الوداع الوداع۔۔ اےمکہ الوداع

آج بوجھل دل اور اشکبار آنکھوں کیساتھ حرم کعبہ میں الوداع کیلئے موجود ہوں۔ حسنین کے نانا کے دربار اور جنت البقیع میں جگرپارہ رسول سیدہ زہرا اور آئمہ اہلبیت ع کی قبور مطھر، ام المومنین سیدہ خدیجہ س اور حضرت حمزہ ع کی پرنور قبور اور خاص طور پر خانہ خدا میں جو سکون قلب کی دولت میسر آتی ہے اس پر لکھنے کا ارادہ تھا مگر وہ ان شاءاللہ لندن پہچنے پر کسی وقت عقیدت کا اظہار اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کروں گا۔
سر دست کچھ کیفیات ہیں جو زیارات کے دوران دل پر بیتیں سوچا آپ سے شئیر کروں۔صفا، مروا، زم زم، حرمت کعبہ کے استعارے دیکھے، سنے تو سید سجاد اور مظلوم کربلا کے خطبے کانوں میں گونجنے لگے۔
أنا ابن مكة ومنى ، أنا ابن صفا ومروة ، أنا ابن محمد مصطفى ص.
زین العابدین ع نے فرمایا
اے لوگو! جو مجھے نہیں پہچانتا میں اس سے اپنا تعارف کرواتا ہوں،میں مکہ و منی کا بیٹا ہوں، میں صفا و مروہ کا فرزند ہوں، میں فرزندِ محمد مصطفی ص ہوں۔

وہ وقت یاد آیا جب سید سجاد اور مظلوم کربلا انہی حوالوں سے اپنا تعارف کراتے رہے۔ مگر نام نہاد مسلمانوں نے حیا نہ کی۔

کعبہ کے غلاف کو مس کرنے کی جب سعادت نصیب ہوئی تو سیدالساجدین اور زین العابدین کی رات رات بھر خشیت الھی سے کعبے کے غلاف کو پکڑ کر تڑپ، گریہ اور ریاضت یاد آئی۔

دیوار کعبہ کے شگاف کو بوسہ دیا تو حضرت فاطمہ بنت اسد اور مولا علی شیر خدا کی عظمت نے مبہوت کر دیا۔
غلاف کعبہ سے مس کردہ کفن پر ناز کرنے والے اور بخشش کی بجا امید کرنے والے ہم جیسوں کو اپنی سطحی فکری کو کتنا بلند کرنا ہو گا کہ وہ اس "علی" کے ادراک کے پہلے زینہ پر قدم رکھ سکیں کہ جس کی دنیا میں آمد پر کعبہ نے پہلی سلامی اپنی دیوار کو شق کر کے علی کی مادر گرامی کو اپنی آغوش میں سمو کر دی۔ واہ رب کعبہ تو نے علی کو پیدائش سے ہی امر کر دیا۔
حضرت ابراہیم اور اسماعیل کی کہانی یاد کی تو امام مظلوم مولا حسین اور ہم شکل پیغمبر علی اکبر کی کہانی نے آنسو رخساروں پر رواں کر دیئے۔
ایک کہانی میں قربانی مانگی گئی اور دوسری کہانی میں قربانی دی گئی۔ ایک کہانی میں باپ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور دوسری قربانی میں باپ کے ہاتھ میں بیٹے کے سینے میں پیوست برچھی کا پھل۔ ایک کہانی میں ایک ہی قربانی مانگ کر پھر دنبے سے بدل کر اکتفا کیا اور دوسری طرف بھائی بھتیجوں بیٹوں، اعوان وانصار کی بہتر قربانیوں کے بعد حسین ع کے جسم نازنین کے پرزے پرزے ہونے پر بھی بھلا کہاں رکی، پھر فضہ، کبری، صغری، زینب، سکینہ سید سجاد س سب کی قربانیاں اس کہانی میں رنگ بھرتی چلی گئیں

کہاں تک سنو گے اور کہاں تک سناؤں۔
کعبتہ اللہ کے ہر کونے میں اہلبیت کی عظمت اور رفعت کی کہانی نظر آئی۔
اور جب بضعتہ الرسول کی قبر اقدس پر ویرانی دیکھی، آئمہ اہلبیت کی قبروں پر گھپ اندھیرا دیکھا، جب ملیکتہ العرب سیدہ خدیجہ کی قبر کو بےنام کرنے کی مذموم کوشش دیکھی اور سردار عرب سیدنا حضرت ابوطالب، سیدنا عبدالمطلب حضرت یاسر و سمیہ کی جنت المعلاہ میں قبر پر نہ تختی نہ نشان دیکھا اور اہلبیت سے متعلق ہر نشانی کو مٹانے کی ہر مذموم کوشش اب بھی جاری و ساری دیکھی تو دل بار دیگر خون کے آنسو رویا۔
اہلبیت سے قدم قدم پر تعصب اب بھی روا ہے۔ ان کی نشانیاں مٹانے کی ہر ممکن کوشش اب بھی جاری ہے۔ لگتا ہے ظالمین اب تو اہلبیت اطھار اور رسول کے خانوادے کی قبروں سے بھی خوف زدہ ہیں اور ابھی تک حتی ان کی قبروں سے حالت جنگ میں ہیں۔

تھے وہی زہرہ ؑ تیری تربت کو مٹانے کے لیے
ہاتھ جو اٹھے تھے تیرا گھر جلانے کے لیے

سخت وحشت انگیز اور آمرانہ فضا اور ظالم حکومت کے سخت کنٹرول اور تسلط کو دیکھ کر ایک بار پھر سید سجاد کی حکیمانہ روش کو سلام عقیدت پیش کیا کہ بظاہر ایک نحیف اور لاچار و بے بس شخص مگر عظیم مدبر اور مفکر کہ جس نے بے پناہ حکمت سے مقابلہ کا انداز بدل دیا اور دعا کے قالب میں ظالم کا مقابلہ کر کے اگلی نسلوں تک اپنا پیغام پہنچا دیا۔
یہ اسلام محمدی، یہ قرآن یہ کعبہ یہ سب ہم تک اہلبیت کی لازوال اور بے مثال قربانیوں کے سبب پہنچا۔
بس آخر میں اپنے دامن عمل کی طرف دیکھا تو شرمندگی، خجالت اور احساس ندامت کے سوا کچھ نہ تھا۔
اے رب کعبہ ہمیں اہلبیت کے عظیم مشن اور قربانی کو درک کرنے اور اس کارہائے عظیم کو آگے بڑھانے والے اہلبیت کے حقیقی محبین میں شامل کر لے۔ مہدی برحق کے حقیقی جانثاروں میں شامل کر دے اور قائم آل محمد کے ظہور میں تعجیل فرما تاکہ ظالم اپنے انجام کو پہنچیں اور مظلوموں کو بول بالا ہو۔
ایک عجیب سی خواہش ہے کہ کاش مہدی برحق کی حکومت میں آپکی دادی کے پاس جنت البقیع، روضہ رسول اور جنت المعلی پر حاضری کی سعادت نصیب ہو۔

تبرید حسین
9 جنوری 2023
2 بجے شب
در حرم کعبہ ( مکہ مکرمہ)