حماس کے تین مخالف گروہ
نذر حافی


تین طرح کے لوگ حماس کے خلاف ہیں۔ ۱۔ بعض شیعہ ۲۔ بعض اہلسنت ۳۔ بکاو مال ﴿ اسرائیل کے ہاتھوں بکے ہوئے لبرلز اور دانشور نیز بعض مذہبی رہنما﴾
اہل تشیع میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلسطین ایک سُنی اکثریتی منطقہ ہے، ایران کو وہاں اہلسنت کے دفاع کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے چاہیے۔ اسرائیل کے خاتمے سے اہل سنت مزید مضبوط ہونگے اور اس کے نتیجے میں شیعہ دشمنی اور شیعہ کُشی میں اضافے کے علاوہ ایران کو کچھ نہیں ملے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت اسرائیل کے ساتھ دوستی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کر کے اپنے اقتصاد اور اہلِ تشیع کو مضبوط کرے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2010ء میں حماس کی سکیورٹی سروس کے اداروں نے درجنوں اہل تشیع افراد کو گرفتار اور لاپتہ کیا تھا، جس سے بڑی سطح پر حماس اور فلسطینی اہلِ تشیع کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اسی طرح غزہ میں ابن بار الخیریہ الاسلامیہ اور “سلفی جہاد” کے نام سے ایسی تنظیمیں موجود ہیں، جو ہمارے ہاں کی سپاہِ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی طرز پر اہل تشیع کے خلاف سرگرم ہیں۔ چنانچہ معترضین موجودہ صورتحال کو ایران کیلئے ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں، اُن کے مطابق ایران اس وقت صلاح الدین ایوبی سے لے کر آج تک کے سارے حساب برابر کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
اہل تشیع کی صفوں میں سے مذکورہ بالا فکر رکھنے والے حضرات کو اہلِ تشیع کے ہاں برطانوی شیعہ کہا جاتا ہےیہی اہل تشیع کا وہ طبقہ ہے جو ایران کی موجودہ اسلامی حکومت سے نالاں ہے۔ اس طبقے کے مطابق ایرانی حکومت کو گرم لوہے پر ضرب لگانی چاہیے۔ اس وقت جہاں اسرائیل سے اقتصادی فائدہ اٹھاکر ایران کو مستحکم کیا جا سکتا ہے وہیں فلسطین سے اہلِ سُنّت کا صفایا بھی با آسانی ممکن ہے۔ ایسے لوگ اگرا ایران میں موجودہ انقلابی حکومت کا تختہ الٹ کر کبھی برسرِ اقتدار آتے ہیں تو اس کے بعد کا نقشہ آپ خود سوچ لیں۔
حماس کے مخالفین کا دوسرا طبقہ بعض اہلِ سُنّت پر مشتمل ہے۔ یہ ایسے اہلِ سُنّت ہیں جو ماضی کے ڈیڑھ دو سو سالوں میں وجود میں آئے۔ انہیں لوگ اہلحدیث، وہابی، سلفی یا دیوبندی وغیرہ کہتے ہیں اور گزشتہ چودہ سو سال سے یہ ہمارے درمیان نہیں تھے۔ان کا تعلق حقیقی و قدیمی اہلِ سُنّت جنہیں ہمارے ہاں بریلوی کہتے ہیں، ان سے نہیں۔
یاد رہے کہ ہم سب کے سب اہلحدیث، وہابی، سلفی یا دیوبندی کی بات نہیں کرتے بلکہ ان کی بات کر رہے ہیں جو حماس کے مخالف ہیں۔ یہ دیگر اہلِ سُنّت سے اس لئے بھی جدا ہیں چونکہ ان کا پیرومرشد سعودی عرب ہے۔ان کے فرائض و واجبات کا تعیّن سعودی عرب ہی کرتا ہے۔ جہادِ افغانستان اس کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے حُکم پر افغانستان میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کو جہاد کہہ کر لوگوں کو لڑوایا ۔ آج افغانستان میں اُنہی طالبان مجاہدین کی خلافتِ اسلامیہ قائم ہو چکی ہے۔ اب یہ خلافتِ اسلامیہ کبھی خواب میں بھی جہادِ کشمیر یا جہادِ فلسطین کا اعلان نہیں کرتی۔ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ حماس کی کامیابی سعودی عرب و دیگر خلیجی ریاستوں کی بادشاہتوں کے خاتمے پر منتہج ہوگی۔
حماس صرف ایک جنگجو گروپ نہیں بلکہ یہ اخوان المسلمین کا ہی دوسرا نام ہے۔ اخوان المسلمین کی بنیاد شیخ حسن البنا نے مصر میں1929ء میں رکھی تھی۔1973ء میں شیخ احمد یاسین نے غزہ میں اخوان المسلمین کا ایک شعبہ جماعت اسلامی کے نام سے کھولا تھا۔ اس زمانے میں یہ تنظیم فقط رفاہِ عامہ نیز افراد، خاندان اور معاشرے کی تعلیم و تربیت تک محدود تھی۔ بعد ازاں فلسطین کے حالات کے پیشِ نظر اس کے دائرہ کار میں سیاسی اور عسکری جدوجہد کو بھی شامل کیا گیا اور 1987ء میں اسی جماعتِ اسلامی کا نام حماس رکھ دیا ۔ موجودہ دور میں یہ ایک فلسطینی، سیاسی و عسکری اور اسلامی مزاحمتی تحریک ہے اور اس کا کنٹرول غزہ کی پٹی پر ہے۔
حماس اپنے وژن کے لحاظ سے عرب قوم پرستی کے شدید خلاف ہے اور وحدتِ اسلامی پر ایمان رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے حماس کو ایرانی انقلابی قیادت اور دنیا بھر میں اسلامی انقلاب نواز اہلِ تشیع کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ مصر میں مُرسی کی حکومت کو سعودی عرب نے اسی لئے ختم کرایا تھا۔ مُرسی کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔ حماس اور اخوان ا لمسمین یعنی بادشاہت و آمریّت کے بجائے حقیقی اسلام کا احیا، عوامی بیداری، جمہوری اقدار اور اسلامی شعور۔ سعودی عرب کی بادشاہت کے پیچھے چونکہ وہی امریکہ و برطانیہ ہیں تو ایسے اہلِ سنّت بھی برطانوی اہلِ تشیع کی مانند ، برطانوی اہلِ سُنّت ہیں چونکہ یہ اُنہی کے ایجنڈے پر کام کر کر رہے ہیں۔
پاکستان میں حماس کا مخالف تیسرا طبقہ ہے ہی " بکاو مال"۔ اس میں کچھ لبرل اور دانشور کہلانے والا نیز ایک مخصوص مذہبی دھڑہ بھی شامل ہے جو امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں بکا ہوا ہے۔ توجہ رہے کہ ایسے روشن فکر حضرات جو منصفانہ طور پر سوال اٹھاتے ہیں اور ملت اسلامیہ کی رہنمائی اور بیداری کیلئے مختلف زاویے پیش کرتے ہیں وہ تو ہماری ملت کیلئے نعمت ہیں۔یہاں منصفانہ تجزیہ و تحلیل کرنے والوں کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ ہم صرف اُن کے بارے میں رقم طراز ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے امریکہ و اسرائیل اور سعودی عرب سے اچھی خاصی رقم انیٹھ چکے ہیں ۔ ان میں جہاں کچھ لبرل اور سیکولر حضرات ہیں وہیں کچھ مذہبی رہنماوں کا شامل ہونا بھی محال نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت اسرائیلوں و صہیونیوں کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
ایسے لوگ اسرائیل کے لئے پاکستانیوں کے دل نرم کرنا چاہتے ہیں۔ اِن دنوں یہ سب بکاو لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر اسرائیلوں کی مظلومیت پر آہ و فغاں اور ماتم کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہ نکتہ فلسطینیوں نے بارہا اپنی تاریخ سے سیکھا ہے کہ" دوستوں اور دوستی کا نقاب پہننے والوں میں" فرق ہوتا ہے۔

اداریہ جات


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv