نگار عالم

مولوی نگار عالم کے قاتل کون؟


مردان کے علاقے ساولڈھیر کا واقعہ ہے۔ نگار عالم نامی عالم دین کو حالتِ دعا میں ہی توہینِ مذہب کا الزام لگا کر لوگوں نے لاتیں اور ڈنڈے مار کر قتل کر دیا۔ سب جانتے ہیں کہ مولوی نگار عالم نے کوئی گستاخی نہیں کی تھی۔ پسِ پردہ مسئلہ کچھ اور تھا۔ مولوی نگار عالم کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے انجینئر مرزا محمد علی کی مانند ایک خطرناک فرقے کو للکارا تھا۔ مولوی نگار عالم پہلے دیوبندیوں کے حیاتی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد اپنی تحقیق کی بنا پر مماتی فرقے کی طرف راغب ہوئے۔ اس دوران مماتی فرقے کے کٹر اور شدت پسند دھڑے جمعیت اشاعت التوحید والسنہ کے سرگرم اور فعال افراد میں انہوں نے اپنی جگہ بنائی۔
جمعیت اشاعت التوحید والسنہ کے گروہ کو پنج پیری بھی کہا جاتا ہے۔ پنج پیری کہنے کی وجہ ضلع صوابی کا ایک گاؤں ہے۔ وہاں طاہر پنج پیری نامی ایک شخص نے اپنے گاؤں میں قرآن مجید کے درس سے تبلیغ کے کام کا آغاز کیا تھا، جو بعد ازاں ایک بڑے دیوبندی مدرسے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ دیوبندی مدرسہ خود دیوبندیوں میں سب سے زیادہ متشدد، شدت پسندانہ اور بالکل غیر لچکدار نظریات کے باعث معروف ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ کالعدم سپاہِ صحابہ و لشکرِ جھنگوی، طالبان و القاعدہ کے دھڑوں، تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ، باجوڑ ایجنسی کے مولوی فقیر محمد، خیبر ایجنسی کے امیر منگل باغ اور جامعہ تعلیم القرآن واقع راجہ بازار راولپنڈی کا تعلق دیوبندیوں کے اسی مکتبِ فکر سے ہے۔ پختونخواہ کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں یہ لوگ پنج پیری کے بجائے جمعیت اشاعت التوحيد والسنت کے نام سے معروف اور فعال ہیں۔
اب مولوی نگار عالم نے کچھ عرصہ پہلے اس دیوبندی پنج پیری فرقے کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔ انہوں نے صرف خیرباد نہیں کہا تھا بلکہ اس فرقے کے برعکس روحانیت کی تبلیغ بھی شروع کر دی تھی۔ بس یہ جُرم تھا، جس کی سزا کے طور پر ایک بلوے کی شکل میں مولوی صاحب کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ مولوی صاحب کو منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے ٹھکانے لگایا گیا کہ کسی کی توجہ اصل کرداروں کی طرف ہے ہی نہیں۔ ہر طرف عوامی بلوئے، عمران خان، پی ٹی آئی اور توہینِ مذہب کے چرچے ہیں۔۔
بلوئے کی صورت میں کسی کو مارنا ہمارے ہاں بہت آسان ہے۔ 2013ء میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں اسی طرح بلوہ ہوا اور مذکورہ بالا دیوبندی مدرسے کے لوگ مارے گئے۔ بلوہ ماہرین نے فوراً کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے کارندوں کو جوابی حملے کی کلین چٹ دی۔ انتقامی کارروائی کہہ کر راولپنڈی کی پانچ امام بارگاہیں جلوائی گئیں اور قرآن مجید کے نسخے تک نذر آتش کر دیئے گئے۔ کسی نے اسے توہینِ مذہب قرار نہیں دیا۔ تین سال بعد تحقیقات سے ثابت ہوا کہ خود اسی مدرسے کے مولویوں نے شیعہ فرقے کے جلوس کو رکوانے کیلئے اپنے افراد کو قتل کرا دیا، تاکہ یہ الزام اہلِ تشیع پر ڈالا جائے۔ یعنی یہ انتہائی خطرناک لوگ جیسے دوسروں کو مارنے کیلئے خودکُش حملے کرتے ہیں، اسی طرح اپنوں کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
بہرحال پولیس نے پُھرتی دکھائی اور جلوس کی ویڈیو دیکھ کر شناخت پریڈ سے 110 شیعہ افراد کو گرفتار کیا، گرفتار ہونے والے افراد میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں تھا، جس کا کسی دہشت گرد تنظیم، شدت پسند ٹولے یا کسی جرائم پیشہ حلقے سے کوئی تعلق ہو یا اُس کا کوئی کریمنیل ریکارڈ ہو۔ حراست میں لئے جانے والے لوگوں میں سکول و کالج کے طالب علم، عام دکاندار، بینکوں کے ملازمین اور سکول ٹیچرز وغیرہ شامل تھے۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ راجہ بازار کے مدرسے میں قتل و غارت کی منصوبہ بندی کرنے والے مولویوں سے قصاص لیا جاتا، لیکن کیسا قصاص اور کس سے قصاص۔؟
اب یہاں پر یہ عرض کر دوں کہ اگر یہ ملک بچانا ہے تو مُلکی سلامتی کے اداروں کو اب اپنی پالیسی بدلنی ہوگی۔ انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قیمتی ایسٹس دہشت گرد اور گلو بٹ نہیں ہیں بلکہ اس قوم کے عوام ہیں۔ ہرباشعورپاکستانی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جہاں بھی کوئی قتل ہو، اُس کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے۔ مقتول چاہے لبرل مشال خان ہو یا مولوی نگار عالم، صحافی ارشد شریف ہو، یا طالب علم عمران ستی ، ذہنی معذور صلاح الدین ہو یا پارہ چنار کے اساتذہ۔ ہر مقتول کے قاتل کو سولی پر لٹکایا جائے۔ قاتل بے شک وردی میں ہو یا بغیر وردی کے۔ قصاص ہی قرآن کا حکم ہے۔ اسی میں ملک و قوم کی بقا اور سلامتی ہے۔ انسانوں سے پیار کیجئے۔۔۔ قصاص لیجئے!