یہودی ایجنٹ کون ہے!؟


*تحریر:* 🌺✍️ *محمد بشیر دولتی*
______V⭕N_____
_________________
اختلاف سے گھبرائیے نہیں۔ اختلاف نہیں ہوگا تو کھرے اور کھوٹے کا پتہ کیسے چلے گا۔ اختلاف کے وقت ہی تو انسان کا باطن ظاہر ہوتا ہے۔ یہی اختلاف ہی تو انسان کی تربیت، سلیقے، ادب اور اخلاق کا پتہ دیتا ہے۔ چنانچہ عقلا لوگوں سے اختلاف کر کے بہت جلدی یہ جان لیتے ہیں کہ مدمقابل کتنا پانی میں ہے۔
متنازعہ شخصیات کو سننا اور ممنوعہ کتابوں کو پڑھنا میرے پسندیدہ مشغلوں میں سے ایک ہے۔ کراچی میں جتنا عرصہ رہا جناب الطاف حسین،محترم قاضی حسین احمد مرحوم ،مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم ،شہید اہلسنت سلیم قادری مرحوم، فیضان مدینہ کے محترم الیاس قادری اور ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو براہ راست سنتا رہا ہوں۔
عمران خان صاحب کی جمائمہ اسمتھ سے شادی کے بعد پہلی بار نظام خلافت کے عظیم داعی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے سنا کہ عمران خان ایک یہودی ایجنٹ ہے۔ ان کے بعد ہماری محبوب و محترم شخصیت مولانا فضل الرحمان اور ان کے کارکنوں نے بھی مسلسل یہ دعوای دہرایا۔(حالیہ دھرنے میں بھی انہوں نے ببانگ دہل یہی الزام دہرایا)۔
ہمیں یہودیوں خاص کر صیہونیوں سے ویسے بھی شدید نفرت تھی سو عمران خان سے یہ نفرت بھی بڑھتی گئی۔گردش لیل و نہار کے سبب وقت گزرتا رہا۔ عفت تار اور خاندان توڑ ملک میں رائج سیاسی اتار چڑھاو کے دوران میڈم جمائمہ کو طلاق ہوئی۔ ایک عرصے کے بعد عمران خان کی شادی گلالئی سے ہوئی پھر ان محترمہ کی بھی طلاق ہوگئی۔گلالئی نے جب عمران خان کے بارے میں کتاب لکھی تو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد مشرقی و پاکستانی خاتون گلالئی سے کی نسبت ایک مغربی کلچر میں پلی بڑھی یہودی جمائمہ ہزار درجہ شائستہ اور مشرقی لگی۔
خیر گلالئی کے بارے میں عمران خان کی مکمل خاموشی اور گلالئی کی طرف سے مسلسل بدتمیزی نے مجھے پہلی مرتبہ یہ احساس دلایا کہ عمران خان عام لوگوں سے مختلف ہے۔
اسی طرح میرے دوست جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے طرز سیاست سے مجھے بہت لگاؤ ہے۔ اس لگاو کے باوجود مولانا اور ان کے حامیوں نے عمران خان کے خلاف ہمیشہ دلائل پیش کرنے کے بجائے صرف الزامات کی بارش کی ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے جب مولانا فضل الرحمان صاحب کو ڈیزل کہ کر توہین آمیز لہجہ اختیار کیا تو مجھے ایک دھچکہ لگا۔ اس کے بعد ہزار ہا کوشش کے باوجود عمران خان کی طرف سے مولانا صاحب پر مزید کو ذاتی حملہ مجھے دکھائی نہیں دیا۔۔
ہر عقلمند یہ جانتا ہے کہ کسی کو کافر، مرتد، غدار، منافق، یہودی وغیرہ کہنا بچوں کا کھیل نہیں۔ جب کسی کے خلاف ایسی کمپین چلائی جاتی ہے تو اس کے پیچھے باقاعدہ منظم اور گہری سازش ہوتی ہے۔ عمران خان پر بار بار یہودی و یہودی ایجنٹ، وغیرہ کے الزامات لگے تو میں نے آزادانہ طور پر ایک طرف تو صیہونیت اور ان کے آلہ کاروں کا مطالعہ شروع کر دیا اور دوسری طرف عمران خان کو میں باقاعدگی سے سنتا اور پڑھتا رہا، مجھے اس عمل میں کئی مہینے لگے۔ یہ چونکہ میرے ملک کے حال، اور مستقبل کا مسئلہ تھا لہذا میں نے کئی مہینے تک اس سلسلے کو سنجیدگی سے جاری رکھا۔
مجھے الزام لگانے والوں پر بھی اپنی تحقیقی نظر رکھنی تھی اور عمران خان پر بھی۔
میں نے کلین شیو اور داڑھی چٹ عمران خان کے متعدد خطبات میں یہی دیکھا کہ وہ زبان سے لاالہ الااللہ اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کی بات کرتا ہے۔
عمران خان نے متعدد تقریروں میں کئی مرتبہ یہ کہا کہ خدا کے علاؤہ کسی سے نہیں ڈرنا ۔ آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ واحد سیاست دان ہے جو اپنی ہر تقریر کا آغاز "ایاک نعبد وایاک نستعین" سے کرتا ہے۔
جو اپنی تقاریر میں کسی بھی طاقت کی غلامی سے انکار اور سب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستی کا اعلان کر رہا ہے ۔
اب باری تھی کہ یہ اپنے اس نعرے پر بطور وزیراعظم عمل بھی کرتا ہے یا نہیں!؟ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میں بھی اس امر کا شاہد ہوں کہ اس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اسی ایاک نعبدوا و ایاک نستعین پر چلانے کی بھرپور کوشش شروع کردی۔
ماضی میں کئی مذہبی تنظیموں کا واحد پلیٹ فارم، متحدہ مجلس عمل اپنی حکومت میں جو کام خیبرپختونخوا میں نہ کرسکا تھا وہ کام اس یہودی ایجنٹ نے کردیا۔ *اس یہودی ایجنٹ نے خیبرپختونخوا میں نجی سود پر پہلی مرتبہ پابندی لگائی۔*
صرف یہی نہیں *دیگر صوبوں میں عوامی دسترس سے دور ایف آئی آر کے اندراج کو خیبر پختونخوا میں مظلوموں کی دہلیز پر ممکن بنایا۔* اس یہودی ایجنٹ نے *ملک میں فقط امیروں کو ملنے اور پھر معاف ہونے والی قرضہ اسکیموں کو بلاسود غریب عوام کی دسترس میں قرار دیا۔*
جی ہاں ❗ اسی یہودی ایجنٹ نے *بارہویں جماعت تک ناظرہ قرآن کو الزامی اور یونیورسٹیوں میں قرآن مجید کے ترجمے کو لازمی قرار دیا۔*
⚖️❗⚖️👇
اگر آپ عدل و انصاف سے کام لیں تو اسی یہودی ایجنٹ نے *ملک میں مساوات کے قیام کے لئے ایک نصاب لانے کے منصوبے کو کامیاب کیا۔* جب لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ عمران خان کو منافق اور یہودی ایجنٹ کہہ رہے تھے تو عمران خان اپنی قوم کو کفایت شعاری کا درس دے رہاتھا اور خود بھی عمل کرتا نظر آیا۔ اس نے بڑے بڑے ممالک کے سفیروں کی فقط چائے اور بسکٹ سے میزبانی کی۔ حکومت کی طرف سے ذاتی تشہیر و واہ واہ کے لئے میڈیا کو ملنے والےفنڈ بند کر دئیے گئے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں صحافیوں کو دینے والی پرتعیش ضیافتوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ شخص کمرشل فلائٹس اور لوکل ٹرین میں بیرون ملک سفر کرتا رہا۔ بیرون ملک دوروں پر پوری کابینہ اور خاندان کے افراد کو لےجانے والی قبیح رسم کو اس نے توڑا۔من پسند دوستوں اور صحافیوں کو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجنے کا سلسلہ اسی نے بند کیا۔اپنے دور حکومت میں پی آئی اے کو خسارے سے اس نے نکالا۔ہوٹل روزویلٹ کا قرضہ اسی نے اتارا۔ پی آئی اے کے ساتھ مفت میں بکنے والی اسٹیل ملز کو بچایا۔پاکستان پوسٹ اور ریلوے کو خسارے سے نکالا۔بےگھر غریبوں کے لئے شٹل ہومز بنائے۔بھوک سے نڈھال لوگوں کے لئے لنگر خانے کھولے۔ سفید پوش لوگوں کو جیب خرچ کے لئے احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپیہ وظیفہ دیا۔
۔لاچار و مجبور بیماروں کے لئے صحت کارڈ کے زریعے ان کے لاکھوں کے اخراجات کا بوجھ ان سے ہٹا دیا۔
امریکہ و برطانیہ سمیت پاکستان کو اپنا غلام بنا کر رکھنے والے ممالک کے آلہ کار اس پر مسلسل الزامات لگاتے رہے لیکن اس نے ملک کو لوٹنے والوں اور بار بار این آر او لینے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ چنانچہ اس کے خلاف پروپیگنڈہ مزید شدید کر دیا گیا۔
ایک اقتصادی سروے کے مطابق عمران خان کے دور میں پاکستان معاشی طور پر ایشیئن ٹائیگر بن رہا تھا۔ زرعی شعبے میں ترقی کا ہدف تھری پوائنٹ فائیو سے بڑھا کر فور پوائنٹ سکس تک پہنچ چکا تھا۔صنعتی شعبے کی شرح سکس پوائینث سکس تھی اسے سیون پوائینٹ ٹو تک پہنچایا گیا۔
میں حیران رہ گیا کہ اس شخص کو منافق اور یہودی ایجنٹ کہا جارہا ہے کہ جو امریکہ کے چارسو ڈرونز حملوں کے خلاف تنہا بولتا اور ڈٹا رہا ۔
یہ اپنے لا الہ الااللہ کے نعرے پر ایسا ڈٹ گیا اور ایاک نعبدوا و ایاک نستعین پر اس نے ایسا عمل کیا کہ اس کے دور حکومت میں ایک بھی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ اس گستاخ کو امریکہ اور اس کے آلہ کاروں کی طرف سے منافق اور یہودی ایجنٹ بنا کر کیوں پیش کیا جاتا ہے۔
جیسے ہی خان کی حکومت ہٹا کر مولانا فضل الرحمن صاحب اور ان کے اتحادیوں کی حکومت آئی تو فورا ڈرون حملہ پھر سے ہوا۔
جو لوگ امریکہ کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اور ان کا نام و نفقہ امریکہ سے وابستہ ہے وہ خان کی طرف سے امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کے جرم کی سزا دئیے بغیر کیسے آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔
عمران خان کے دور میں مہنگائی پر لانگ مارچ کرنے والوں نے جب اپنے بیرونی آقاوں کی مدد سے خان کی جمہوری حکومت پر شب خون مارا تو اس کے بعد مہنگائی کے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے۔

خان کے دور میں امریکہ اینڈ کمپنی نے تین لانگ مارچ جمہوری حق کے طور پر کئے لیکن انہی لوگوں سے عمران خان کا ایک لانگ مارچ بھی برداشت نہیں ہو سکا اور مظاہرین پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔
حتی کہ عورتوں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، برہنہ کیا گیا اور۔۔۔
خان نے اقوام متحدہ میں عالم اسلامی کی ترجمانی کرتے ہوئے سینہ تان کر کلمہ لاالہ الااللہ اور مسلمانوں کا دفاع کیا۔ جذبہ شہادت و شوق شہادت کا اظہار کیا۔
جب سارے سربراہان اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر کھڑے ہوئے تو یہ اطمینان سے بیٹھا رہا۔
یہ خان ہی تھا جو بعض عرب ممالک اور داخلی طاقتور شخصیات کے دباؤ کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا جبکہ خان کے مخالفین کو حکومت ملی تو انہوں نے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے ہیں۔
خان نے ہندوستان کو ٹف ٹائم دئیے رکھا مگر اب تو پاکستان میں ہندوستان کے دوستوں کی حکومت آ گئی ہے ۔
غیر منصف مزاج مخالفین صرف خان کے جلسوں میں ناچ گانے کے مناظر دکھاتے ہیں جبکہ انہی جلسوں میں اذان و نماز اور سحری و افطاری و دعا و قرآن خوانی کا اہتمام کبھی نہیں دکھایا گیا۔

یہ عمران خان ہی ہے کہ جس نے سوشلزم،لیبریلزم اور ہیمیونیزم و لادینیت کے بجائے ڈنکے کی چوٹ پر پہلی مرتبہ ریاست مدینہ کو پاکستان کی منزل قرار دیا۔
مغرب کی اندھی تقلید میں گرفتار جوانوں کو ثقافتی میدان میں قمیص و شلوار پہن کر قومی لباس پہننے کی عملا ترغیب دی اور قومی وقار میں اضافہ کیا۔قمیص شلوار اور پشاوری چپل کے سارھ وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا۔
آج بھی سینکڑوں مسلم ممالک کے سربراہوں میں یہ واحد سربراہ ہے کہ جس کی بیوی نقاب و حجاب کرتی ہے۔
یہ کسی سے مخفی نہیں کہ نون لیگ کے سابق وزیر یورپ میں جاکر اپنے آپ کو لیبرل اور پی ٹی آئی کو مولویوں کی جماعت قرار دیتے رہے اور امر بالمعروف کی آیت کو طالبانی آیت قرار دیتے رہے۔۔۔۔۔
لکھنے کو تو اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ میں صرف اپنے محترم و معزز قارئین سے صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدا را آپ خود آزادانہ سوچیں اور انصاف کریں کہ عمران خان امریکہ، یورپ، ہندوستان یا یہودیوں کا ایجنٹ ہے یا اس کی مخالفت کرنے والے۔
خدا را دونوں طرف کے حقائق سامنے رکھ کر فیصلہ کیجئے۔❗