فطرانہ کس کو دیں؟
⭕️✍ نذر حافی

آپ کو فطرانہ، صدقات، خیرات، خمس اور زکواۃ جمع کرنے والے تو ہر جگہ ملیں گے لیکن تقسیم کرنے والے کہیں نہیں۔ اس میں شیعہ و سنی کا بھی فرق نہیں۔سب کے نزدیک یہ مسلمہ امر ہے کہ فطرانہ مستحق افراد تک پہنچانا ضروری ہے۔

ہمارے ہاں کے کیا شیعہ اور کیا سنی، اکثر لوگ فطرانہ و صدقہ وخیرات چندے کے ڈبوں میں ڈال دیتے ہیں اور یا پھر کسی اور شخص کو دے دیتے ہیں کہ وہ کسی غریب فقیر کو دیدے۔
🔻اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یقینا ہم رمضان المبارک اور عیدالفطر کے فلسفے کو نہیں سمجھے۔

🌺 اللہ تعالی کو نہ ہی تو ہمارے بھوکے اور پیاسے رہنے سے کوئی خوشی ہے، اور نہ ہی ہمارے فطرانہ دینے سے اُس کی شان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کے غریب و فقیر لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھائیں اور خوشی منائیں۔
😔ہماری اکثریت یہ بھی نہیں جانتی کہ فطرانے کے اوّلین مستحق ہمارے قریبی عزیز اور رشتے دار ہیں، قریبی رشتے داروں میں جو بھی بیوہ ، یتیم یا نادار شخص ہے تو سب سے پہلے اُسی کو فطرانہ دیا جانا چاہیے، اُس کے بعد ہمسائے کا حق ہے ۔
😞جو حضرات مختلف قسم کے ڈبوں میں فطرانہ اور صدقہ و خیرات ڈال کر اپنی جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں، اُنہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ اُن کے پیسے نہیں گنتا اور اُن کے نوٹوں سے بے نیاز ہے۔

کاش عوام کو یہ بتایا جائے کہ فطرانہ اگر مستحق افراد تک نہ پہنچے وہ ادا ہی نہیں ہوتا، جو لوگ اپنے عزیزو اقارب اور ہمسائیوں کے منہ کا نوالہ دوسرے علاقوں میں ڈبے بھر بھر کر بھیجتے ہیں ، اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کے ہاں گنہگار ہیں۔

🔻جن لوگوں نے فطرانہ ڈبوں میں ڈال دیا اور مستحقین تک نہیں پہنچایا وہ اللہ کے ہاں قبر اور قیامت میں وہ جوابدہ ہیں کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا!؟

لہذا فطرانہ دیتے ہوئے یہ یقین ہونا ضروری ہے کہ آپ مستحق کو ہی فطرانہ دے رہے ہیں، اگر مستحق کو نہیں دیا تو اس کا واپس لے کر مستحق تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر واپس نہیں لے سکتے تو پھر دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

⭕️✍قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض لوگ صرف اُسے فطرانہ دینا ضروری سمجھتے ہیں، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور پرانے ہوں لیکن فطرانے کا مستحق ہر وہ خوددار اور غیرت مند سفید پوش شخص ہے جس کے پاس محنت مزدوری اور کام کاج کے باوجود سال بھر کا خرچہ نہیں ہوتا، اور جو شرم کے مارے کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلاتا۔
⭕️✍ جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارا فلاں رشتہ دار یا فلاں ہمسایہ ضرورت مند ہے تو پھر اس کی مدد کرتے ہوئے اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ ہم آپ کو صدقہ یا فطرانہ دے رہے ہیں بلکہ افضل یہ ہے کہ ہم اسے اخلاق و مروت کے ساتھ بغیر صدقے اور فطرانے کا عنوان بتائے اس کی مدد کریں۔
🔻 اللہ اکبر! دینِ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ اگر کسی کی عزت نفس کے مجروح ہونے کا خدشہ ہو اور اس کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو لازمی ہے کہ ہم ضرورت مند کو صدقے یا فطرانے کا شک تک نہ ہونے دیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شیعہ و سنی کے جھگڑوں میں الجھنے کے بجائے دکھی انسانیت کا درد عطا کرے اور دین اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

فطرانہ دوبارہ ادا کرنے کی وجہ


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv