مسلمان بن کر سوچیں گے نہ کہ کسی جماعت کا کارکن, آپ کو چاہیے نبی کریم ص کا امتی بن کر قرآن کریم جو اللہ کی طرف سے رسی ہے کو مضبوطی سے تھام لیں گے.