سقوطِ کارگِل اور اعلان واشنگٹن

منظوم ولایتی

ہماری مسلِم تاریخ میں چند سقوط بڑے معروف اور نہایت ہی دلخراش ہیں۔جیسے سقوطِ غرناطہ،سقوطِ بغداد اور سقوطِ ڈھاکہ۔ اِن سقوطوں میں پاکستانی مسلمانوں کیلیے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سقوطِ کارگل آتا ہے۔

اِسی سقوط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنرل (ر) حمید گُل مرحوم نے اسُ زمانے کے معروضی حالات سے متعلق لکھا ہے کہ کرگل میں مجاہدین نے بھارت پر فیصلہ کن برتری صاصل کرلی تھی۔یہ فتح مجاہدین کی دس سالہ قربابیوں اور جہاد کا ثمر تھا۔ اِس کے نتیجے میں بھارت کی ایی لاکھ فوج محصور ہوکر رہ گئی تھی۔یہی نہیں بلکہ اِس سے پاکستانی قوم میں بےپناہ جزبہ پیدا ہوگیا تھا،فرقہ واریت ختم ہوگئی تھی،امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی رونما ہورہی تھی،ملی یکجیتی کی ایسی فضا پیدا ہوگئی تھی کہ پوری قوم متحد ہوکر نوازشریف کی آواز پر مرمٹنے کو تیار تھی۔ ہر طرف ایک ہی پکار تھی کہ بڑھے ہوئے قدم پیچھے نہ ہٹیں لیکن ہمارے لیڈر کے اعصاب جواب دے گئے شب کی تاریکی میں اسلام آباد سے واشنگٹن کا سفر بالآخر ایک تاریخی جرم پر منتج ہوا ایک طرف نواز شریف نے قوم سے رشتہ توڑ کر اور مفادپرست طبقے کا ترجمان بن کر امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کو ترجیح دے ڈالی اور دوسری طرف سرکاری ذرائع اِبلاغ نے عوام کے اندر مایوسی اور بددلی پھیلاکر دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے شروع کردیئے۔

اِس کے بعد حمید گُل لکھتے ہیں کہ اِس المناک ڈرامے کی کوکھ سے دو اہم سوالات نے جنم لیا ہے جن کا جواب پوری قوم پر واجب ہے:
پہلا سوال: کیا ہم ایک آزاد قوم ہیں اور کیا ہمیں اپنے فیصلے کرنے کا آزادانہ اختیار ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ہم غلامی پر ہی قانع اور رضامند ہیں یا آزادی کی جنگ لڑنے کیلیے تیار ہیں؟
دوسرا سوال: کیا پاکستان میں جمہوری نظام موجود ہے جہاں 99 فیصد عوام کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے فرد واحد پوری قوم کی قسمت کا فیصلہ کردیتا ہے؟

اگر قوم اِن سوالات کا جواب دینے پر تیار ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا۔ قوم کے پاس اب بھ وقت موجود ہے۔اِس معاہدے کے نفاذ تک خاصی مہلت ہے تمام لوگ اپنے فیصلے کا اظہار کریں تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دیا جاسکے کہ ملتِ بیضاء کٹ توسکتی ہے جھک نہیں سکتی۔

یاد رہے کہ سقوطِ کارگل سے متعلق جنرل حمید گُل کی مذکورہ بالا تحریر درحقیقت محمد آصف محمود صاحب کی کتاب " سقوطِ کرگل پسِ منظر ۔۔۔پیشِ منظر" کا مقدمہ ہے۔ جو 1999ء میں لکھی گئی ہے لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو آج بھی ہم نے اپنی اِن عبرت انگیز واقعات سے عبرت نہیں لیا اور اب بھی وہی 'چال بےڈھنگی' چل رہے ہیں۔

حمید گل صاحب کے دونوں سوالات جواب کے متلاشی ہیں۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔عہدے اور مناصب بانٹے جارہے ہیں اور عمومی فضا مکدّر ہے۔

کارگل کے وہ 'مجاہدین' جن کی قربانیوں کا جنرل حمید گل نے اپنی مذکورہ بالا تحریر میں تذکرہ کیا ہے وہ درحقیقت گلگت بلتستان کے 'ناردرن لائٹ انفنٹری جو (NLI ) کے نام سے معروف ہے، کے غیور جوان تھےجنہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہزاروں شہید ہوگئے ۔ بعض کے لاشے بھی پسماندگان تک نہ پہنچ سکے لیکن افسوس واشنگٹن کے ایک دورے نے اِن کی محنت پر پانی پھیر دیا اور قوم کی آزادی بیچ دی گئی اور یوں 'سقوطِ کارگل' کا دلخراش سانحہ پیش آیا۔ اس حوالے سے شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

جنہیں تعمیرِ گلشن میں لہو دینا نہیں پڑتا
وہ اکثر قوم کی آزادیوں کو بیچ دیتے ہیں

اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں۔ملک کے پیچھے رہ جانے والے علاقوں اور صوبوں کو کشمیر و گلگت بلتستان سمیت برابر کے وسائل و اختیارات دیے جائیں اور ملک وقوم کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے وگرنہ 'سقوطوں' کا سلسلہ تو تاریخ کا ایک انمٹ امر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ 'شیر کے انتخابی نشان' پر جیتنے والے وزیر اعظم نواز شریف نے نہ پارلیمنٹ کو بتایا نہ کابینہ کو اعتماد میں لیا بلکہ سرتاج عزیز، چوہدری نثار اور مجید ملک کے ہمراہ واشنگٹن روانہ ہوگئے اور ۴ جولائی ١٩٩٩ء کو امریکی صدر کلنٹن سے تین گھنٹے کی ملاقات کی جس کے بعد ایک معاہدہ ظہور پذیر ہوا۔ جس کو "اعلان واشنگٹن" کا نام دیا گیا۔

ذیل میں کارگل جنگ سے متعلق امریکی صدر کلنٹن اور اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے بیچ ہونے والا معاہدہ 'اعلان واشنگٹن' کے متن کے اہم نکات قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:

1.president Clinton and prime minister Nawaz Shareef share the view that the current fighting in the Kargil region of Kashmir is dangerous and contains the seeds of wider conflict.

"صدر کلنٹن اور وزیر اعظم نواز شریف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشمیر کے کرگل ریجن میں حالیہ لڑائی خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جب ہوسکتی ہے"۔

2.It was vital for the peace of south asia that the Line of Control in Kashmir be respected by both parties , in accordance with their 1972 Shimla Accord.

"جنوبی ایشیاء میں امن کیکیے ضروری ہے کہ فریقین 1972ء کے شملہ معاہدے کے مطابق لائن آف کنٹرول کا احترام کریں"۔

3.The President urged an immediate cessation of hostilities once these steps are taken.

"صدر (کلنٹن) نے اس بات پر دیا کہ ان اقدامات کے بعد ایک دوسرے کے خلاف جارحیت فوری طور پر بند کر دی جائے"

مزے کی بات یہ ہے کہ اِس معاہدے میں فریقِ مخالف بھارت شامل ہی نہیں تھا جس پر قوم آج بھی حیران ہے کہ یہ کیسا معاہدہ تھا؟ بعض تجزیہ نگاروں کے بقول تو یہ معاہدہ ہی نہیں تھا امریکہ بہادر کا حکم تھا جیسے ایٹمی پاکستان کے امیرالمومنین نے من و عن قبول کرلیا۔ یہ معاہدہ اِس قدر ذلت آمیز تھا کہ انڈیا ٹوڈے نے اپنے 2اگست کے شمارے میں لکھا:

"یہ معاہدہ اتنا مضحکہ خیز ہے اور اس پر نواز شریف کا اتنا تمسخر اڑایا گیا ہے کہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے کیلیے نواز شریف واشنگٹن گئے ہیں اٹل بہاری واجپائی کو نہیں جانا پڑا"

ایران میں رجیم چینج مشن


افکار و نظریات: سقوطِ کارگِل اور اعلان واشنگٹن