🚩 ۔اعلان غدیر خم ۔
🧠____ ۔عقل و منطق اور نبی ص کی صداقت و امانت کا تقاضا کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔🚩
❗✍️ ۔نذر حافی ۔

______
کیا نبی اکرمﷺ حضرت علی کے فضائل اس لئے بیان کرتے تھے کہ وہ رسول ص کے چچا زاد بھائی یا داماد تھے؟⁉️
۔یا پھر ۔ ان فضائل کی وجہ رشتے داری نہیں بلکہ یہ تھی کہ حضرت علی علیہ السلام حقیقت میں اسی مقام و فضیلت کے حامل تھے؟۔ ⁉️
واضح رہے کہ اگر نبی اکرمﷺ رشتے داری کی بنیاد پر حضرت علی کے فضائل بیان کرتے تھے اور اپنے رشتے داروں کو نوازتے تھے اور ان کے گن گاتے تھے تو نعوذباللہ ایسا کرنا مقام رسالت و نبوت کے خلاف ہے۔❗
۔نبی کریمﷺ ۔ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں صادق اور امین تھے۔ آپ حقیقت اور سچائی کے علاؤہ کسی چیز کا اعلان نہیں کرتے تھے۔
۔خبردار ۔❗یوں نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ رشتے داری کی بنیاد پر حضرت علی ؑکو بہادر اور شجاع کہتے تھے، یا میدان غدیر میں ۔“من کنت مولا فھذا علی مولا” ۔ کا اعلان رشتے دار ؛ داماد اور چچا زاد ہونے کی بنیاد پر تھا بلکہ ۔یہ سارے اعزازات و فضائل حضرت علی ؑ نے اپنی جدوجہد، محنت، خلوص اور جہاد کے ساتھ کسب کئے تھے ۔
اور پیغمبرؐ نے پوری صداقت و امانت کے ساتھ ان فضائل کا اعلان کیا تھا۔
❌❌❌👇

۔قطعاً ایسا نہیں تھا کہ ۔ دعوت ذوالعشیر میں حضرت علی ؑ خاموش بیٹھے رہے تھے۔ آپ نے کسی قسم کی تصدیق نبوت و رسالت ص نہیں کی تھی ۔۔۔ اور اسلام کی پہلی دعوت تبلیغ میں جب نبی اکرمﷺ نے یہ اعلان کیا تھا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور میں اس کا رسول ہوں، ۔آج کے دن جو میری تصدیق کرے گا، وہ میرا جانشین بھی ہوگا اور وصی بھی، ۔
اس اعلان کے بعد یوں نہیں ہوا کہ حضرت علی ؑ بھی بغیر تصدیق کے خاموش بیٹھے رہے اور ۔پھر بعد میں جب پیغمبر ؐ نے انہیں اپنی بیٹی دے کر داماد بنا لیا اور اس کے بعد ایک دم میدانِ غدیر میں یہ اعلان کر دیا کہ جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی ؑ مولا ہے، ۔ لہذا آو علیؐ کی بیعت کرو۔
✔️✅👇
ایسا کرنا منصب نبوت کے بھی خلاف ہے اور عقل و منطق اور تاریخ سے ہٹ کر بھی ہے۔
❗👇
۔جو آدمی ختمِ نبوت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یہ بھی ایمان رکھتا ہے کہ نبی اکرم ؑ نے اپنے اہل بیت ع اور حضرت علی ؑکے جتنے فضائل بیان کئے، وہ رشتے داری، قرابت داری؛ اقربا پروری اور قبیلہ نوازی کی وجہ سے نہیں تھے بلکہ اہل بیت رسول ص اور امام علیؑ حقیقت میں ایسے ہی تھے۔ ۔
رسول ص نے میدان غدیر میں جو من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ کا جو اعلان کیا وہ اس لئے کیا کہ حقیقت میں حضرت امام علی علیہ السلام کے علاؤہ کوئی اور اس منصب کے قابل نہیں تھا ۔اگر کوئی اور اس منصب کے لائق ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا اعلان کرتے چونکہ ہمارے نبی ص ایک صادق اور امین نبی ہیں۔ ۔
V⭕N
Join us🧲


افکار و نظریات: https, twitter, com, HaffiNazar