اب وزیراعظم آزادکشمیر کو بھی نوٹسز جاری

28 اگست کو راجا فاروق حیدر،  اسپیکراسمبلی کے سامنے پیش ہوں۔ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر

سپریم کورٹ کےفیصلے پرجو کہا،اس پر قائم ہوں،راجہ فاروق حیدر

اس فیصلے میں تحریک انصاف کے لئے بھی ایک بڑا پیغام ہے۔ تجزیہ نگار

عمران خان اور شیخ رشید کو کبھی گالی نہیں دی  ۔وزیراعظم آزاد کشمیر

راجا فاروق حیدر نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کےبعد پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ 'ایک روز قبل عمران خان نے کہا کہ میں ملک کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بناؤں گا، لیکن ان الزامات کی روشنی میں کیا یہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر یہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے تو مجھے بطور کشمیری یہ سوچنا ہوگا کہ کس ملک کے ساتھ میں اپنی قسمت کو جوڑوں'۔

ان کے اس بیان پر تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان نے انہیں زلیل شخص اور فیاض الحسن چوہان نے کیا پدی اور کیا پدی کو شوربہ کہاتھا جبکہ شیخ رشید نے کہاتھا کہ  وزیراعظم آزاد کشمیر کو جوتے مارے جائیں۔ایسے بیانات کا مجموعی طور پر پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام نے سخت نوٹس لیاتھا اور پاکستانیوں و کشمیریوں کی طرف سے  جواباً تحریک ِ انصاف کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری طرف  ذرائع ابلاغ کے مطابق آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سیکریٹریٹ کی جانب سے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کو 28 اگست کو اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے پیش ہوکر 29 جولائی کو دیے گئے اپنے بیان کی وضاحت کے لیے 6 الگ الگ نوٹسز جاری کردیے گئے۔

آزاد جموں وکشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر کو اپنے بیان پر وضاحت کے لیے نوٹسز اپوزیشن لیڈر کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریفرنس دائر کرنے کے بعد جاری کردیے گئے ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس طریقہ کار کا خیر مقدم کیا ہے ۔ تجزیہ نگار وں کے مطابق یہ نوٹسز آزادکشمیر کے عوام اور سیاستدانوں کے بلند سیاسی شعور پر دلیل ہیں۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ  ان نوٹسز کے ذریعے تمام  سیاستدانوں خصوصا تحریک انصاف اور شیخ رشید کے لئے واضح پیغام ہے کہ وہ اختلاف رائے کی صورت میں مخالفین کو بے عزت کرنے اور گالیاں دینے کے بجائے اخلاقی  و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کرنا سیکھیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر پہلے سے ہی یہ کہہ چکے ہیں  کہ 'میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر جو کہا اس پر ابھی بھی قائم ہوں، میں نے کوئی غلط بات نہیں کی، بلکہ میرے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان اور شیخ رشید کو کبھی گالی نہیں دی  اور ہمیشہ آپ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔