برصغیر کے سوشل میڈیا فعالین کی پہلی کانفرنس

تحریر: منظوم ولایتی

یہ سوشل میڈیا فعالین کی پہلی کانفرنس تھی۔ دیر آید درست آید۔ اہلبیتؑ نیوز ایجنسی ( ابنا) نے ایران کے شہر قم المقدس میں اس کا نفرنس کا اہتمام کیا۔ میرے بائیں جانب برادر ابراہیم عقیل تھے،جو مجھ سے پوچھنے لگے کہ استاد نذر حافی صاحب کون ہیں؟

میں نے ہال پر نظر دوڑائی تو استاد محترم نظر نہیں آئے۔کہا حافی صاحب تشریف نہیں لائے ہیں ابھی،جونہی تشریف لاتے ہیں تو آپ کو بتاتا ہوں، اتنے میں نذر حافی داخل ہال ہوئے اور دور سے مجھے ڈاکٹر فرمان سعیدی شگری صاحب کے بائیں جانب کرسی پر بیٹھتے دکھائی دیے۔ میں نے ابراہیم بھائی سے کہا کہ لیجئے وہ دیکھئے آغا نذر حافی صاحب۔۔۔

اتنے میں مجھے برادر ابراہیم صابری کی یاد آئی۔ پرسوں شب محترم ابراہیم صابری صاحب کا واٹس ایپ پر مسیج آیا ہوا تھا ۔

دیکھا تو فرمارہے تھے کہ مجمع جہانی اہلبیتؑ کی طرف سے برصغیر کے سوشل میڈیا فعالین کے ساتھ ایک نشست ہے، جس میں آپ کو بھی دعوت ہے، اور آپ نے مختصر گفتگو بھی کرنی ہے۔

راقم نے کہا اچھا چلیے لیکن گفتگو سے ہمیں معاف رکھئے،استاد محترم نذر حافی ہی ہماری نمائندگی کریں گے، باقی مطمئن رہیے کہ نشست میں شرکت ضرور ہوگی۔

گزشتہ روز ظہر کی نماز اپنے ابراہیم عقیل کے ہاں پڑھ کر ہم دونوں مجمع جہانی اہلبیتؑ کے مرکز کی تلاش میں نکل پڑے۔ برادر منظور حیدری کا بھلا ہو کہ برادر نے کال کرنے پر رہنمائی فرمائی، یوں ہم کانفرنس ہال میں انٹر ہوگئے۔

جوں ہی کانفرنس ہال میں پہنچے تو کافی سارے بزرگان جیسے ڈاکٹر یعقوب بشوی ،علامہ ڈاکٹر محمد لطیف کچوراوی ، آغا محمد علی شریفی ، محترم محمد بشیر دولتی اسی طرح ہمارے اپنے دوستان میں عارف بلتستانی، منظور حیدری، رفیق انجم، سید فصیح حیدر، سید احتشام کاظمی اور تنویر مطہری ہمیشہ کی طرح بروقت پہنچ چکے تھے۔

کچھ ہی دیر میں جامعہ نجف سکردو کے پرنسپل شیخ محمد علی توحیدی صاحب اور آغا مصطفی حلیمی صاحب وغیرہ بھی کانفرنس میں داخل ہوتے دکھائی دئے۔

شاید بہت سارے ایسے مہمان بھی تھے جن کا سوشل میڈیا سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا ، پھر بھی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے حوالے سے اکثر برجستہ شخصیات اور محققین موجود تھے۔

خیر! جب کانفرنس میں کافی شرکاء پہنچ گئے اور مجمع جہانی اہلبیتؑ کے سربراہ محترم آیت اللہ رمضانی بھی ہال میں داخل ہوئے تو پروگرام کا آغاز تلاوت کلام الہی سے ہوا۔ ناظمِ نشست نے بیان کیا کہ آج کی نشست میں پاکستان،ہندوستان،بنگلہ دیش اور میانمار سے ' راویانِ اہلبیتؑ' شریک ہیں۔

نشست کا پراسیس آگے بڑھا اور خاتون شرکاء سے حصولِ آراء کا آغاز کیا گیا۔ جدید دنیا میں جنگِ نرم (سوفٹ وار) کی مہارتوں، اہمیت اور دائرہ کار پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی طرح باری باری شرکاء سے ان کی آرا لی گئیں۔

استاد محترم نذر حافی،برادر محمد بشر دولتی، برادر ابراہیم صابری کے علاوہ برصغیر کےمختلف ممالک سے شریک احباب نے اظہارِ خیال کیا۔مفید تجاویز دیں۔ میانمار کے نمائندے نے اہلبیتؑ نیوز ایجنسی (ابنا) کا شکریہ ادا کیا کہ وہاں ان کی زبان میں 'ابنا' کام تو کر رہی ہے مگر کام میں مزید تیزی اور بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

مجمعِ جہانی اہلبیتؑ کے سربراہ آیت اللہ رمضانی، جامعة المصطفی العالمیہ کے فرہنگی مسئولِ کُل آغای رضائی اور جامعة النجف سکردو کے پرنسپل شیخ محمد علی توحیدی نے بھی انتہائی اہم نکات بیان کئے۔

شیخ توحیدی نے رہبر انقلاب کے اُس معروف فرمان کو بیان کیا کہ اگر میں اِس مقام پر نہ ہوتا تو سوشل میڈیا میں فعالیت کیلیے ایک ٹیم تشکیل دیتا اور اُس کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لیکر فعالیتیں انجام دیتا۔

شریکِ گفتگو احباب میں سے بعض نے اہلبیتؑ نیوز ایجنسی (ابنا) کا پاکستان میں ایک دفتر بنائے جانے کو ناگزیر قرار دیا اور باقاعدہ ایک نیٹ ورک ( اتحادیہ) کو باہم ملکر کام کرنے سے متعلق بھی کافی تجاویز دیں۔

راقم نے بھی ایک دو تجاویز لکھ کر رکھی ہوئی تھیں ۔ میرا ارادہ تھا کہ اگر وقت بچ گیا تو اُس اہم پلیٹ فورم پر جہاں مجمع جہانی اہلبیتؑ والوں کا آج کے اِس بڑے پروگرام کے انعقاد پر شکریہ ادا کروں، ساتھ ساتھ استاد محترم نذر حافی کا بھی خصوصی شکریہ ادا کروں کہ وہ انفرادی طور پرسوشل میڈیا کے دوستوں کو نہ صرف باہم جوڑ کر رکھتے ہیں بلکہ ان کی فعالیتوں کو نکھارنے میں حد درجہ کوشش کرتے ہیں، اسی طرح وائس آف نیشن کے پلیٹ فارم کا مختصر تعارف بھی کرادوں کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ فورم کس طرح اپنی مدد آپ کے تحت سوشل میڈیا پر مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ساتھ ہی تکراری تجاویز سے ہٹ کر 'ابنا' کے زیرِ انتظام آج کی جدید مطلوبہ ٹیکنیکی تربیت کا سلسلہ مخلتف کورسز کی شکل میں شروع کرنے کا مشورہ بھی دوں۔ قلت وقت کے باعث راقم نے اپنی تجاویز لکھ کر مسئولین تک پہنچا دیں۔

یاد رہے کہ نشست کے آخر میں مجمع جہانی اہلبیتؑ کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اپنی گفتگو میں چند اہم نکات بیان فرمائے جن میں سے چند ایک احباب کے استفادے کیلئے مرقوم کر رہا ہوں:

۱۔میڈیا کے اندر فعالیتوں میں اخلاقی قدروں کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی

۲۔آپ نے فرمایا کہ ابھی تک دنیا اسلام لیبرالزم اور اسلام داعشی کو جانتی ہے اسلام ناب سے آشنا کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔

۳۔ ہم صلحِ کل نامی اسلام کو نہیں مانتے بلکہ ہم صلح با عدالت کے قائل ہیں، اسلام میں صرف رحمت ہی نہیں بلکہ استعماری قوتوں کے خلاف شدت بھی پایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اِس نشست کی کوریج کیلیے سحر اردو نیٹ ورک سمیت مختلف ٹیلی وی چینلزاور اخبارات کے نمائندے بھی موجود تھے۔


افکار و نظریات: سوشل میڈیا فعالین کانفرنس