عید مبارک۔۔۔

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
سید فصیح حیدر

عید پر تو قیدیوں کی بھی اپنے عزیزوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ نجانے وہ لوگ کیسے عیدِ قربان منائیں گے جن کے پیارے ابھی کچھ دن پہلے یونان کے سمندر میں ڈوب گئے۔ کبھی پارہ چنار کے اُن اساتذہ کے پسماندگان کے بارے میں بھی سوچئے گا جنہیں عیدا الفطر سے پہلے شہید کر دیا گیا تھا۔
آج خبر ملی ہے کہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے عید الاضحیٰ کے دن پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے عزیزو اقارب کو قیدیوں سے صبح 8 بجے سے 5 بجے تک ملاقات کی اجازت دی ہے۔ قیدیوں کو ملاقات کے ساتھ کھانا بھی دیا جاسکے گا۔جبکہ جیل پی سی او کے ذریعےصبح 8 بجے سے شام 5 بجےتک قیدیوں کو لواحقین سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔یہ ایک مستحسن قدم ہے۔ ہمیں مُجرم کے بجائے جُرم سے نفرت ہونی چاہیے۔
یہ عید اپنے ساتھ غم کا سمندر بھی لے کر آئی ہے۔ہمیں غم منانے کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اسمگلنگ ایک جرم ہے اور لوگوں کے تعاون کے بغیر یہ جرم معاشرے میں رواج نہیں پا سکتا۔ اگر عوام اسمگلروں کی آواز پر لبیک نہ کہیں اور سرکاری ادارے اسمگلروں کی سرپرستی نہ کریں تو اسمگلنگ ہو ہی نہیں سکتی۔
ہمارے لوگوں نے یورپ کی کمائی کیلئے خود اپنے وہ جگر گوشے قربان کر دئیے جو تنہا روزی روٹی کا وسیلہ تھے، وہ گھر وں سے نکلے نہیں تھے بلکہ نکالے گئے تھے، سب نے مل کر اپنے اپنے پیاروں کو گھروں سے نکالا تھا کہ جاو اور ہم سے دور رہ کر، مشقت کر کے، پیٹ پر پتھر باندھ کر ہمارے خوابوں کی تعبیر بنو۔ وہ خوابوں کے سوداگر بن کر نکلے تھے کہ جنکی تعبیریں سمندروں میں بہہ گئیں۔ وہ ایسی امید وں کے گھوڑوں پر سوار تھے جو جو پانیوں کی نظر ہو گئے۔ وہ اپنے ساتھ اپنا ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ لے کر ڈوب گئے۔ یہ لوگ دس بیس تیس نہیں تھے بلکہ 300 پاکستانی تھے جو ایک ہی کشتی پر سوار تھے ۔ کیا یہ لوگ جو اتنی بڑی تعداد میں ملک سے غیر قانونی طور پر نکل پڑے تھے کسی کو معلوم نہ تھا؟ کیوں یہ لاکھوں اور ملینز دے کر وطن چھوڑ رہے تھے؟ یہ خود بھی ڈوب گئے اور اپنے لواحقین کو بھی مقروض کر گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پسماندگان نے اس سے کوئی عبرت بھی حاصل کی یا نہیں؟ آج لوگ قربانی کیلئے جانور ذبح کریں گے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے جگر گوشے حضرت اسماعیل کی قربانی کر کے ہمیں یہ درس دیا تھا کہ اپنی خواہشاتِ نفس پر خنجر چلا دینا۔ ہم لوگ جانور تو ذبح کرتے ہیں لیکن اپنی خواہشاتِ نفس کیلئے اپنے پیاروں کو غلط راستوں اور تاریک راہوں میں مرنے کیلئے اسمگلروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
اس عید پر کاش ہم حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اپنے نفس کی مخالفت کرنا بھی سیکھیں۔ گزشتہ سال ساڑھے 8 لاکھ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے۔ اس سال فقط پانچ ماہ میں سوا تین لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
300 پاکستانیوں کو گمراہ کر کے لے جانے والے صرف اسمگلر ہی اُن کے قاتل نہیں بلکہ وہ سب لوگ اُن کے اس قتل میں شریک ہیں جنہوں نے اس غیر قانونی سفر میں اُن کی مدد کی۔ علمائے دین کو اِس حوالے سےاپنا موقف بیان کرنا چاہیے اور لوگوں کو شعور دینا چاہیے۔
اس وقت میڈیا کئی کئی لاکھ کے بکرے اور بیل دکھانے میں مصروف ہے۔ کبھی خبر چل رہی ہوتی ہے سرگودھا منڈی خالی ہو گئی تمام جانور فروخت ہو گئے، کبھی شیخوپورہ کے قربانی کے بیل کے بارے خبر آتی ہے کہ بیل نالے میں جا گرا۔ لیکن کاش کے یہ خبر بھی چلے کہ فلاں علاقے کے لوگوں نے اس سال عید پر اسمگلروں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، فلاں علاقے کے لوگوں نے اُن سرکاری کارندوں کے خلاف عدالتی کارروائی کا اعلان کیا ہے جو اسمگلروں کے سرپرست ہیں۔۔۔کاش یہ خبر چلے کہ فلاں علاقے کے باسیوں نے انسانی اسمگلنگ کے ٹھکانوں کے خلاف کریک ڈاون کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔ کاش۔۔۔ کاش ۔۔۔ کاش
میں کیسے یہ کہنے کی ہمت کروں کہ انسانوں سے بھری کشتی سمند میں ڈوب گئی! سچ تو یہ ہے کہ دوسروں کا بوجھ اٹھانے والے ڈوب گئے لیکن دوسروں نے اُن کی خاطر اسمگلنگ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
محترم نذر حافی نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا اور سچ ہی لکھا تھا کہ "
جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئے والے پیسے لیکر لوگوں کو جانے دیتے ہیں، جنکا دعویٰ ہے کہ اسمگلر حضرات اور سرکار کی ملی بھگت سے یہ سب ہوتا ہے، جنکا الزام ہے کہ انکے عزیزوں کو ورغلا اور بہکا کر لے جایا گیا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ اگر آپ انہیں آج بھی یہ یقین دلا دیں کہ اب کی بار کشتی نہیں ڈوبے گی، آپ اُنہیں یہ ضمانت دے دیں کہ اس مرتبہ اسی غیرقانونی راستے سے تمام لوگ بحفاظت یورپ پہنچ جائیں گے تو یہ لوگ پھر سے جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔۔۔ شک نہ کیجئے اور یقین جانئے کہ حتماً جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے، چونکہ ہم غلط کو غلط کہہ کر بھی ترک نہیں کرتے۔"
آخر میں بصد احترام عرض ہے کہ
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر۔۔۔کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی


افکار و نظریات: عید مبارک