ہمارا نظامِ تعلیم اور غلط مفروضے

نذر حافی

کبھی اپنے بچوں کی نصابی کتابوں کو کھول کر دیکھئے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اس ملک میں فقط فوجی ہیروز اور شہدا ہی گزرے ہیں۔ مجال ہے کہ آپ کو انسانی حقوق، سول سوسائٹی، فلاحی اداروں، پولیس، فائربریگیڈ، صحافت اور رفاہِ عامہ کے ممتاز اور برجستہ افسران نیز ان کی خدمات اور شہدا کا ذکر ملے۔ فوجی شہدا کے کارناموں سے کسی کو انکار نہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس ملک میں صرف نشانِ حیدر ہی ایک قومی اعزاز ہے۔ فوج کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہونہار سپوتوں کا ذکر ہمارے ہی بچوں کے نصابِ تعلیم میں شامل نہیں۔ دوسری طرف اب ہمارے ماہرینِ تعلیم کو یہ کون سمجھائے کہ دینِ اسلام صرف انسان کی داڑھی لمبی کرانے، اس کے سر پر ٹوپی یا عمامہ رکھوانے اور اُسے لمبا کُرتا یا چوغہ پہنوانے نہیں آیا ۔ اسلام تو انسان کو ایسی تعلیم دینا چاہتا ہے کہ انسان دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائے۔ ہم نے اسلام کو کامیابی کے ایک نظام کے طور پر سمجھا ہی نہیں۔چنانچہ ہمارے ہاں نظامِ تعلیم کو کسی ایک خاص فرقے کا دعوتی و تبلیغی سسٹم بنانے پر ساری توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔

ہمارے ماہرینِ تعلیم نے اسلامی تعلیم و تربیت کا مطلب صرف آیات و روایات کو حفظ کرنا، وضو و غسل اور کھانا کھانے کی دعاوں کو زبانی یاد کرنا، آیات و روایات سے تقاریر کرنا ،اخلاقی مباحث پر وعظ و نصیحت کرنا اور زیادہ سے زیادہ فقہی احکام کا رٹنا سمجھ لیا ہے۔ چنانچہ جب بھی قومی نصاب ِ تعلیم کی بات ہوتی ہے تو پھر سے انہیں چیزوں پر تمرکز کیا جاتا ہے۔

اس وقت ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو سدھارنے کیلئے فوری طور پر مندرجہ زیل تین مراحل طے کرنے چاہیے:

۱۔پہلے سے موجودہ و مجوّزہ تعلیمی منصوبے میں اصلاحات و ترامیم کے مقامات کا تعیّن

ایک مقررہ مدّت کے اندر اس سلسلے میں ماہرینِ تعلیم کی ایک کمیٹی مختلف سکولوں، کالجز، یونیورسٹیز ، دینی مدارس اور مختلف علمی سوسائٹیز و کمیونٹیز سے مقالہ جات لکھوائے، کانفرنسز منعقد کرائے اور اس منصوبے پر مکالمہ و مباحثہ کروائے۔ ان کاوشوں کی صورت میں سامنے آنے والے اعتراضات اور نقد کی روشنی میں ایک اصلاحی و ترمیمی مسوّدہ تیار کر کے ماہرین کے سامنے رکھا جائے۔

۲۔ تعلیمی منصوبے کے ابتدائی، وسطی اور نہائی اہداف کا از سرِ نو جائزہ اور تعین

منصوبہ وہی قابلِ عمل ہوتا ہے جس کے اہداف نپے تُلے اور واضح ہوں۔ایک اسلامی و رفاہی ریاست کے تعلیمی منصو بے کا نہائی اور واضح ہدف یہی ہے کہ صراطِ مستقیم پر قائم رہتے ہوئے خدا کا قرب حاصل کیا جائے۔ خدا کے اس قُرب کے سفر میں انسان نے سیاست، اقتصاد، مدیریت، اخلاق ، ایجوکیشن، کیمسٹری، فزکس،ٹیکنالوجی اور۔۔۔ ان سارے شعبوں پر عبور صراطِ مستقیم سےپانا ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے یہ تشخیص دینا ہے کہ ابتدائی﴿ پرائمری ﴾تعلیم میں یہ صراطِ مستقیم اس مدیریت، شیڈول، محتویٰ، ماحول اور نصاب کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح مڈل ، ہائی، انٹرمیڈیٹ اور بعد کی تعلیم کیلئے بھی ماہرین نے ہی مذکورہ عناصر کو مشخص کرنا ہے۔

۳۔ تعلیمی منصوبے کے بنیادی نظریاتی ماخذ جیسے کتاب و سُنّت، افکارِ قائداعظم و علامہ اقبال کا مشخص کرنا

ہمارا نظام تعلیم جن دینی کتابوں اور شخصیات کی تعلیمات پر کھڑا ہوگا اُن سب کا ذکر تعلیمی منصوبے میں ہونا چاہیے۔ ہر تعلیمی ادارے کی مدیریت، شیڈول، نصاب، اساتذہ کی ٹریننگ، ماحول اور برتاو سب کچھ اسی کے مطابق ہوگا۔

ان تین مراحل کے ساتھ ایک مضبوط اور شفاف پالیسی کا ہونا بحی ضروری ہے۔ہمیں خیالی دنیا سے نکل کر پاکستانی ثقافتی اور سماجی تقاضوں پر مبنی ایک نظریاتی ماڈل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مثلا جب ہم یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں غیر مُسلم اقلیتیں بھی رہتی ہیں تو نظامِ تعلیم کے بنیادی ماخذ قرآن و سُنّت کو قرار دینے کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ غیر مُسلم اقلیتوں کے بچوں کا اپنے ادیان کے مطابق نظریاتی رُشد کا کوئی سامان ہی نظامِ تعلیم کے اندر موجود نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں انہیں چُپکے سے مسلمان بنانے کیلئے ایک دعوتی و تبلیغی قسم کا نظام بنادیا جائے۔ اگر ایسا کیاجائے تو یہ یکساں نظامِ تعلیم اور ایک قوم ایک نصاب کی روح کے منافی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں قرآن و سنّت کو تعلیم و تربیت کا بنیادی ماخذ قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سُنّت نے دیگر ادیان و مذاہب کو جو مذہبی آزادی اور سماجی احترام دیا ہے اُس کی جھلک استادوں کی تربیت، سکول کے ماحول اور کتابوں کے صفحات سے چھلکے۔ تمام ادیان کی آبادی کے تناسب سے کتابوں میں ان کے مشاہیر، خوبیوں اور تہواروں کا ذکر موجود ہو نیز طلبا کو عملا ً ایک دوسرے کے تہواروں اور عبادت گاہوں میں لے جاکر انہیں ادب و احترام کے ساتھ باہم جینا سکھایا جائے۔

اگر نظامِ تعلیم کو اسلامی بنانے کا مطلب کسی ایک فرقے کا اسلام زبردستی ٹھونسنا ہے ، جیسے استادوں کے حُلئے بھی ایک ہی فرقے کے ہوں، کتابوں میں بھی ایک ہی فرقے کے اکابرین اور نظریات کا پرچار ہو، تعلیمی اداروں کے درودیوار پر بھی ایک ہی فرقے کے اکابرین کے فرامین اور تصاویر دکھائی دیں، اور سکول کا ماحول بھی کسی ایک فرقے کی مسجد کا سا نظر آئے تو پاکستان جیسے کثیرالمسالک ملک میں ایسا کرنا عملاً ممکن نہیں ۔

ہم ، ہماری قوم اور ہمارا ملک آج جہاں بھی کھڑا ہے یہ ہمارے گزشتہ نظامِ تعلیم کے باعث ہے اور آگے ہم کس مقام پر پہنچیں گے اُس مقام کا تعیّن بھی ہمارا نظامِ تعلیم ہی کرے گا۔ اگر اپنا اپنا بنایا ہوا اسلامی نظامِ تعلیم کا غلط مفروضہ ہم سب اپنے اپنے دماغوں سے نکال دیں اور اسلام کی آفاقیّت کو دل و جان سے قبول کر لیں تو پھر ایسا نظامِ تعلیم تشکیل پا سکتا ہے جسے اقلیتیں بھی قبول کریں گی اور سارے فرقے بھی۔