سانحہ پارہ چنار اور قاتل

نذر حافی

مجھے آج سانحہ پارہ چنار پر بات نہیں کرنی۔ میں تو اپنے پیارے نبی ؐ کی سیرت سے رہنمائی لینے کا پابند ہوں۔ ہمارے پیارے نبی ؐ کی زندگی میں ایک دن ایسا بھی آیا کہ جب مُشرک سرداروں نے مل کر آپ کو شہید کرنا چاہا۔ منصوبہ بندی کے مطابق قتل کی شب کا تعیّن بھی کر دیا گیا۔ ایک رات سب نے آنحضورؐ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ اُس وقت بھی کُفار و مشرکین کی امانتیں حضورؐ کے پاس تھیں۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حملے سے پہلے حضورؐ سے اپنی امانتیں تو واپس لے لو۔ انہیں اپنی امانتوں کے غصب ہونے کا بالکل بھی خوف نہیں تھا، چونکہ وہ جانتے تھے کہ ہماری عادات اور خاندانِ ابراہیمؐ و اسماعیلؐ کی عادات قطعاً مختلف ہیں۔ سیرت کے اوراق میں لوگ حضورؐ کو پتھر مارتے، گالیاں دیتے، تہمتیں لگاتے تو نظر آتے ہیں، لیکن ایسا کرنے والوں کو حضورؐ کے خاندان کی طرف سے کسی جوابی پتھر، گالی، تہمت اور انتقامی کارروائی کا خوف نہیں، چونکہ وہ جانتے ہیں کہ حضورؐ جس خاندان میں پلے بڑھے ہیں، اُس خاندان کی عادت و تربیّت ہم سے بالکل مختلف ہے۔

جب حضورؐ کے خاندان کے سربراہ حضرت ابو طالب ؑنے اس دارِ فانی سے کوچ کیا تو حضورؐ کو بھی مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہِ اُحد پیش آیا۔ میدانِ جنگ میں شیرِ خدا حضرت حمزہ دونوں ہاتھوں میں تلواریں لئے کُفر و شرک کے طوفان سے معرکہ زن تھے۔ یزید ابن معاویہ کی دادی ہندہ بنت عتبہ کے بُزدل غُلام نے دور سے ایک پتھر کی اوٹ لے کر نقب لگائی اور عقب سے نیزہ پھینکا، جو اِس شیرِ خدا کا سینہ چیر کر باہر نکل گیا۔ اس سے پہلے جنگِ بدر میں ہندہ کا باپ اور بھائی حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں واصلِ جہنم ہوچکے تھے۔ اُس کے بعد ہندہ اپنے ایک غُلام وحشی کو بار بار کہتی تھی کہ تو حمزہ کو قتل کرکے میرا دل ٹھنڈا کر میں تیرا دل خوش کروں گی۔

حضرت حمزہؓ شہید ہوئے تو ہندہ کے جگر میں ٹھنڈ پڑگئی۔ اُس نے حضرت حمزہؓ کے اعضا کاٹ کر اپنے لئے زیور بنایا اور آپ کا جگر چبایا۔ یہ سراسر بہمیت اور درندگی تھی، لیکن کُفار و مُشرکین کو یہ خوف بالکل بھی نہیں تھا کہ حضور ؐ اپنے چچا کا انتقام لینے کیلئے ہماری لاشوں کا بھی مُثلہ کریں گے۔ وہ جانتے تھے کہ حضورؐ جس دین، عقیدے اور گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، اس سے یہ بعید ہے۔ اس کے بعد میں میدانِ کربلا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، میدانِ کربلا میں ہندہ کے پوتے یزید ابن معاویہ کے لشکر نے نواسہ رسول اور اُن کے ساتھیوں کو شہید کرکے اُن کی لاشوں پر گھوڑے دوڑا کر لاشوں کو پامال کر دیا۔ میدانِ کربلا میں درندگی و سفاکیّت نیز لاشوں کی بے حُرمتی کرنے والا بھی وہی ہندہ و ابو سفیان کا خاندان تھا اور جس خاندان پر ظلم کیا گیا، وہ حسبِ سابق رسولِ خدا ؐاور حضرت حمزہؓ کا خاندان تھا۔

مجھے سانحہ پارہ چنار پر کچھ بھی نہیں کہنا۔ اب کہنے کو رہ ہی کیا گیا ہے۔ میرے نزدیک اُستاد معمارِ وطن ہوتا ہے، وہ کسی فرقے اور مسلک کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ اُستاد کی شناخت بس اُستاد ہونا ہی ہوتی ہے، اُسے شیعہ یا سُنّی نہیں کہا جا سکتا۔ اگر پارہ چنار میں شہید ہونے والے اساتذہ شیعہ و سُنّی کی تقسیم کے قائل ہوتے تو وہ اپنے اہلِ سنّت بھائیوں کے بچوں کی تعلیم و تربیّت کیلئے اُن کے علاقے میں جا کر خدمات انجام نہ دیتے۔ اہلِ سُنّت مسلمان کبھی بھی اپنے محسنوں اور مہمانوں کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنا اُن کے آداب و اخلاق کے خلاف ہے۔ جس طرح مقتولین نہ شیعہ ہیں اور نہ سُنّی بلکہ وہ اُستاد ہیں، اسی طرح قاتل بھی نہ شیعہ ہیں اور نہ سُنّی بلکہ وہ صرف قاتل ہیں۔

ہمارے لاکھوں کروڑوں سلام ہوں ان شہید اساتذہ پر، ان کی پامال شُدہ لاشوں پر، اُن کے کلہاڑیوں سے مضروب جسموں پر، جنہوں نے چودہ سو سال کے بعد بھی اپنے پیارے نبی ؐ کے راستے پر چلتے ہوئے اور علم کی شمعیں روشن کرتے ہوئے اپنی جانیں دے کر شیعہ و سُنّی سب کو بتا دیا ہے کہ ہمارا تعلق مدینۃ العلم، باب العلم، حضرت حمزہ ؑ اور حضرت امام حسینؑ سے ہے۔ اب رہ گئی یہ بات کہ قاتلوں کا تعلق کس سے ہے۔؟ اس کیلئے کسی فلسفے اور سائنس کی ضرورت نہیں، اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ قاتل نہ شیعہ ہیں اور نہ سُنّی بلکہ قاتلوں کی عادتیں اُن کے خاندان کا پتہ دے رہی ہیں۔

آسان ٹارگٹ