ایک سو پچاس جعلی اصحاب

(پہلی جلد)

تالیف: علامہ سید مرتضی عسکری
ترجمہ: سید قلبی حسین رضوی
اجمالی نظر:۔ سید احتشام علی کاظمی
جیمس رابسن کا مختصر تعارف 👇
پیدائش۔ ۱۸۹۰,تعلیمی قابلیت۔ ادبیات عربی و الہیات میں پی ایچ ڈی، ڈی گلاسکو یونیورسٹی میں عربی زبان کے تحقیقی شعبے کے صدر، انجمن شرق شناسی کے سیکرٹری، مانچسٹر یونیورسٹی کے عربی شعبے کے پروفیسر، کیمبرج، ملبورن، وغیرہ وغیرہ
تالیفات👈۔ اسلامی تمدن، علم حدیث پر مقدمہ، مشکاہ المصابیح، who is who, اس کے علاوہ بھی بہت سے مقالات اور آثار کے مولف ہیں۔
ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ 👇
یہ کتاب انتہائی دقت و مہارت کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ اور اس میں سیف ( کی روایتوں) کے قابل اعتماد ہونے کے خلاف انتہائی اطمینان بخش بحث کی گئی ہے۔
سیف کو پہچانے 👇
سیف اپنے جعل کردہ جھوٹ کو معروف و معتبر راویوں سے نسبت دے کر حقیقت کے طور پر نقل کرتا ہے۔
زندیق اور زندیقان 👇
زندیقیوں سے مراد 'مانی' کی پیروی کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ دنیا کو ازلی طور پر نورو ظلمت پر مبنی جانتے تھے، اسی لیے ان کو دوگانہ پرست بھی کہا جاتا تھا۔
مانی اور اس کا دین کون ہے؟ 👇
مانی نے مختلف ادیان اور فلسفوں سے ایک نیا اور عجیب دین ایجاد کیا ۔
مانیوں کے چند نمونے 👇
۱- عبداللہ بن منافع
۲- ابنِ ابی العوجا
۳- مطیع بن ایاس
۴- سیف بن عمر
یمانی اور انزاری قبیلوں کے درمیان شدید خاندانی تعصبات 👇
یمانی شاعر۔۔۔ اٹھو اور نزاریوں کو دشنام دوان کی چمڑی اتار لو اور ان کے عیب فاش کر دو!
نزاری شاعر۔۔۔ اٹھو اور ایمانیوں کی آبرو لوٹ لو اور قحطان کی اولاد سے ہرگز نہ ڈرو۔
تعصب کی بنیاد اور اس کی علامتیں 👇
(یمانی اور نزاری۔ )ان دو قبیلوں کے درمیان سالہا سال جنگ وجدل، قتل و غارت، خون، ریزی اور برادر کشی کا سلسلہ جاری تھا۔ اور یک لمحہ بھی ایک دوسرے کی دشمنی سے غافل
نہیں رہتے تھے۔
عربی ادبیات میں تعصب کا ظہور 👇
مزکورہ دو قبیلوں میں خودستائی، غرور، تکبر، اور کینہ، ان جیسی باتوں کی وجہ سے تعصب ظہور پزیر ہوا تھا۔
حدیث سازی میں تعصب کا اثر 👇
مزکورہ قبیلوں میں تعصب اس قدر ہو گیا تھا۔ کہ ان میں سے بعض افراد اپنے قبیلہ کے حق میں تاریخی افسانے بڑھنے پر اتر آے حتی انھوں نے احادیث اور اسلامی رواىتیں جعل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
سیف بن عمر۔ حدیث جعل کرنے والا سورما 👇
سیف نہیں فتوح اور جمل نام کی دو کتابیں تالیف کی ہیں۔ اور حدیث گڑھنے میں سیف بن عمر کے کوئی برابر کوئی نہیں تھا۔
قعقاع-- پیغمبر ص کے زمانے میں 👇
مولف کے نزدیک قعقاع کا نام صرف سیف کی احادیث کے علاوہ نہیں پایا۔ قعقاع بن عمرو رسول خدا ص کے ایک صحابی کی حیثیت سے زندگی کے حالات درج ہے ۔
قعقاع کا شجرہ👇
قعقاع عمرو ابن مالک کا بیٹا ہے اور اس کی کنیت ابن حنظلہ ہے۔
قعقاع رسول خدا ص کا صحابی 👇
طبری اور ابن عساکر کا سیف میں قول۔ قعقاع رسول خدا ص کے اصحاب میں سے تھا۔
قعقاع، ابو بکر رض کے زمانے میں 👇
قعقاع ابو بکر کے ساتھ کافی جنگوں میں شامل رہا ہے
قعقاع عمر رض کے زمانے میں 👇
سیف میں زکر آیا ہے کہ قعقاع بن عمرو خلیفہ دوم کے زمانے بھی موجود تھا۔
تحیقات کا خلاصہ
سیف میں قعقاع وہی ناقابل شکست سورما تھا۔ جس نے پرموک، دمشق، کی جنگوں میں کامیابی حاصل کی۔ اور یہ سب مطالب سیف کے افسانوں کا نتیجہ ہیں۔ اور سیف ہی تنہا گو اور افسانہ ساز ہے۔
قعقاع، عراق کی جنگوں میں 👇
ابن عساکر اور طبری نے سیف بن عمر سے نقل کیا ہے۔ کہ قعقاع شام کی جنگوں میں شامل رہا ہے۔
قعقاع ایران کی جنگوں میں 👇
بہرسیر، مدائن، جلولاء، ان کی فتح۔ طبری نے سیف کی روایت میں بیان کیا ہے کہ قعقاع ان جنگوں کی فتح کا سبب بنا۔
قعقاع، عثمان رض کے زمانے میں 👇
طبری نے سیف بن عمر سے روایت کی ہے کہ عثمان کے خلاف جب بغاوتیں شروع تھی تو قعقاع اپنے گروہ کیساتھ عثمان کا ساتھ دیا ۔
قعقاع ، امام علی ع کے زمانے میں 👇
طبری نے سیف سے روایت۔ قعقاع کوفہ کے کمانڈروں میں وہ پہلا کمانڈر تھا۔ جس نے حضرت علی ع کا ساتھ دیا۔
جنگ جمل میں بھی قعقاع کا زکر ملتا ہے۔ (سیف )
قعقاع کا خاتمہ 👇
یہاں تک، سیف بن عمر کی طرف سے ناقابل شکست افسانوی سورما قعقاع بن عمر کا سلسلے میں اس کی شجاعت، رجزخوانیوں، رزمیہ اشعار اور تعجب خیز کارناموں کے بارے میں ہمیں جو ملا ہے وہ اختتام کو پہنچا۔
جنگ جمل کے بعد قعقاع
کا اس وقت تک کہیں نام نہیں لیا جاتا۔ یہاں تک کہ طبری دوبارہ سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ صفین کی جنگ جمل سے شباہت پاۓ جاتے ہیں۔
احادیث سیف کے راویوں کا سلسلہ 👇
مولف۔ ہم نے راویوں کے نام سیف کی روایت کے علاوہ روایتوں کی کسی بھی کتاب میں نہیں پائے۔
عاصم بن عمرو تمیمی 👇
جو کچھ بھی عاصم کے بارے میں زکر ہوا ہے وہ صرف سیف میں منقول ہے۔
عاصم کون ہے؟
سیف بن عمر نے عاصم کو اپنے خیال میں قعقاع کا بھائی اور عمرو تمیمی کا بیٹا جعل کیا ہے۔
عاصم سیف کے افسانوی سورماؤں کی دوسری شخصیت ہے۔ شجاعت، دلاوری، فہم، فراست سخن وری وغیرہ۔
عاصم، خالد کے ساتھ عراق میں 👇
خالد بن ولید یمامہ کے مرتدوں سے برسر پیکار تھا۔ اس لیے عاصم بن عمرو کو ہرا ولی دستہ کے طور پر عراق روانہ کیا۔
عاصم، دومتہ الجندل کی جنگ میں 👇
عاصم، افسانوی سورما کے بقول۔ ہم نے دشمن کے سپاہیوں کا اس قدر عام کیا کہ لاشیں گھوڑوں سے پامال ہوئیں اور درندوں کے لیے گزرگاہ بن گئیں۔
اصل عراق میں دومۃ الجندل نام کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔۔
عاصم، نماروق کی جنگ میں 👇
مولف۔۔ یہ داستان اور دوسری بہت سی داستانیں، سیف کے زہن کی پیداوار ہیں۔
عاصم اس جنگ میں شامل تھا اور مسلمانوں نے یہ جنگ جیت لی۔ اور دشمن(ایرانی) کو شکست ہوئی۔
عاصم، قادسیہ کی جنگ میں
طبری نے جنگ قدسیہ کے بارے میں سیف سے نقل۔
مسلمانوں کا سپہ سالار، سعد وقاص جب ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں اپنی سپاہ کے سرداروں میں عہدے تقسیم کر رہا تھا اور ہر ایک کو اس کی استعداد، لیاقت وشائستگی کے مطابق کوئی نہ کوئی عہدہ سونپ رہا تھا، تو عاصم کو اسلامی فوج کے اساسی اور اہم دستہ کی کمانڈ سونپی۔
عاصم 'جراثیم' کے دن 👇
ابو عثمان نہدمی نامی ایک مرد سے سیف جراثیم کے دن کی داستان نقل۔
دریائے دجلہ سپاہیوں، منجملہ پیدل، سواروں اور چوپایوں اے اس قدر بھر چکا تھا کہ ساحل سے دیکھنے والے کو پانی نظر نہیں آتا تھا۔ کیونکہ اسلام کے سپاہیوں نے حد نظر تک پورے دریا کو ڈھانپ رکھا تھا۔
دجلہ کو عبور کرنے کے بعد سواروں نے ساحل پر قدم رکھا۔ گھوڑے ہنہنار رہے تھے اور اپنی یال و گردن کو زور سے ہلا رہے تھے۔ اور اس طرح ان کی یال و گردن سے پانی کے قطرات دور دور تک جا گرتے تھے۔ جب دشمن نے عجیب حالت دیکھی تو فرار کر گئے۔
عاصم، سرزمین ایران میں! 👇
طبری کے حوادث کے ضمن میں سیف سے روایت۔
عتبہ، عاصم، اور بصرہ کے سپاہیوں نے علاء اور اس کے سپاہیوں کی مدد کی اور سرانجام دشمنوں کے معاصرہ کو توڑ کر ان پر فتح پانے میں کامیاب ہوۓ۔
عمرو بن عاصم 👇
یہاں تک ہم نے سیف کے ان افسانوں کا ایک خلاصہ پیش کیا جو کہ اس نے عمر و تمیمی کے دو بیٹوں قعقاع اور عاصم کے بارے میں تخلیق کئے ہیں۔
عاصم کا بیٹا اور اس کا خاندان 👇
مولف۔۔ یہ ہے کے ان مطالب کا خلاصہ، جو اس نے قعقاع اور اس کے بھائی عاصم کے بارے میں جھوٹ کے پل باندھ کر بیان کیے ہیں۔
عمرو بن عاصم عاصم کا بیٹا۔ سیف نے اپنی زہنی تخلیق، عاصم کے لیے عمرو نام کا ایک بیٹا بھی خلق کیا ہے اور اس کے بارے میں ایک داستان بھی گڑھی ہے۔
عاصم کے بارے میں سیف کے راویوں کا سلسلہ 👇 ۔
مولف۔۔۔عاصم کا افسانہ چالیس سے بھی زیادہ روایت میں ذکر ہوا ہے۔

آپ کی پسند

مسلمانوں کی مقدس انہونیاں

مطالعہ پاکستان، تحقیقی نگاہ

کاپی پیسٹ کے بجائے ہمیں جوائن کیجئے