اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات جامعة المصطفیؐ العالمیه آپ نے بھی جامعة المصطفی العالمیه کا نام تو سُنا ہو گا۔ ایران کے شہر قم المقدس میں اس یونیورسٹی کا مرکزی دفتر ہے۔ جب بھی حدیث کے سکول آف تھاٹس کی بات ہوگی تو ایران کے شہر قُم کا ذکر ضرور ہو گا۔ چنانچہ صدیوں سے اس شہر کا ایک دینی و علمی مرکز ہونا اہلِ علم سے مخفی نہیں۔ تاہم قم المقدس میں موجودہ دینی و علمی حوزے کی بنیاد آیت اللہ عبدالکریم حائری ؓ نے ۱۹۲۲میں رکھی۔ آپ نے حوزہ علمیہ کی بنیاد بھی رکھی اور آیت اللہ بروجردی، حضرت امام خمینی، آیت الله سید محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ ہاشم آملی جیسے عظیم شاگردوں کی تربیت بھی کی۔ آیت اللہ حائری کی وفات کے بعد حوزہ علمیہ قم کی مدیریت آیت اللہ سید محمد حجت کوہ کامری، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ سید صدرالدین صدرنے کی۔ بعد ازاں حوزہ علمیہ قم میں آیت اللہ بروجردی کی آمد سے اس کی علمی رونق اور مقام میں اضافہ ہوا ۔آپ کے عہد میں ہی حوزہ علمیہ قم نے اپنی بین الاقوامی فعالیت کا آغاز کیا۔ آپ نے مدینہ منوّرہ میں تبلیغ کے لیے سید محمد تقی طالقانی آل احمد اور ان کی وفات کے بعد سید احمد لواسانی اور پھر شیخ عبدالحسین فقیہ رشتی کو بھیجا ، اسی طرح آپ نے سید زین العابدین کاشانی کو کویت، شریعت زادہ اصفہانی کو پاکستان، مہدی حائری یزدی کو امریکہ اور سید صدرالدین محمد تقی بلاغی نائینی کو یورپ میں اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
نذر حافی
اسلامی انقلاب کے بعد حوزہ علمیہ قم کی مدیریت میں مزید بہتری آئی۔۲۷ فروری ۱۹۸۱ کو حضرت امام خمینی ؓ اوردیگر مراجع عظام کی مشاورت سے حوزہ علمیہ قم کی مدیریت کیلئے پہلا گروہِ مدیریت تشکیل دیا گیا۔۱۹۹۲ میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی تجویز اور قم کے دیگر مراجع کرام کی منظوری سے ایک مرتبہ پھر حوزہ علمیہ قم کی سپریم کونسل تشکیل دی گئی۔ اس کونسل نے تمام تر منصوبہ بندی اور اہم فیصلے کیے اور انتظامی کام انتظامی کمیٹی کے سپرد کیا اور دینی مدارس کے مدیران کی تقرری اس کونسل کے سپرد کی گئی۔ رہبر معظم نے حوزہ علمیہ قم میں تحوّل اور تبدیلی کے حوالے سے اب تک کئی مرتبہ گفتگو کی ہے۔ آپ کی گفتگو کی روشنی میں ہی جامعۃ المصطفی ؐ العالمیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جامعۃ المصطفی ؐ کا متبادل نام المصطفی ؐ انٹرنیشنل یونیورسٹی ہے۔
اس یونیورسٹی سے پہلے ایران سے باہر کے دینی طلبا کی تعلیم و تربیت کیلئے قم المقدس میں "سازمان مدارس " اور"مرکز جهانی علوم اسلامی" کے نام سے دو مشہور ادارے سرگرم تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد دنیا بھر میں ایران کو صرف فقہ جعفری کا مرکز سمجھنے کے بجائے اسلامی معارف اور اسلامی آئیڈیالوجی کا مرکز بھی سمجھا گیا۔ چنانچہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا بھر سے تشنگان اسلام اور محققین نے بڑی تعداد میں ایران کا رُخ کیا۔ ایسے وقت میں ایک کلاسک اور قدیمی دینی مدرسہ ، آج کی جدید دنیا کے بدلتے ہوئےتقاضوں کے مطابق دنیا بھر کی علمی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ناکافی تھا۔ ایران کے رہبرِ اعلی ٰ نے چند سال اس ساری صورتحال کا مسلسل جائزہ لینے کے بعد فقہ جعفری کے علاوہ دیگر علوم میں بھی اجتہاد کی اہمیت پر زور دیا۔ آپ کے بقول :
اجتہاد صرف فقہ سے مخصوص نہیں ہے۔ عقلی علوم میں جیسے فلسفہ و کلام وغیرہ میں دیگر علوم کے ماہر افراد کا اجتہاد ضروری ہے۔ اگر یہ اجتہاد نہ ہوا تو ہم ٹھہرے ہوئے پانی کاجوہڑ بن جائیں گے۔ آپ کی گفتگو کا ایک بڑا حصّہ رائج حوزوی دینی تعلیم کے طریقہ کار میں تبدیلی پر مبنی ہے۔ آپ نے دینی مدارس کے مدیر حضرات اور اساتذہ کرام سے واشگاف الفاظ میں یہ کہا ہے کہ
" تبدیلی کی مدیریت کریں۔ تبدیلی سے فرار ممکن نہیں۔ تخلیق میں تبدیلی ایک فطری امر اور الہی سُنّت ہے۔آپ کسی ایسی اکائی یا ہستی[چیز] کو فرض کریں کہ جس میں حالات کے مطابق تبدیلی نہیں ہوتی تو وہ چیز دو میں سے ایک حالت میں ہو گی: یا تو اپنی موت آپ مر جائے گی اور یا پھر سب سے الگ تھلگ ہو جائے گی یعنی عضوِ معطّل بن جائے گی۔ ایسی شئے کو بدلتے ہوئے حالات کے ہنگاموں میں زندہ رہنے کا میدان نہیں ملتا، وہ روند دی جاتی ہے، صفحہ ہستی سے محو ہو جاتی ہے اور اگر بچ بھی جائے تو الگ تھلگ ہو جائے گی۔
ہم یہاں پر یہ بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حوزہ علمیہ میں تحوّل اور تبدیلی کی بات فقط کتابوں کی تبدیلی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک دینی مدرسے کے ڈھانچے اور شعبہ جات میں تبدیلی، اساتذہ کی تشخیص، اہلیت، انتخاب، اور تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی، طالب علموں کی استعداد کی شناخت ، طریقہ تدریس اور اندازِ امتحانات میں تبدیلی، دینی مدارس کی تحقیقی ، ورزشی،و ثقافتی سرگرمیوں میں حالات اور دور کے مطابق تبدیلی، علما کے تبلیغی طریقہ کار، دینی مدارس کی فلاحی و رفاہی خدمات اور عوام کے ساتھ دینی مدارس کے تعلقات و رابطے میں تبدیلی۔۔۔یہ سب تبدیلیاں مقصود ہیں۔ حوزہ علمیہ میں رہبر معظم کس قسم کی تبدیلی کے خواہاں ہیں، اُس کو سمجھنے کیلئے فارسی دان قارئین مندرجہ زیل لنک پر کلک کریں:تحول در حوزه
سال ۲۰۰۷ میں رہبرِ معظم کے حکم کی تعمیل کی خاطر آپ کے وژن کے مطابق "سازمان مدارس " اور"مرکز جهانی علوم اسلامی" کو ایک دوسرے میں ضم کر کےقم المقدس میں المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔اس یونیورسٹی کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای ہیں ۔ ان کے علاوہ مختلف ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ آف ٹرسٹیز ہے، اس بورڈ کو رہبر معظم سات سال کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ رہبر معظم کی سرپرستی میں یہ بورڈ آف ٹرسٹیز ہر پانچ سال کیلئے اس یونیورسٹی کے سربراہ کا تعیّن کرتا ہے۔
یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد میں سب سے اہم مقصد دینی تعلیم کو تحقیق محور بنانا اور اسلامی تربیت کے ساتھ مخلوط کرنا ہے۔ چنانچہ تعلیم کے شعبے کو تحقیق اور تربیت کے ساتھ مرکب کر دیا گیا ہے۔ اسے جدید اصطلاح میں ہائبرڈ ایجوکیشن کہتے ہیں۔اس نظامِ تعلیم میں کتاب اورالفاظ کا حجم کم کر کے اس کی جگہ جدید سوفٹ وئیرز ،جدید طرزِ تدریس،درسی مہارتوں، تحقیقی فعالیّت اور تربیتی سرگرمیوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس نظام تعلیم میں ایک ہی طریقے سے کتاب کو بار بار دہرانے کے بجائے مختلف انداز میں افہام و تفہیم کو اہمیت حاصل ہے۔ یہ افہام و تفہیم تحقیق و تربیت کے گرد ا گردہے۔ صاحبانِ علم جانتے ہیں کہ تحقیق سے انسان کے علم کی پیمائش ہوتی ہے اور سند یا ڈگری سے انسانی کی تعلیم کو ماپا جاتا ہے۔ مثلا ایف اے/ایف ایس سی، بی اے/ بی ایس سی وغیرہ سے انسان کی تعلیم کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ انسان کے پاس علم کتنا ہے۔ علم کی پیمائش کا پیمانہ تحقیق ہے۔ چنانچہ اس یونیورسٹی میں علم کو تحقیق محور قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایران کی وزارت تعلیم کی طرف سے تعلیی اسناد جاری کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔دوسری طرف تعلیم کو تربیت سے مرکب کرنے کیلئے کلچرل یا فرھنگی سرگرمیوں کے ساتھ بھی نظام تعلیم کو گرہ لگائی گئی ہے۔ اس نظامِ تعلیم میں بظاہر درسی کتاب ماضی کے مقابلے میں کچھ مختصر ہو گئی ہے لیکن درحقیقت ایک طالب علم کو ایک درس کیلئے کئی کتابیں کھنگالنے ، کئی اساتذہ سے رجوع کرنے اور مختلف آرا و نظریات کا مقائیسہ کرنا پڑتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آیت اللہ العظمی ٰ سید علی خامنہ ای صرف اس یونیورسٹی کے موسس اور نظارہ گر نہیں ہیں بلکہ اس کے پالیسی ساز اور فعال سرپرست بھی ہیں۔ جدید دنیا کی ماڈرن ضروریات کے مطابق علومِ دین کو نئی مہارتوں اور جدید اسالیب کے ساتھ سیکھنا اور سکھانا اس یونیورسٹی کی انفرادیت ہے۔دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں اس یونیورسٹی کے تعلیمی نیٹ ورک کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جان لیجئےکہ اس یونیورسٹی میں شیعہ مذہب کے علاوہ اہل سنت اور دیگر ادیان و مذاہب کے طلبا بھی حصول ِ علم میں مشغول ہیں۔ المصطفی ؐ یونیورسٹی میں صرف فقہ جعفری پڑھانے کا ہی اہتمام نہیں بلکہ علوم قرآن ، علوم حدیث، علومِ انسانی، علوم تاریخ، فقہ جدید و مقارن، مہدویت، سماجی علوم ، ادبیات ِ عرب،ادبیاتِ فارسی، ابلاغیات، علومِ سیاسی، علم التعلیم، عرفان سمیت متعدد علوم و فنون پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔
یونیورسٹی کے نظام تعلیم میں آنلائن کانفرنسز، سیمینارز، کلاسز اور تعلیمی سوفٹ وئیرز سےاستفادہ تو لازمی ہے ہی لیکن اس کے علاوہ الگ سے المصطفیٰ ورچوئل یونیورسٹی بھی موجود ہے۔المصطفی ؐ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات متعددزبانوں میں کئی ریسرچ جرنلز شائع کرتے ہیں اور مختلف زبانوں میں تحقیقی کتب اور مقالہ جات نشر ہوتے ہیں۔ المختصر یہ کہ جامعة المصطفیؐ العالمیه کے سمندر کو جس طرح کوزے میں بند کرنا محال ہے ، اُسی طرح اس کے وژن، اہداف، پالیسیز اور مشن کو سمجھے بغیر اس نعمت سے مستفید ہونا بھی ممکن نہیں۔
افکار و نظریات: جامعة المصطفیؐ العالمیه
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں