اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات یومِ آزادی جیسے دنوں کی مناسبت سے کالم لکھنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ روایتی الفاظ وتراکیب کے استعمال سے خوف آتا ہے اور علم میرا کافی محدود ہے۔ اپنی کوتاہ علمی کی وجہ سے قیامِ پاکستان کے محرکات کے حوالے سے کوئی نیا زاویہ بھی نہیں ڈھونڈپایا۔ تجارت کے بہانے برصغیر میں داخل ہونے کے بعد اس پر سوسالوں تک حکمرانی کرتے ہوئے برطانوی سامراج نے جن تضادات کو پروان چڑھایا ان کے نتیجے میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچاتھا۔ میرے ذہن میں اس جدوجہد کے جواز کے بارے میں شک وشبہات کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ واعظوں کے انداز میں ان وجوہات کو دہرانے کی لہذا میں نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ بھارت میں نریندر مودی اور امریکہ میں ٹرمپ کی نموداری اور عروج نے مجھے البتہ اس شے کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے جسے انگریزی زبان میں Majoritarianismکہا جاتا ہے۔کاش میں اس لفظ کا اُردو زبان میں کوئی متبادل ڈھونڈ سکتا۔ جو حقیقت مگراس ترکیب کی بدولت سمجھ میں آجاتی ہے وہ کسی بھی معاشرے کے اکثریتی طبقات کے ذہنوں اور دلوں میں نسلوں سے جبلی طورپر گھسے تعصبات ہیں۔ ان تعصبات کو جب کھوکھلے ذہن کا کوئی متعصب سیاستدان انتہائی ڈھٹائی سے اپناتے ہوئے لوگوں سے ووٹ مانگنے جاتا ہے تو جمہوریت کی آڑ میں ریاست سرکاری سطح پر ایک ایسا رویہ اپنا لیتی ہے جو اکثریتی سوچ سے اتفاق نہ کرنے والوں کو سانس لینے کی مہلت بھی نہیں دیتا۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے ایک شہر میں نسل پرست کافی وحشت کے ساتھ کھل کر ہمارے سامنے آئے ہیں۔ بھارت میں جو کئی برسوں تک سیکولرازم کا بڑھک باز اجارہ دار رہا تھا،مودی سرکار کے قیام کے بعد گائے کی ”حرمت“ کو بچانے کے لئے مسلمان ذبح کئے جارہے ہیں۔ ہندواکثریت کی طاقت کے نشے میں چور انسان بھیڑیوں کے غول کی طرح شہروں کو ایک دوسرے سے ملانے والی شاہراہوں پر دندناتے پائے جاتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی نگاہ دوربین نے ایسے غول کو ابھرتے ہوئے آج سے کئی دہائیاں قبل دیکھ لیا تھا۔ ہندواکثریت کے تعصبات کوسرسید احمد خان نے بھی بروقت بھانپ لیا تھا۔ حقیقت مگر یہ بھی رہی کہ وہ انگریزی حکومت کے وفادار تھے۔مسلمانوں کو سیاست سے دور رکھتے ہوئے انہیں صرف تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے برطانوی سرکار سے تحفظ کے طالب گار بنائے رکھنے پر مجبور تھے۔ جدید دُنیا کے تقاضوں کو خوب سمجھتے ہوئے قائدِ اعظم کو مگر پورا یقین تھا کہ برصغیر پاک وہند کو ہمیشہ کے لئے اپنا غلام بنائے رکھنا برطانوی سامراج کے لئے ممکن ہی نہیں۔ اسے اسی خطے سے اپنے وطن ہر صورت واپس لوٹنا ہوگا۔ سوال یہ اٹھا کہ سامراج کی گھر واپسی کے بعد کس سیاسی بندوبست سے کام چلایا جائے۔ اس بندوبست کی تلاش ہی نے قائداعظم کو اس امر پر قائل کیا کہ جدید ریاست کو مو¿ثر انداز میں چلانے کے لئے ایک منتخب پارلیمان کی ضرورت ہے۔ اس نظام کی اہمیت انہوں نے خود کو تحریک خلافت سے قطعاََ دور رکھتے ہوئے بہت مو¿ثر انداز میں اجاگر کی۔ اگرچہ ترکی میں خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے برصغیر کے مسلمان بہت جذباتی ہوچکے تھے۔ خود کو ”مہاتما“ کہلواتے گاندھی نے بھی اس تحریک کی منافقانہ حمایت سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہا۔ گاندھی کی اس مکاری کو قائدِ اعظم نے بہت حقارت سے بے نقاب کیا۔ مہاتما کو گھاس میں چھپا ہوا سانپ کہا۔ سیاست کے لئے مذہبی جذبات سے کھیلنے کو ایک فعل بدٹھہرایا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی خواہش قائد اعظم کی جمہوری نظام سے بے لچک لگاﺅ پر مبنی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ برطانیہ کی رخصتی کے بعد برصغیر پاک وہند ،سامراج کے بنائے ”برٹش انڈیا“ کی صورت بدستور ایک ملک رہا تو ووٹ کی بنیاد پر چلائے سیاسی بندوبست کو بالآخر اس خطے کی ہندو اکثریت اپنے تعصبات کا اسیر بنالے گی۔ جمہوری نظام پر گامزن رہتے ہوئے اس خطے کے مسلمانوں نے اگر ایک جدید تر اور خوش حال معاشرہ قائم کرنا ہے تو انہیں ایک جدا وطن کی ضرورت ہوگی۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میری نظر میں Majoritarianismکے خلاف اپنے وقت کے اعتبار سے ایک وجدانی اور تخلیقی جدوجہد تھی۔ پاکستان کے 70ویں یومِ آزادی کی صبح اُٹھ کر البتہ میں بہت پریشان ہوں۔ انتہائی دُکھ کے ساتھ میں یہ بات بلاخوف وخطرہ کہنے پر مجبور ہوں کہ قیامِ پاکستان کی تحریک کو کامیابی سے ہم کنار کرنے والی حقیقتوں کو ہماری اکثریت آج بھی بھرپور انداز میں سمجھ نہیں پائی۔ اسے محض Majoritarianismکو رد کرنے والی تحریک کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔ یہ پہلو قطعاََ نظرانداز کردیا گیا ہے کہ اکثریتی تعصبات کے خدشات کی بدولت ایک نئے ملک کا قیام اور اسے مستحکم اور خوش حال بنانے کا بندوبست صرف جمہوری نظام کے ذریعے ہی ہمارے سامنے آنا تھا۔ بلاشبہ جمہوریت کے نام پر مسلط ہوئے سیاستدانوں نے قیام پاکستان کی تحریک کے اس اہم ترین پہلو کو ہماری نگاہوں سے اوجھل رکھنے میں اہم ترین اور کئی صورتوں میں مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوتاہ نظری اور ہوس اقتدار مگر جمہوری بندوبست کی اہمیت کو جھٹلانہیں سکتی۔ جمہوری نظام کی ناقابلِ برداشت خامیاں اس نظام کو برقرار رکھتے ہوئے ہی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی جدید ریاست کو مستحکم وخوشحال بنانے کا اور کوئی بندوبست دُنیا میں موجود ہی نہیں۔ بجائے اس بندوبست کو توانا تر کرنے کے ہماری ریاست کے چند دائمی اداروں میں اب ایک خطرناک سوچ پنپ رہی ہے جو کسی نہ کسی صورت غیر منتخب اداروں کو سیاسی بندوبست میں ملوث کرتے ہوئے ”صاف ستھرے ٹیکنوکریٹس“ کی حکومت کو قائم کرنے کے بعد اس ملک پر ایک بار پھر ایک نیا ”آئین“ مسلط کرنا چاہ رہی ہے۔ آئین کی 18ویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو ملی خودمختاری کو ریاستی عدم استحکام کی وجہ بتاتے ہوئے انتہائی سادگی اور ہوشیاری سے ہمارے ذہنوں کو صدارتی نظام کے لئے تیار کیا جارہا ہے جس کے لاگو ہونے کے بعد صوبوں کی بجائے ملک میں ڈویژن کی سطح پر ”انتظامی اکائیاں“ تشکیل دی جاسکیں گی۔ ون یونٹ کی صورت اس سے ملتا جلتا تجربہ ہم 1956 میں بھی کرچکے ہیں۔اس کے نتیجے میں جنرل ایوب کا ”اکتوبر(1958والا)انقلاب“ آیا تھا۔ اس کے عین دس سال بعد ایوب مخالف تحریک چلی۔ اس کے نتیجے میں یحییٰ خان کا مارشل لاءآیا۔ اس کے تحت پاکستان میں پہلی بار لوگوں کو حق رائے دہی نصیب ہوا تو اس کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کی ہم سے جدائی کا اصل سبب عوام کی اجتماعی رائے کو حقارت سے ٹھکرانا تھا۔ اس جھٹکے کے بعد بھی ہم نے سبق مگر اب تک نہیں سیکھا ہے۔ اسی لئے اپنے عزیز وطن کی 70ویں سالگرہ کی صبح اُٹھ کر میں کافی پریشان محسوس کررہا ہوں۔ بشکریہ:۔ کالم نگار نصرت جاوید http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/15-Aug-2017/647893
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: ہم صدارتی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں