شہید رضوی اور مختلف شخصیات

منظوم ولایتی

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی آغوش میں پرورش پانے والی شخصیات تاریخِ انسانی میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ ایسے افراد آنے والے لوگوں کیلیے مشعلِ راہ بن کر رہنمائی کرتے ہیں۔ایسی شخصیات نصِ قرآنی کے مطابق "إِنَّ الَّذينَ قالوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقاموا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ المَلائِكَةُ(١)" کی عملی مصداق ہوتی ہیں، جن کی زندگی کے مختلف پہلو آنے والی نسلوں کی جہتوں کا تعین کرتے ہیں چونکہ ان شخصیات نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا بلکہ بقول شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبالؓ "اگر زمانہ با تو نسازد تو بازمانہ ستیز" پر عمل پیرا ہوکر حق کی خاطر استقامت کا راستہ اپناتی ہیں چاہے اس کیلیے اپبے خونِ جگر کو ہی بہانا کیوں نہ پڑے۔

وہ اسلیے کہ ان شہیدوں کا رہبر حقیقی معنی میں حسین ابن علی ع ہوتا ہے جس نے نوکِ سنا سے تلاوت قرآن کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیشہ اپنے لیے بلند اھداف کا تعین کرو جس کے نتیجے میں تم مارے جاو گے تب بھی سربلند رہو گے اور فتح کے پرچم تمہارے حق میں ہی گاڑھے جائیں گے۔ ایک ایسی ہی شخصیت شہید سید ضیاء الدین رضوی رحمة اللہ علیہ کی ہے۔ آپ کا تعلق پاکستان کے شمال میں واقع علماء خیر سرزمین گلگت سے تھا۔

ذیل میں شہید رضویؓ سے متعلق مختصراٙٙ چند شخصیات کے نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔

کتاب " شہید سید ضیاء الدین رضوی" کے مصنف استاد غلام حسین انجم دنیوری اپنی اِس کتاب میں "نابغہ روزگار" کے عنوان سے شہید سے متعق لکھتے ہیں: حجة الاسلام آغا ضیاء الدین رضوی اپنے خلوص نیت اور خدمت اسلام اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے پرعزم جزبے کی بدولت سرزمین گلگت کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گے۔ آپ کے اندر موجود زہد و تقویٰ اور روحانی کمال کی خاص صلاحیت نے آپ کے والد بزرگوار آغا سید میر فاضل شاہ بھی المعروف عادل سید کی یاد کو فراموش کرایا تھا اسی طرح زہد و روحانیت میں آپ اپنے والد بزرگوار کے نعم البدل تھے اس لیے مئی 1988ء کے سانحہ فاجع گلگت کے بعد قومی مرکز گلگت میں آپ کا وجود ملت تشیع کے لیے طاعث طمانیت تھا آپ کے اندر جزبوں کا سمندر تھا مگر آپ خاموش طبیعت اور کم گو تھے یعنی "موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں" کے مصداق تھے۔ آپ کوئی پیشہ ور خطیب نہیں تھے مگر بولنے لگتے تو خوب بولتے تھے اسی طرح آپ کی دینی فعالیت اور خلوص دیکھ کر عام لوگوں کو یقین ہوچلا تھا کہ آپ اپنے والد بزرگوار اور نانائے محترم کی طرح سیادت و روحانیت کے حوالے سے بلاتفریق مکتب ومسلک آپ کی علمی اور روحانی زندگی کافیض عام جاری ہوا ۔

موصوف آگے لکھتے ہیں کہ شہید رضویؓ جماعتی گروہ بندی سے الگ ہوکر سب کیلیے اسلام کے روحانی محور تھے کیونکہ روحانیت اور مذہبی قیادت کے حوالے سے آپ کی ذات سرزمین گلگت میں زہد و تقویٰ کے تناظر میں نابغہ روزگار تھی مگر مقامی خودمختار انتظامیہ کے زیراثر اداروں اور نمک خوار لوگوں کی متعصبانہ روش کی وجہ سے آپ کے اس خاموش سمندر میں ارتعاش پیدا ہوا تھا اور ان ناانصافیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا ہورہا تھا اسلیے آپ نماز جماعت وجمعہ اور دیگر مذہبی محافل ومجالس کے تبلیغاتی پروگراموں کے دوران علاقے کے مذہبی اور سیاسی مشکلات اور علاقائی قومی مسائل کے حوالے سے دوٹوک بات کرنے لگے(٢)۔

ْقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی اپنے ایک خطاب میں شہید آغا ضیاء الدین رضویؓ سے متعلق فرماتے ہیں کہ شہید ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔
انہوں نے بہت ہی قلیل عرصے میں ملت جعفریہ گلگت بلتستان کی شیرازہ بندی کی اور نوجوانوں کو متحد و منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان میں نصاب تعلیم کوتمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے انتھک محنت اور کاوشیں کیں۔ شہید ضیاء الدین رضویؓ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے حامی تھے اور علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی کو بر قرار رکھنے میں لازوال کرداراداکیا۔

آپ مزید فرماتے ہیں کہ شہید ضیاالدین رضوی زمانہ شناس اور وظیفہ شناس عالم دین تھے۔ شہید نے گلگت بلتستان کے عوام کے اجتماعی، سیاسی، سماجی اور تعلیمی حقوق کیلئے بھرپور جدوجہدکی۔ اُن کے افکار ونظریات نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں جنہیں اجاگرکرنے کی اشد ضرورت ہے اور اُن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا(٣)۔

مولانا اجمل حسین قاسمی صاحب اپنی ایک تحریر میں شہید بزرگوار کی خدمات کو اِن الفاظ میں یاد کرتے ہیں کہ
زندہ قوموں کا ہمیشہ سے یہ شعار رہا ہے کہ وہ اپنے محسنین کو کبھی فراموش نہیں کرتیں جس کی قربانی کی بدولت وہ دنیا کے نقشے پر ، پر وقار زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں ۔ زندہ قوموں کا کوئی فرد ایسا کارنامہ سر انجام دے تو اس کی یادیں کبھی دلوں سے محو نہیں ہوتیں بلکہ ان کی شخصیت ہر لمحہ تابندہ و جاودان رہتی ہے۔ شہید سید ضیاءالدین رضوی بھی ان محسنین میں سے ایک ہیں جن کو ملت تشیع پاکستان بالعموم اور ملت تشیع گلگت و بلتستان بلخصوص ہمیشہ یاد رکھے گی ،سید ضیاءالدین رضوی اک فرد کا نام نہیں بلکہ اک فکر ،اک جذبے ، اک حوصلے اور شعور کا نام ہے۔

آپ آگے لکھتے ہیں کہ یہ شہید کی مدبرانہ اور با بصیرت قیادت اور پالیسی کا نتیجہ ۱۹۹۴ کے انتخابات میں دیکھا جا سکتا ہے سیاسی میدان میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم پر پوری شیعہ قوم کو متحد کیا اور گلگت بلتستان کونسل کے پہلے انتخابات میں ۲۴ نشستوں سے ۸ نشستیں جیت کر بھر پور کامیابی حاصل کی ۔ اسی طرح ۱۹۹۹ کے قومی اسمبلی گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی شہید کی صدارت میں ٹی ۔جے ۔ پی نے بھر پور کامیابی حاصل کر کے ملت جعفریہ گلگت بلتستان کو سرخرو کیا ۔(۴)

کالم نگار ارشد جعفری اپنی کسی تحریر میں لکھتے ہیں کہ شہید ضیاءالدین رضوی امن کے داعی اور اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے۔شہید موصوف دوسروں کے مذہب اور عقیدے کا پورے دل سے احترام کرتے تھے۔شہید اس محاورے پر یقین رکھتے تھے کہ نہ کسی کے عقیدے کو چھیڑو ،نہ اپنا عویدہ چھوڑو۔ شہید یہ بات بھی پورے یقین سے کہتے تھے کہ اگر کوئی مذہب اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں پر ظلم ڈھاکر خود اونچے اونچے اور شیشے کے محلوں میں زندگی گزارنے کا خواب دیکھتا ہے تو یی اس کی بھول ہے۔

آخر میں شہیدؓ کی نصاب تعلیم کی تحریک کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں کہ شہید پرامن احتجاج کے قائل تھے نصاب تعلیم کی پوری تحریک میں کبھی بھی توڑ پھوڑ کی حمایت نہیں کی پرامن اور منظم احتجاج کے ذریعے حق کی آواز پاکستان کے گوشے گوشے تک پہنچائی(۵)۔ اللہ تعالی شہید کے درجات کو متعالی تر فرمائے۔ (آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١)سورہ فصلت۔آیت٣٠
٢)کتاب: شہید ضیاءالدین رضوی،ص 140
٣)https://ur.hawzahnews.com/news/365067
۴)https://www.jafariapress.com/