خدارا سوچیں!
از ✒️: ابراہیم شہزاد

آج یکم نومبر ہے۔ یہ یوم آزادی گلگت بلتستان ہے ۔ آزادی ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر جاننا ہے تو اس پرندے سے پوچھئے جو قفس میں محبوس ہے، اس ماں سے پوچھے جس کی نظروں کے سامنے اس کے رعنا جوان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے، اس باپ سے پوچھئے جس کے سامنے اس کی بیٹی کی عصمت دری کی جاتی ہے، اس بہن سے پوچھے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بھائی کو ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں، اس شامی بچے سے پوچھے جو فوٹوگرافر کے کیمرے کو بندوق سمجھ کر "ہینڈز آپ" کر لیتا ہے۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ ہم جشنِ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ان تمام شہداء اور مجاہدین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر ہمیں آزادی دلائی۔ تاہم ان کا شکر یہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ اس آزادی کو بچانا ہے۔

یاد رکھیے! "آزادی دلانے" سے زیادہ اہم "آزادی بچانا" ہے۔ آج سے ٹھیک پچہتر سال قبل ہمارے آباء و اجداد نے ڈنڈوں اور کلہاڑیوں کے ذریعے سے ڈوگرہ راج کا خاتمہ کر دیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک ہم لوگ "یکم نومبر" کو بطور "یوم آزادی" بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے آ رہے ہیں۔ منانا بھی چاہیے۔ زندہ قوموں کی نشانی یہی ہے کہ وہ اپنی تاریخ اور اپنی شخصیات کو کبھی نہیں بھولتیں۔ ڈوگرہ راج کے خاتمے کو تو پچہتر سال ہو گئے ہیں لیکن ہمیں آج تک ریاستِ پاکستان نے بطورِ پاکستانی قبول نہیں کیا۔


ڈوگرا راج سے آزادی کے محض 16 دن بعد ہمارے آباء و اجداد نے نعرہ تکبیر اور کلمہ طیبہ سے سرشار ہو کر نہایت خلوص اور نیک نیتی سے الحاق ِ پاکستان کا اعلان کر دیاتھا ۔ ان کے جذبہ ایمانی کو سراہا جانا چاہیے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان نے شروع سے ہی ہمارے ساتھ کوئی معقول رویہ اختیار نہیں کیا۔ پاکستان کے خزانے کا ایک روپیہ جی بی کی آزادی کے لئے خرچ نہیں ہوا، ایک سپاہی جی بی کی آزادی کی خاطر زخمی نہیں ہوا۔۔۔ پلیٹ میں رکھ کر ایک جنت نظیر وادی ان کے حوالے کی گئی لیکن اس کے باوجود ہمیں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ نظر اندازی کی پہلی مثال "آزاد گلگت بلتستان" کو کشمیر کاز کے استحکام کے لیے اقوام متحدہ میں پھر سے "متنازعہ" بنانا ہے۔

اس نو الحاق خطے کو اپنا حصّہ قرار دینے اور مساوی حقوق دینے کی بات تو در کنار اُلٹا ہماری آزادی سے ہی انکار کر دیا گیا۔ اب پاکستان میں یہ کونسی منطق حاکم ہے کہ یہاں صوبے چار اور وزیر اعلی پانچ ہیں؟!!!
انسانی حقوق کی بات کی جائے تو یہی پاکستان ہے کہ جو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا کرتا ہے لیکن گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر پاکستان کے لوگوں کو سانپ سونگھ لیتا ہے۔

اس جدید دور میں بھی جی بی کا تعلیمی معیار یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں طلبا و طالبات کو اپنے گھروں سے نکل کر بڑے شہروں میں اس لیے آنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے ہاں اعلی تعلیم کی سہولت نہیں ہے۔ معمولی قسم کے بیمار گھنٹوں سفر کر کے شہروں میں اس لئے آتے ہیں کہ ان کے علاقے میں معائنے کے اوزار ناپید ہیں۔ اور تو اور یہاں پر دوائیاں بھی وہ بھیجی جاتی ہے جن کے استعمال سے ایک بیماری ٹھیک ہوتی ہے تو دوسری بیماری سر اٹھانے لگتی ہے۔ جب دینے کی باری آتی ہے تو گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے اور جب لینے کی باری آئے تو "پاکستان کے ماتھے کا جھومر" ہے۔ جب دینے کی باری آتی ہے تو انسانی حقوق (جو کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق ہیں) نہیں دیتے اور جب لینے کی باری آتی ہے تو متنازعہ علاقے میں ٹیکس لگاتے ہوئے بھی کسی کو شرم نہیں آتی ۔ جب دینے کی باری آتی ہے تو ایک یونیورسٹی کے لئے مناسب وی سی دینے کو تیار نہیں جب لینے کی باری آتی ہے تو سی پیک جیسا عظیم پروگرام جی بی کے سینے سے گزار کر لے جاتے ہیں۔ جب لینے کی باری آتی ہے تو کے ٹو، سیاچن اور دریائے سندھ سے بھرپور فائدے اٹھا لیتے ہیں اور جب دینے کی باری آتی ہے تو ہمارے سٹوڈنٹس کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں داخلے بھی محدود نشستوں پر۔۔۔

جب لینے کی باری آتی ہے تو شراب پر بھی ٹیکس لے لیتے ہیں اور جب دینے کی باری آتی ہے تو ہمارا کوئی آفیسر مخصوص عہدے سے بڑھ کر آگے نہیں جا سکتا۔۔۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پاکستان کے دوسرے تمام پاک بھارت بارڈز کھول کر عزیز و اقارب ایک دوسرے سے ملنے آتے جاتے ہیں اور یہاں لداخ میں کسی کا ماموں، کسی کا چچا، کسی کی خالہ کسی کی بہن کسی کا بھائی سرحد پار ایک دوسرے کو بس تکتے رہنے پر مجبورہیں۔ اگر ہم پاکستانی ہیں تو پاکستانیوں کو میسر سہولتیں ہمیں بھی ملنی چاہیے۔

ہمیں بھی آئین چاہیے۔ ہمین بھی شہری حقوق چاہیے۔ ہمیں بھی شناخت چاہیے۔ ہمین بھی اچھی تعلیم چاہیے۔ ہمیں بھی اچھی صحت چاہیے۔ ہمیں بھی ترقی چاہیے۔ ہمیں بھی اچھی ملازمتیں چاہیے۔۔۔اس ملک میں کچھ شہریوں کو سب کچھ میسر ہے اور کچھ شہری اب بھی اٹھارویں صدی میں ۔۔۔ یہ کونسا انصاف ہے۔
اس سے پہلے کہ جوانوں کے دلوں میں امیدوں کی کرن مکمل طور پر ختم ہوجائے، مایوسی کی فضا قائم ہو، غیر ملکی ایجنسیوں کا پروپیگنڈہ سچ ثابت ہو، براہ کرم ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کریں کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں۔۔۔ خدا رااس ملک کیلئے کچھ سوچیں، ایسا نہ کریں۔۔۔ عوام کو اگر ایک مرتبہ یہ یقین ہو گیا کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں تو پھر انہیں پاکستانی بنانا مشکل ہو جائے گا۔


افکار و نظریات: خدارا سوچیں