شہید
سید فیضان حیدر نجفی

جب انسانیت دم توڑنے لگتی ہے۔ انسانوں کی رگوں میں کاہلی ،سستی،عدمِ توجہ اور خودی سے دوری کا زہر دوڑ رہا ہوتا ہے۔یہ زہر بھی سرطان کی مانند اتنا خطرناک ہے اور اتنا غافل گیرکہ انسانیت جان ہی نہیں پاتی کہ موت اس کے کتنے قریب ہے۔اس عالَم میں ایک مسیحا!اپنے سر پہ کفن باندھے،موت سے پہلے مر کے زندہ ہو جاتا ہے۔پھر وہ اپنے پاکیزہ خون سے بھرے تریاق کا پیالہ انسانیت کے لبوں سے لگا دیتا ہے ۔دل دھڑکتے ہیں،سانسیں چلتی ہیں،حیات دوڑتی،بیداری جاگ جاتی ہے ۔یوں مسیحا کے لہو کی ہر بوند انسانیت کی رگوں میں ایک نئی زندگی پیدا کرتی ہے ،اور مسیحا انسانیت کی حیات بن کر ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتا ہے ۔جسے فرزندان ِ توحید "شھید شھید"کہہ کہ پکارنے لگتے ہیں۔
بدن کا گولیوں سے چھلنی ہونا، بدن کا زخموں سے چور چور ہونا ،جسم کا ٹکڑے ٹکڑے ہونا،خاک میں مل کر بے نشاں ہونا،سر کا تن سے جدا ہونا،خون کی بارش میں نہانا ،ان حالتوں کو شھادت کہنا مجھے مناسب نہیں لگتا ۔یہ شھید ہونے کا نتیجہ تو ہیں ،خود شھادت نہیں۔
پھر شھادت کیا ہے!؟
موت سے پہلے مر جانا،نفس کے بے لگام گھوڑے پہ غلبہ پانا،موت سے پہلے نظروں میں غیب کا شہود میں بدل جانا،معرفت کے جام لبوں سے ایسے لگانا کے ہر قطرہ روح میں اتر کر وحدت کے نشہ میں مست کر دے۔ لفظ ِ شھید کا کیا مطلب ہے؟

لغات کہتی ہیں گواہ کو شھید کہتے ہیں،وہ بھی ایسا گواہ کہ جو آنکھوں سے دیکھ کر گواہی دے ۔شھید کی آنکھیں ہر زرے میں خدا کا جلوہ دیکھ رہی ہوتی ہیں۔

رازِ خلقت اس پر عیاں ہو جاتا ہے ۔موت اور حیات اس کی نظر میں برابر درجہ رکھتی ہیں ۔وہ زندہ نہیں ہوتا' زندگی' ہوتا ہے ۔کیونکہ زندہ تو مر سکتا ہے لیکن زندگی کو کوئی مار نہیں سکتا۔
اس لئے ہر قتل ہونے والے کو شہید کہنا بے جا ہے ،شھید صرف وہی ہے جو قتل ہونے سے پہلے شھید ہو چکا ہو۔دوسرے لفظوں میں ایک عارف ہی شھید ہے ،اور شھید ہی عارف ہے۔شھید ہونا نہیں پڑتا،شھید بننا پڑتا ہے ۔شھادت کے لیے معیار بدن کا زخموں سے چور ہونا نہیں ،بلکہ شھید اگر بستر پہ مرے تو شہید ہے ،قتل ہو تو شہید ہے۔
شہید بہتے ہوئے صاف و شفاف پانی کی طرح ہے ،جو دیکھنے والوں کو آئینہ بھی دیکھاتا ہے۔جو اپنے ارد گرد رہنے والوں کو زندگی جینے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔

کبھی یہ بہتا پانی خاموشی کی تصویر بنتا ہے،کبھی کبھی اس کی موجوں میں ایسا اضطراب اور طلاطم پیدا ہوتا ہے، جو دھرتی کو ہلا کے رکھ دے۔یہ چلتے چلتے سمندر میں غرق ہوتا ہے۔اس کے بعد ہوا کی دوش پہ سوار دھند کی صورت پرواز کرتا ہے،پھر بادلوں سے رحمت بن کر بہتا ہے ۔اس کا فیض چلتا رہتا ہے،اس کی ھدایت جاری رہتی ہے۔حقیقی مرشد شھید ہی ہو سکتا ہے ،مطلوب تک وہی لے جا سکتا ہے جو پہلے مطلوب تک گیا ہو ،راستوں سے واقف ہو۔
خواہشات اور شہوات کے زندان میں قید ہونے والے قتل تو ہو سکتے ہیں ،شہید نہیں بن سکتے۔شہادت کی مہر اسی کے صفحہ وجود پہ لگتی ہے،جس کے دل کا قرطاس ہر غیر کی نقش و نگاری سے عاری ہوتا ہے۔

شہادت بچوں کا کھیل نہیں کہ
یہ عشق نہیں آساں،بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے، اور ڈوب کے جانا ہے


افکار و نظریات: ​ ​  Voice of Nation