ابنا نیوز ایجنسی اور ایک پیغام
(تحریر:سید احتشام علی کاظمی)

دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں۔ نرم اور سخت۔ جو اپنی نرم طاقت سے استفادہ نہیں کرتے اُن کی سخت طاقت اُنہی کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔ اِن جُملوں کے ساتھ محترم نذر حافی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ کانفرنس ہال میں سنّاٹا چھا گیا۔ یہ ایران کے شہر میں سوشل میڈیا کے فعال اراکین کے اعزا میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس تھی۔ کانفرنس میں وائس آف نیشن کے دیگر محققین اور تجزیہ کار بھی جلوہ افروز تھے۔ اُستاد نذر حافی صاحب نے کہا کہ نرم طاقت تحقیق اور میڈیا سے تشکیل پاتی ہے۔ تحقیق کے بغیر کوئی معلم ہو، مصنف ہو یا خطیب، اُس کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ جب معلّم، مصنف یا خطیب تحقیق کرتا ہے تو پھر اُسے اپنی تحقیق کو معاشرے کی خدمت کیلئے پیش کرنے کا ہُنر بھی آیا چاہیے۔ جو عالم اپنے علم کو معاشرے کے سامنے پیش کرنا نہیں جانتا وہ ایک چھپے ہوئے خزانے کی مانند ہے۔ جس کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔
کانفرنس کا اہتمام ابنا نیوز ایجنسی نے کیا تھا۔ میرے ساتھ رفیق انجم صاحب، محترم منظور حیدری، سید فصیح حیدر، اور کچھ نا آشنا چہرے کُرسیوں پر بیٹھے تھے۔ پروگرام 12:30 بجے شروع ہونا تھا تو ہم 12:00 بجے ہی حال میں پہنچ چکے گئے۔ ہال کے باہر چند منتظمین مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے موجود تھے۔
قم المقدس میں دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے لوگ پڑھنے کیلئے آتے ہیں۔ یہ کانفرنس صرف برِّ صغیر کے فعال افراد کے اعزاز میں تھی۔ برّصغیر کے مختلف ممالک کے ان نمائندہ افراد کی تعدد ۱۱۰ بتائی گئی۔ اپنی اپنی گفتگو میں تقریباً ہر ملک کے نمائندے نے اپنے ملک میں" ابنا "کا دفتر کھولنے کی رائے دی۔
اہل بیت(ع) کی عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ العظمی رمضانی نے دنیا میں اُمید افزا خبروں کی اشاعت پر تاکید کہا کہ ہمیں مسلمانوں اور عالم اسلام کو اپنے مستقبل کے حوالے سے پُر امید رکھنا چاہیے۔ ہمیں لمحہ بہ لمحہ مسلمانوں میں ایمان اور امید کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میڈیا کے کام میں ہمارے پاس میڈیا کی مہارتیں اور اخلاقیات کا ہونا ضروری ہے، اور ساتھ ہی ہمیں سینما اور انیمیشن جیسے مختلف فارمیٹس کا استعمال کرنا چاہیے اور بہترین اور موثر فارمیٹس کو سیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان محقق کو میڈیا میں کام کرتے ہوئے ہمیشہ اسلامی اقدار کی پیروی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مقامِ معظم رہبری کے بیانات کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں دشمن کی طرف سے ایک سخت جنگ کا سامنا ہے، میڈیا اس حملے کا حصہ ہے اور ہمیں میڈیا کے محاز پر دشمن کو دندان شکن جواب دینا چاہیے۔
کانفرنس کا دورانیہ تو کم تھا لیکن اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہ لوگ جو میڈیا کے مختلف میدانوں میں فعال ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملاقات کرنے سے عاجز تھے، وہ سب اکٹھے مل کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میزبانوں کو بہترین تجاویز دے رہے تھے، جہاں ایک دوسرے سے مکالمہ کر رہے تھے وہیں انتہائی سنجیدگی سے میڈیا کے مختلف پہلووں کو بھی زیرِ بحث لا رہے تھے۔
میں جب سب کو اس طرح خلوص کے ساتھ غوروفکر کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں بار بار یہ جملے گردش کر رہے تھے:
دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں۔ نرم اور سخت۔ جو اپنی نرم طاقت سے استفادہ نہیں کرتے اُن کی سخت طاقت اُنہی کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔ کاش یہ پیغام ہر طالب علم تک پہنچے۔