خدا کے ساتھ جنگ

رفیق انجم

ہمیں فرصت ہی نہیں کہ ہم پارہ چنار میں شہید ہونے والے مظلوم انسانوں کے بارے میں بات کریں۔ ہم سیاسی لڑائیوں سے فارغ ہی نہیں ہوتے۔ مظلوم شہیدوں کے ساتھ ہونے والے ظلم سے پردہ اٹھانے کو ہم اپنا دینی فریضہ بھی نہیں سمجھتے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر پارا چنار کے ایک قبائلی گاؤں تری مینگل جو کہ پاکستان اور افغانستان باڈر کے قریب واقع ہے کے ایک اسکول میں میٹرک کے امتحانات پر مامور علم دوست سات شعیہ اساتذہ کو سوچی سمھجی سازش کے تحت بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ ان اساتذہ کا قصور صرف اور صرف یہ تھا کہ وہ اہل تشیع سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اساتذہ جو قوم کے بچوں کو پڑھانے کے لیے تری مینگل گئے تھے مقامی لوگوں کو چاہیے تھا کہ مہمانوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے لیکن افسوس انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ یوں علم کی روشنی پھیلانے والوں کی زندگی کی شمع ہی گُل کر دی گئی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ، اس موضوع کو لے کر نہ سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی جارہی ہے نہ حکومت وقت کی طرف سے اس واقعے پر درست ردِّ عمل سامنے آ رہا ہے۔ ہر طرف سے زیادہ سے زیادہ مذمت کر دی جاتی ہے۔

کہیں ہم سب یہ بھول تو نہیں گئے کہ ان عظیم شھیدوں کی آہ ہمیں بھی لگ سکتی ہے ۔ ہمیں خدا نے یہ نعمتیں اور زندگی اس لئے نہیں دی کہ ہم ظالموں کے ظلم پر خاموش رہیں ۔

جیسے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بے گناہوں کو قتل کرنا خدا کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ویسے ہی اس ظلم پر خاموش رہنا بھی خدا کے ساتھ جنگ کرنا ہے۔

اس خاموشی کو توڑیے، ہمارے نزدیک اس قتل میں حکومتی ادارے بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان دنوں میں پاکستان کے حالات بہت ہی خراب ہیں اور ساتھ چند روز بعد الیکشن بھی ہونے ہیں اس لئے حکومت الیکشن سے فرار ہونے کے لئے پہلے بھی مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہے لیکن کوئی بھی حربہ کسی کام کے نہیں آیا تو ان بدبختوں نے یہ ظلم کر دیا۔

ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ عوام ایک دوسرے کو ماریں، اور وہ اپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارے ملک عزیز کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے اور شھید اساتذہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین


افکار و نظریات: عظیم شہیدوں کی آہ