تلاش حق اور انسانیت
🔏 ۔۔۔ جواد پاروی

انسانیت کا گوہر تلاش حق  ہے۔ تلاش حق کا جذبہ انسانی ضمیر کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ تعلیمات ثقلین سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحقیق اور واضح دلیل کے بغیر کسی بات کو مان لینا یا کسی کام کو انجام دینا کھلی گمراہی ہے لہذا تلاش حق ہر شخص کا فریضہ ہے اور آنکھیں ہوتے ہوئے روشنی اور تاریکی میں فرق نہ کرنا فکری کجی کی کھلی دلیل ہے۔
حق کی جستجو بنی نوع انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور اصل مقصد ہے کیونکہ آیات و روایات بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غرض تخلیقِ انسان معرفت ذات حق ہے۔ لہذا جو اس حقیقت سے بی خبر ہیں وہ در حقیقت مقصد حیات سے غافل ہیں۔ قرآن میں بھی اس طرف واضح اشارہ کیا گیاہے۔
’’ ومن کان فی ھذہ اعمیٰ فھو فی الآخرۃ اعمیٰ و اضل سبیلا ‘‘ (الاسراء۔۷۲ )
"اور جو اسی دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا"
اسی طرح رسول مکرمﷺ کا ارشاد پاک ہے:
" تلاش حق کے لئے تھوڑی دیر سوچنا سال کی عبادت سے بہتر ہے" (مصباح الشریعہ، ص، ۱۷۱) 
راہ حق تک رسائی اور حق کی بقاء کے لئے کی گئی کوششوں اور مساعی سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ سانحہ کربلا حمایت حق اور تلاش حق کا ایک بہترین نمونہ اور مکتب ہے اور قیامت تک حق پرستی کا علمبردار ہے۔ تاریخ بشریت کا سب سے دلسوز یہ سانحہ اسی مقصد کے حصول کے لئے کی گئی جدوجہد کا وہ روشن باب ہے کہ جس کے چراغ سے آج تک راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہزاروں مسافر اپنے راستے کی تاریکیوں کو نور کی روشنی سے منور کرتے آرہے ہیں۔کربلا کے مکتب میں آج تک حق کے متلاشی لوگوں کے لئے جناب حر ریاحی اور ابن سعد جیسی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں ایک نمونہ حق بن کر تعلیم ثقلین کی روشنی میں اثبات حق اور اعلان حق کے لئے دنیا اور اپنے وقت کے فرعون کو ٹھکرا کر حسینی مشن کی تکمیل اور حق کے مددگاروں کی حمایت میں سر تسلیم خم کرتا ہے تو دوسرا نمونہ شر بن کر چند روزہ دنیا کی  چمک دمک کی امید موہوم کے لئے راہ حق کو جانتے ہوئے بھی دامن حق سے منہ موڑکر ہمیشہ کے لئے جہنم اور دنیاوی ذلت و پستی کو اپنا مقدر بنا لیتاہے
مکتب حق و معرفت کربلا، متلاشیان حق کے لئے بہترین درسگاہ اور راہنما ہے کیونکہ اس عظیم مکتب کا ہر باب حق و عرفان کی بلندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
خود امام عالی مقام نے حق کے ساتھ موت کو سعادت اور ظلم و باطل کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار قرار دیا ہے۔
امام عالی مقام فرماتے ہیں
" إنّی لَا أرَی المَوتَ إلاّ سَعادَةً وَ لَا الحَیاةَ مَعَ الظّالِمینَ إلاّبَرَماً"
(گزیده تحف العقول، ص ۳۷)
اسی طرح بنی ہاشم اور اصحاب امام عالی مقام نے سانحہ کربلا میں امام کی نصرت اور حق کی سر بلندی کے لیے قابل تقلید کردار ادا کئے ہیں۔
کربلا کے سفر کے دوران فرزند امام عالی مقام حضرت علی اکبر نے امام کی طرف سے کلمہ استرجاع ادا کرنے پر آپ سے سوال کیا۔ بابا جان! "اولسنا علی الحق؟"  کیا ہم پر حق نہیں؟ امام نے فرمایا بیٹا کیوں نہیں قسم بخدا ہم حق پر ہیں
تو جناب علی اکبرؑ نے فرمایا "باباؑ جب ہم حق پر ہیں تو پھر اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ موت ہم پر آگرے یا ہم موت پر جا گریں
"( طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 3، ص 309.)
 آپ کے اس فرمان میں حق و حقیقت کی شناخت اور اس پر ڈٹ جانے کے ساتھ باوقار اور جرات مند زندگی گزارنے کا مکمل درس موجود ہے
اسی طرح عصر عاشورا جسم پر تیر کے تیرہ زخم کھانے کے بعد سعید ابن عبداللہ کا یہ جملہ "أَوَفَيْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ" "کیا میں نے اپنے عھد کی وفا کی ہے یابن رسول اللہ" شناخت حق اور کمال معرفت کی وہ داستانیں ہیں کہ جو انسان کو حق و معرفت کے راستے پر چلنے کی تلقین کرتی ہیں۔
جویان حق کے لئے جناب حر کی مثال کربلا کی تاریخ میں معرفت حق و باطل کی حد فاصل ہے حق و باطل کے دو راہے پر اگر حر جیسی فکر پیدا ہو تو ایک لمحے کی ایسی فکر ستر سال کی عبادت سے بہتر ہوتی ہے جو بغیر معرفت کے انجام دی جاتی ہے
 انسان کا ہر نیا قدم اس کی حقیقت کی پہچان کراتا ہے  لہذا ہر ذی شعور اور صاحب فہم انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر اٹھنے والے قدم کا رخ معین کرے اپنی ذھنی سطح کا ادراک کر لے کہ اس کا ذھن صدائے حق پر لبیک کہتا ہے یا پھر ظاہری ماحول کے بے دست و پا رسومات کا حوالہ دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر حسینی قدم نجات اور موفقیت کا ضامن ہے اور داد و تحسین کا مستحق ہے جبکہ تلاش حق اور صراط مستقیم کی جستجو ہی محبت اہل بیت کی علامت اور دلیل ہے۔
کربلا کے واقعہ سے اگر ہم نے تلاش حق اور حق پرستی کا درس حاصل نہیں کیا تو گویا ہم نے مقصد حسین ابن علیؑ کو سمجھا ہی نہیں۔ زبانی جمع خرچ اور توھمات و خرافات سے نکل کر حقیقت کی شناخت کرکے اس کی تبلیغ و ترویج کریں تو یہ کربلا کے ساتھ وفاداری اورانس کا عملی اقدام ہو گا
تحقیق اور بررسی کے بغیر محض رسمی اور آبائی طریقوں سے مذھب کو ماننے سے جذبہ تحقیق ماند پڑ جاتا ہے ساتھ ساتھ خود ساختہ اورمن گھڑت رسم و رواج بھی شریعت مقدس کا حصہ بن جاتا ہے لہذا سوچئے اور غور و فکر سے کام لیجئے اوردعوت حق مبین کو قبول کرنے کے لئے آمادہ اور تیار رہیے.تاکہ اندھی تقلید سے محفوظ رہیں اور شریعت اور دین مقدس اسلام ،رسومات اور روایات کی حدود سے ہٹ کر حقیقی معنوں میں اپنے اصلی ھدف انسانیت کی ھدایت کی طرف گامزن ہوں کیونکہ یہی منتظرین امام زمانہؑ اور مقصد امام حسینؑ کے احیاء کا نسخہ کیماء ہے۔

 

 


افکار و نظریات: تلاش حق اور انسانیت