بلتستان کے علما و خواص کے نام
تحریر ✒️ابراہیم شہزاد


کھیل کود اور تفریح کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ کھیل کود کے بہترین مواقع فراہم کرنے پر عوامِ علاقہ سرفہ رنگاہ کی انتظامیہ کے نہایت ممنون و مشکور ہیں۔ یہ سب انسانی جسمانی اور ذہنی سکون کے لئے نہایت ضروری ہے۔ صحت مند بدن میں ہی صحت مند ذہن موجود ہوتا ہے۔ لہذا صحت مند ذہن ہی معاشرے کو ترقی سے ہم کنار کر سکتا ہے۔ تاہم! اس کھیل کی آڑ میں فحاشی و عریانی کا فروغ اور مغربی کلچر کی ترویج کی قباحت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ شنید ہے کہ سرفہ رنگاہ میں کھیلوں کے پروگرامز میں "میوزیکل شو" یعنی رقص و سرور کے انتظامات بھی ہو رہے ہیں۔
سرفہ رنگاہ کے دیندار عوام اس سے سخت پریشان ہیں ۔ لگتا ہے کہ اب علماء کرام اور معاشرے کے معاملہ فہم افراد کو چُپ کا روزہ توڑنا ہوگا۔ لوگ فقط علما ئے کرام کے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔
زمینوں پر ناجائز قبضہ ہوں یا بے شعور طبقہ کی اغیار کے لئے زمینوں کی خرید و فرخت ، بلتستان یونیورسٹی میں وی سی کا مسئلہ ہو یا شاہراہ قراقرم کی ناقص کنسٹرکشن۔ ۔۔ ہر معاملے پر "چُپ"۔ اکّا دکّا شخصیات کے علاؤہ باقی سب کو نجانے معاشرے کی خرابیاں کیوں نظر نہیں آتیں ؟! علمائے کرام اور خواص نے گویا معاشرے کو اشرار اور شیاطین کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے! انتظامیہ میں چھپی بعض کالی بھیڑوں اور چند این جی اوز کی مکروہات سے مسلسل چشم پوشی کا بھاری تاوان ہماری آئندہ نسلوں کو ادا کرنا پڑے گا۔
جی بی کے عوام الحمدللہ "علماء دوست" عوام ہیں۔ علماء کے احترام کرنے والے لوگ ہیں۔ علماء کی رہنمائی میں چلنے والے لوگ ہیں۔۔۔ کوئی رہبر آکر بتائے تو سہی کہ کس سمت میں حرکت کرنی ہے! کس چیز کی مخالفت کرنی ہے! اور کس چیز سے اجتناب کرنا ہے!؟۔
لہذا انتہائی مودبانہ گزارش ہے کہ اس طرح کے سوشل ایشوز کے بارے میں بھی عوام کو آگاہی دی جائے۔ مَرے ہوئے یزید پر لعنت کرنے کے ساتھ ساتھ زندہ یزیدوں اور ان کی راہ و روش کو بَرملا ترک کرنا ہی "حسینی عزادار" کی نشانی ہے۔
اسی طرح انتظامیہ کو بھی بلتستان کی ثقافتی نزاکتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہاں اہل بیتؑ کے چاہنے والے بستے ہیں۔ یہاں کی اسلامی اقدار سے چھیڑ خانی کسی طور بھی عقلمندی نہیں۔ لوگ کسی بھی قسم کی بیہودہ سرگرمی ، معاشرتی بگاڑ پیدا اور ثقافتی یلغار سے نمٹنا اچھی طرح جانتے ہیں۔
دنیا جہاں کے اوباشوں کے جذبات کی تسکین کیلئے سرفہ رنگاہ کی سرزمین پر رقص و موسیقی کی محفلیں سجانا، یہاں کے عوام کے نزدیک کھلی بے غیرتی ہے۔لہذا! ہم انتظامیہ کو سمجھائے دیتے ہیں کہ ایسے پروگراموں اور تقریبات کو فورا منسوخ کیا جائے۔ سارے پاکستان کا حال ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے علما اور زعما کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پر وہ نہ ہونے دیں جو سارے پاکستان کے ساتھ کیا گیا۔کھیلوں کے نام پر دنیا بھر کی غلاظتیں ارض بلتستان پر ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے۔

ابراہیم شہزاد کی دیگر تحریریں


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv