مسلم دانشوروں اور دانشگاہوں کے خلاف استعمار کی سازشیں

تحریر : محمد بشیر دولتی
حصہ ب

ملک خداداد پاکستان کے دانشور حضرات بھی ہمیشہ صہیونی اور استعماری طاقتوں کی آنکھ میں کانٹا بنے رہے کٸی مایہ ناز علما ٕ ڈاکٹر و دانشور ان کے آلہ کاروں کے ہاتھوں خاک و خون میں غلطاں ہوتے رہے یا جسمانی و روحانی اذیت میں مبتلا رہے ہیں۔

1- ڈاکٹر عبدالقدیر خان
محسن پاکستان، فخر پاکستان ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوۓ ۔آپ نے برلن ، ہالینڈ اور بلیجیم کے یونیورسٹیوں میں اعلٰی ساٸنسی تعلیم حاصل کی۔31 مٸی 1976ء کو ذولفقار علی بھٹو کی دعوت پر پاکستان آۓ جس کا پاکستان کے نمبر ون ایجنسی آٸی ایس آٸی نے کسی کو کانوں کان خبر ہونے نہیں دیا۔البتہ جب چڑیاں چگ گٸی کھیت ، ہالینڈ کی حکومت نے ان پر اہم معلومات چرانے کا الزام لگا کر مقدمہ داٸر کیا جسے ساٸنسدانوں کی ایک ٹیم نے جاٸزہ لے کر رد کرنے کے بعد ہالینڈ کی عدالت نے آپ کو باعزت بری کیا تھا۔آپ نے دن رات ایک کر کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جو کہ صیہونی اور استعماری لابی کے لیے ناقابل برداشت تھا لہذا جنرل مشرف کے دور حکومت میں ملک پاکستان پر ایٹمی مواد دیگر ملکوں کو فراہم کرنے کا الزام لگایا تو محسن ملت نے اس الزام کو اپنے سینے سے لگالیا۔یوں ان کی شخصیت کو عالمی میڈیا پہ مسخ کر کے پیش کیا گیا۔خدا کے لطف و کرم اور مضبوط آٸی ایس آٸی کی بدولت آپ ابھی تک استعماری آلہ کاروں سے محفوظ و سلامت ہے۔خدا سدا سلامت رکھے۔

2-ڈاکٹر عافیہ صدیقی
امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون ساٸنسدان 2 مارچ 1972 کو کراچی میں پیدا ہوٸی آپ نے اعلٰی تعلیم امریکہ میں حاصل کرنے کے بعد وہاں نوکری کرنے کی بجاۓ پاکستان واپسی کو ترجیح دی یوں 2002ء میں پاکستان واپس آٸی پھر دوبارہ امریکہ جاکر واپس آٸی تو ایف بی آٸی نے انہیں عالمی میڈیا پہ القاعدہ سے جوڑ لیا اس پر آپ کراچی میں روپوش رہی مگر 2008ء میں آپ کو کراچی سے یا افغانستان میں امریکی افواج نے تحویل میں لینے کے بعد باقاعدہ گرفتاری ظاہر کی اور آپ پر 9/11 کے واقعات سے متعلق دستاویزات اور طالبان کے لیے جوہری ہتھیار بنانے اور امریکی فوجی سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کے الزامات پر 23 ستمبر کو نیویارک میں امریکی عدالت نے 86 سال کی قید کی سزا سناٸی ۔ تب سے آپ امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع کارذویل جیل میں قید ہیں۔آپ تمام تر الزامات کو رد کر کے ان سب کو اپنے خلاف صہیونی سازش قرار دیتی ہیں۔

3- ارفع کریم رندھاوا

نو برس کی عمر میں ماٸکرو سافٹ سرٹیفاٸڈ پروفیشنل امتحان اعلٰی نمبروں سے پاس کر کے کم عمر ترین مائکرو سافٹویئر انجینٸر کا اعزاز جب حاصل کیا تو مائکرو سافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس نے خصوصی طور پر امریکہ بلاکر ملاقات کی ۔ امریکہ سمیت کٸی بیرون ممالک سے کام کی آفر ہوئی آپ جذبہ حب الوطنی کے سبب پاکستان میں خدمات انجام دینے کے لیے وطن واپس آئی۔کچھ عرصہ بعد پھر دعوت آنے پر امریکہ گٸی پھر واپس آئی مگر غیر متوقع طور پر سترہ سال کی عمر میں انتقال کرگٸی۔
اس جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات ہیں جو باشعور مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے اور عالمی استعمار کے ناپاک عزاٸم کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
ان کے علاوہ بھی ایران ، عراق ، لبنان کے کئی سائنسدانوں اور دانشوروں کو خفیہ انداز میں شہید کیا جاچکا ہے۔ جنہیں خود جان سے نہیں مار سکے انہیں اپنے آلہ کاروں ، ڈالر کے پجاریوں کے ذریعے مارا گیا اس کی واضح مثال عظیم فلاسفر شہید باقر الصدر اور شہید مرتضٰی مطھری کی شہادت ہے اور شہید موسٰی الصدر کی گمشدگی ہنوز قابل غور ہے یہ یہود وہنود کے وہ ناپاک عزائم ہیں جن کے خلاف کوئی نہ لکھتا ہے نہ بولتا ہے۔اسی وجہ سے مسلمانوں کا علمی میدان میں بہت نقصان ہوا ہیں ہے۔

مگر ہاں!
اب بھی نہیں لگتا کہ کوئی مسلمان سائنسی میدان میں پیشرفت کرےگا چونکہ استعمار ہمارے اداروں سے ہمارے شارپ دماغ جوانوں کو اٹھا کر لےجاتے ہیں پھر انہیں ڈاکٹرعاطف کی مانند گمراہ کردیتے ہیں وگرنہ ڈاکٹرعاطف جیسوں کا امریکہ جانے کے بعد قادیانی ہوجانا قابل غور ہے۔
ان مسلم دانشوروں اور سائنسدانوں کے اصل قاتل کون ہیں؟ مسلم سائنسدان اور دانشور کیوں قتل ہو جاتے ہیں؟ کیوں غائب ہوجاتے ہیں؟ المصطفٰی جیسی انٹرنیشنل یونیورسٹی پہ پابندی کیوں لگی جہاں ایک سو بیس سے زائد ممالک کے طلاب مختلف علوم حاصل کر رہے ہیں؟
یہ وہ سازشیں ہیں جنکے زریعے استعمار واستکبار مسلمانوں کو سائنسی پیشرفت وترقی سے دور اور اپنے زیردست رکھنا چاہتے ہیں ۔خدا تمام مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔
آخر یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آنا چاہیے کہ کیوں مسلم دانشور اغواء اور قتل ہوتے رہتے ہیں؟
کیوں ہمارے دانشوروں کے لیے مسلم ممالک قتل گاہ جبکہ یورپی ممالک پناہ گاہ بن رہے ہیں؟
کیوں ہماری درسگاہوں سے ذہین و فطین لوگوں کو اسکالرشپ کے نام پر لے جاکر وہیں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں؟واپس پلٹنے والوں کو مغربی ثقافت اپنانے کی تلقین کی جاتی ہے؟
حوالہ{قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ}
ہمارے ہزاروں شیعہ سنی علما ٕ کرام ، ڈاکٹرز ، انجینیٸرز وکیل اور اعلٰی افسران اپنے ہی ملکوں میں کیوں قتل ہوتے ہیں؟ آٸیں سوچیں سوچنے میں کیا حرج ہے۔۔۔۔۔؟



سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم