جمہوریت کی دھُول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائے یوسف رضا دھنیالہ ،
جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان
🇵🇰🗳️😭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


1857ء کی جنگِ آزادی کے وقت جب میرا چوہان راجپوت خاندان انگریز کے خلاف بغاوت کرنے کے جُرم میں اپنی چنبہ کی ہمالیائی ریاست سے معزول ہو کر تخت سے تختہ ہو رہا تھا تب اپنی قوم اور اپنی مادرِ وطن کے ساتھ غداری اور انگریز کے ساتھ وفاداری کر کے جن لوگوں نے جاگیریں حاصل کی تھیں، پاکستان بننے کے بعد سے وہی کالے انگریز ہم پہ مسلسل حکمرانی کرتے آ رہے ہیں، اور پاکستان کے جُغرافئے کے اندر رہ رہا جاہل ہجوم اور غلام ذہنیت اکثریتی طبقہ آج بھی اُنہی شہانوں، میانوں، مخدُوموں، لغاریوں، مزاریوں، زرداریوں، خانوں، آستانوں، جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں اور انگریز کے پالے ہوئے خائن خاندانی لوٹوں اور لُٹیروں کو جمہوریت کے نام پر ووٹ تماشے کے ساتھ بدستور اپنے اُوپر مسلط کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے، اور یوں عام آدمی خود ہی نسل در نسل اشرافیہ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈالے ہوئے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ ہم کوئی باشعور اور باوقار قوم نہیں بلکہ بدترین غلامانہ ذہنیت رکھنے والا چوبیس کروڑ لوگوں کا ایک ایسا ہجوم ہیں جن کو محض چند سو بالادست گھرانے نسل درنسل گڈریے بن کر ہانک رہے ہیں۔

انگریز خود تو 1947ء میں چلا گیا تھا لیکن اُس کے پالتو خاندان ہمارے عوام کے اب بھی پسندیدہ حکمران ہیں۔

یقین نہ آئے تو عوام کی نعرے بازی اور ووٹ نوازی آئندہ الیکشن میں بھی ملاحظہ فرما لیجئے گا۔

مجھے حیرت اور شدید مایوسی ہوتی ہے جب عام آدمی کے گھر جنم لینے والے آج کے بظاہر بہت پڑھے لکھے اور سیاسی طور پر بہت متحرک جوان بھی کسی نہ کسی وڈیرے، جاگیردار، مخدوم، پیر، شہانے، میانے، نواب، خائن خاندان اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کے نعرے مار رہے ہوتے ہیں یا پھر میاں شریف کے خاندان، مُفتی محمود کے خاندان اور بھٹو-زرداری خاندان کی اگلی سے اگلی نسلوں کی غلامی کرنے پہ سوشل میڈیا پہ بہت زیادہ خوشی کے ساتھ مریم، بلاول یا مولانا فضل الرحمان کی کمپئین کر رہے ہوتے ہیں۔

یعنی ہم خود ہی الیکٹیبلز، سیاسی وراثت کے اجارہ داروں، خائن خاندانوں، جاگیرداروں، نوابوں، پیروں، مخدوموں، شہانوں، میانوں، خانوں، اور پارٹیاں بدل بدل کر ہم پہ حکمرانی کرتے آ رہے گھرانوں سے چھُٹکارہ پانا چاہتے ہی نہیں۔

یہی ہماری نفسیات اور فی الحال یہی ہماری اوقات ہے بس۔

یہی وجہ ہے کہ بدستور بھٹو بھی زندہ ہے، میاں کے نعرے بھی وَج رہے ہیں اور مُفتی محمود کے بیٹے، پوتے اور سارے خویش اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔ جبکہ باقی کے بہت سے پرانے سیاسی خاندان یُوتھ کے جنون سے فائدہ اُٹھانے کے لئے پی ٹی آئی میں گھُسے ہوئے ہیں اور عمران خان پھر سے ایک بار وزیراعظم بننے کے لئے دوبارہ سے انہی الیکٹیبلز کو پارٹی ٹکٹوں سے نواز رہا ہے جن لوٹوں اور لُٹیروں سے اصل میں پاکستانی سماج اور سیاست کو نجات دلانے کی ضرورت ہے۔

سبق عمران خان نے بھی نہیں سیکھا ہے اور سماج اور سیاست میں وہ بھی اُنہی طبقوں کو پروموٹ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر رہا ہے جو ہر حکومت بنانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے اور مقبول ہونے والی ہر نئی پارٹی میں گھُس کر اپنے خاندانی اقتدار کو نسلوں سے قائم و دائم رکھتے آئے ہیں۔سیاسی انصاف خود پاکستان تحریک انصاف میں بھی موجود نہیں ہے۔
یقین نہ آئے تو عمران خان کے صرف ضلع جہلم اور ضلع گجرات کے ہی ٹکٹ ہولڈرز ملاحظہ فرما لیجئے پلیز۔

لیکن عمران خان سے محبت کرنے والے اور اُسے اشرافیہ کی بیساکھیوں کی مدد سے دوبارہ وزیراعظم بنوانے کے جنون میں مُبتلا یُوتھ اِک ذرا بھی کراہت محسوس نہیں کرے گی پی ٹی آئی کے کسی بھی جاگیردار، اجارہ دار، لوٹے، وڈیرے اور گھُس بیٹھئیے اُمیدوار کو ووٹ ڈالتے ہوئے۔

بس اصل المیہ اور غلامانہ ذہنیت ہی یہی ہے جس سے ہم جان چھُڑانا چاہتے ہی نہیں شائد۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت جمہور کی نمائندگی کا نام نہیں بلکہ اشرافیہ کی نسل درنسل حکمرانی کا ایک جعلی سسٹم ہے جسے جمہور خود قائم رکھے ہوئے ہے تاحال۔


🇵🇰🗳️😭

Rai Yusuf Raza Dhanyala,
Jhelum, Punjab, Pakistan 🇵🇰
28-04-2023


افکار و نظریات: جمہوریت کی دھُول