موسسہ قرآن و اہلبیت قم المقدسہ
تحریر ۔ حسن اقبال

پاراچنار مرکز کے زیر نگرانی موسسہ قرآن و اہلبیت، قم المقدسہ میں بہت عرصے سے اپنی فعالیت انجام دے رہا ہے ۔ بہت سارے علماء و طلبا نے اس موسسے میں اپنی خدمات انجام دی ہیں ۔ طلبا کیلئے بہترین ہاسٹل کے انتظام سے لیکر مختلف تعلیمی ، تربیتی ، تبلیغی ، ثقافتی برنامے شیڈول کے مطابق چلتے آرہے ہیں ۔ حالیہ کچھ دنوں میں موسسہ کے حوالے سے علماء نے ایک نشست کا انعقاد کیا ۔ جس میں سب نے متفقہ طور پر قانونی طریقے سے حوزہ علمیہ قم المقدسہ کے سینئر اور فعال طالبعلم آغای نجمل الحسن ابراھیمی کو آئندہ کیلئے مسئول کُل منتخب کر دیا گیا ۔

موسسہ قرآن و اھلبیت قم المقدسہ کے جملہ اراکین نے اس فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور مل کر چلنے کا عزم کیا ۔


قافلہ ہوگیا یکجا ۔ میر کارواں لگا رہا ہے صدا
اب ہوگا محبتوں کا سماں

مل کر چلے گا یہ کارواں
علم و عمل کی مہک ہوگی چہارسوں
نئے عزم و یقین کی ہے امید
اے میر کارواں

اب یہ الفاظ بھی راہ حیات تَک رہے ہیں ۔

مسئول کُل آغای نجمل الحسن ابراھیمی نے اپنے روش مسئولیت اور ایجنڈے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ روش قرآنی اور سیرت محمدی کے ذریعے موسسہ اور سرزمین شھداء پاراچنار کیلئے مخلصانہ اپنے ذمہ داری انجام دیتا رہے گا ۔ ان کے ایجنڈے میں احیاء تفکر شھداء کو رشد دینا شامل ہے کیونکہ شھداء قوموں کے محسن ہوا کرتے ہیں ۔

آزاد زندگی اور امنیت شھداء کی مرہون منت ہے ۔ یاد شھداء قوموں کو زندہ کرتی ہے ۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ پاراچنار میں جتنے مشکلات ہے علمی ، سیاسی ، اخلاقی و اقتصادی ان کا اساسی اور بنیادی حل ضروری ہے ۔ جن کیلئے خالص اور محکم ارادہ کارفرما ہے ۔ ثقافتی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اور خصوصا جوانوں کو بصیرت الھی کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔
مؤسسہ قرآن و اھل بیت علیھم السلام قم المقدسہ کے اراکین کا کل ایجنڈہ سیٹنگ اور تقسیم ذمہ داریوں کے حوالے سے مسئول محترم آغای نجم الحسن ابراھیمی کی سربراہی میں خصوصی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔ میٹنگ کا آغاز تلاوت کلام الھی سے ہوا ۔ اس کے بعد مسئول نے اراکین کے سامنے ایجنڈے کے حوالے سے گزارشات پیش کیئے ۔ سب سے پہلے گزشتہ مسئولین کا شکریہ ادا کیا اور ان کے خدمات کو سراہا ۔ اپنے ایجنڈے کو تین بُعد میں تقسیم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
1:سابقہ مسئولین کیلئے نیک خواہشات کا اظہار ۔
2: تقسیم کار
3: مردہ فنڈ ہمارے آج کے جلسہ کا موضوع ہوگا ۔
انہوں نے اپنے کلام کا آغاز اس آیه کریمہ سے کیا ۔
وما خلقت جن و الانس الا لیعبدون ۔
علما و عرفا کا مراد اس آیه کریمہ میں لیعبدون سے مراد لیعرفون ہے ۔ ھم مقام یعرفون تک کیسے پہنچ سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس دو راستے ہیں
1:راہ تخلیہ 2: راہ تحلیہ ۔
تخلیہ: یعنی خود کو اوصاف رذیلہ سے خالی کرنا ۔
تحلیہ: یعنی اوصاف الٰہیہ سے اپنے آپ کو مزیّن کرنا ۔
اگر یہ دو راستے انسان بصیرت الہی سے طے کرے تو وہ اس کے ذریعے الھی وادی میں داخل ہوسکتا ہے ۔
🔺اولین چیز عبادت ہے کہ جسکی وجہ سے یہ دو راستے حاصل ہوتے ہیں ، یعنی اپنے وجود کو عبادت سے مزین کرنا۔ عبادت انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی ۔ اجتماعی یعنی نماز جماعت ، نماز جمعہ و مھم ترین ایک ادارہ ہوتا ہے یعنی جس مقام پر ابھی ھم موجود ہے ۔ یہ موسسہ جہاں ھم نے ایک نیک کام کیلئے اجتماع کیا ہے ۔ یہ ایک اجتماعی عبادت ہے ۔
موسسہ اصل میں اسسہ ، یوسسو تاسیس یعنی خود کو بنانا ۔
🔺تاسیس تکوینی انسان یعنی خلقت انسان خداوند کے ذریعے سے، تأسیس تشریعی انسان: یعنی انسان کا خود اپنے کو خلق کرنا کہ مقام کسب خُلق بھی کہا جاتا ہے ۔

اس کے حصول کے لئے مختلف طرق اور راستے ہیں ۔ ان میں سے ایک مہم راستہ خدا کے لئے اجتماعی کام کرنا ہے۔ اگر انسان کا یہ اجتماعی کام خدا کے لئے ہو تو اس کے ذریعے سے مقام محمود تک پہنچا جا سکتا ہے ۔ اس کے مقابل انفرادی زندگی کی بھی اجازت ہے ایک محدود وقت کیلئے ۔ انسان کو خدا نے ایک اجتماع کیلئے خلق کیا ہے(الانسان مدنی الطب) ۔

اس عبادت کے ذریعے سے(اجتماعی کام)حق خلقت خدا حاصل ہوتا ہے ۔ اس اجتماعی عبادت کیلئے آپ لوگوں نے مجھے اپنا مسئول منتخب کرکے مجھ پر اعتماد کیا جس کے لئے میں آپ سب کا شکر گزار ہو لیکن مسئولیت یعنی خدمت ۔ اجتماعی حرکت شرط و شروط کے ساتھ ہے ۔ جسطرح حدیث لا الہ الا اللہ حصنی و من دخل حصنی امن من عذابی بشرط و شروط کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے ۔ برای نام مسئول ہونا خدا کے قریب نہیں کرتا بلکہ شرط کے ساتھ قرآن و اھلبیت کے روش کے مطابق اگر مسئولیت انجام پائے ۔ اسے بامقصد بنا کر اس کو ادامہ دیں تو پھر اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہمارا اختلاف ھدف میں نہیں بلکہ ھدف ایک ہے ، راستے اور روش جدا ہے مثل انبیاء کہ ہر کسی کا اپنا وظیفہ تھا لیکن تمام انبیاء کا ھدف ایک ہی تھا ۔

ھم اگر مسئول ہیں تو فقط اپنا نام بنانے کیلئے نہیں بلکہ دین و شھداء و خانوادہ شھداء کے مسئول ہیں ۔ شھداء نے ہمیں زندہ کیا ہیں ۔ ھم نے شھداء کے ھدف کو آگے بڑھانا ہوگا ۔

اس مؤسسہ کو اجتماعی عبادت سمجھ کر سب نے مل کر کام کرنا ہوگا ۔ طبق روش قرآن و اھلبیت علیہ السلام کے مطابق آگے حرکت جاری رکھنی ہوگی ۔ ہمیں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ مسئولیت میں سب کو برابر ایک نگاہ سے دیکھنا چاہیئے ۔ ایسا نہیں کہ کوئی ہمارا احترام کرے وہی ہمارے لیئے محترم ہے ۔ اگر کوئی احترام نہ کرے تو وہ دشمن معاذاللہ ۔ میں آپ سب کا خادم ہوں ۔ اگر میں کسی کا احترام کروں گا تو طبق روایات اھلبیت علیہ السلام کے مطابق ۔آپ سب طالبعلم ہے ۔

طالبعلم کیلئے تمام مخلوقات استغفار کرتے ہیں ۔ فرشتے ان کیلئے اپنے پر بیچاتے ہیں ۔ آپ سب کتاب مکنون ہے . عالَم پر نگاہ کروگے تو اپنی حقیقت سے آشنا ہو جاو گے ۔
🔺یہ ایک عبادت اجتماعی ہے اگر کسی نے اس میں خلل ایجاد کی تو قیامت کے دن اس کو جواب دہ ہونا پڑے گا ۔
الحمداللہ ایک بار پھر موسسہ وجود میں آیا سب کو کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی ۔ امیرالمومنین علیہ السلام جیسی شخصیت کیلئے مشکل تھا ۔

میری مسئولیت بچانے کیلئے اقدامات نہیں موسسہ کے رشد کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا ۔ اختلاف رائے آپ کا حق ہے۔
🔺 ھم کیوں اپنے صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاتے کہ مرکز کی نمائندگی مضبوط ہوجائے یہاں ہمارا مذاق نہ بنے ۔ اپنے کاموں میں جدیت پیدا کرکے پاراچنار اور مرکز کی حقیقی نمائندگی کرکے ان کا نام روشن کرے ۔
🔺تقسیم کار
اول ھیت اُمَناء یعنی مغز متفکر جو تِنک تینک کی حثییت رکھتے ہیں یہ افراد مسئول کے مشاور ہونگے ۔ ایسے افراد کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ذات کی بجائے قوم کا سوچتے ہیں ۔
دوسرا پژوھش کے حوالے ھم نے افراد کا انتخاب کیا ہے ۔
تیسرا گروہ فرھنگ کے حوالے سے ہوگا ۔
چوتھا گروہ میڈیا کا ہوگا ۔
پانچواں گروہ مالیاتی مسئولین کا ہوگا ۔
چھٹا فوڈ کمیٹی کے حوالے سے مسئول ۔۔
ساتواں خوابگاہ کا داخلی مسئول ۔
اور آخر میں میٹنگ کا اختتام دعای سلامتی امام زمان علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا ۔
اللھم عجل ولیک الفرج ۔
خداوند کریم ہمیں بہترین سربازان امام زمان علیہ السلام میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔

آمین


از طرف موسسہ قرآن و اھل بیت

قم المقدسہ ایران ۔۔۔


افکار و نظریات: موسسہ قرآن و اھلبیت