شیطانی مثلث سے ٹکراو

نذر حافی


ہم آٹھ سالوں سے خدا کی طرف سے آزمائش میں مبتلا ہیں۔ یہ آزمائش خدا کی طرف سے ہے۔ قرآنی آیات کے مطابق "یہ مت سمجھو کہ ہم نے تمہیں کھلا چھوڑ دیا ہے، بلکہ تم آزمائے جاوگئے"۔ گزشتہ سالوں میں ہم مشکل امتحانات سے گزرے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ ان امتحانات میں سرخرو ہوئے ہیں۔

یہ الفاظ شیخ ابراہیم زکزاکی نے تہران ائیرپورٹ پر صحافیوں سےکہے۔ شیخ زکزاکی اپنی رہائی کے بعد گزشتہ روز تہران پہنچے۔یہ ان کا دوسرا غیر ملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے اپنے علاج کیلئے وہ ہندوستان گئے تھے۔

یاد رہے کہ شیخ ابراہیم یعقوب زکزاکی کا تعلق براعظم افریقہ کے 55 میں سے سب سے بڑے ملک نائیجیریہ سے ہے۔ نائیجیریہ کی 18کروڑ کی آبادی میں سے پچاس فی صد مسلمان اور چالیس فی صد عیسائی جبکہ دیگر ادیان بمشکل دس فی صد ہیں۔تیل پیداکرنے کے حوالے سے یہ دنیاکاآٹھواں اہم ملک ہے۔

11اکتوبر 2023 بروز بدھ کو شیخ ابراہیم زکزاکی کا تہران ائیرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا۔ شیخ کی تہران آمد پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ استقبالیہ وفد نے آیت اللہ اعرافی کی قیادت میں شیخ کو خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر لوگوں نے حضرت امام خمینی، شیخ زکزاکی ، شہید قاسم سلیمانی، اور رہبر معظم سید علی خامنہ ائ کی تصاویر اٹھا کر "اللہ اکبر"، "صلی علی محمد ۔ یاور رہبر آمد"، "شیخ ابراہیم ۔ خوش آمدید" اور مردہ باد امریکہ جیسے نعروں سے ان کا ناقابل فراموش استقبال کیا۔استقبال کیلئے ایران میں مقیم افریقی طلبا و دیگر ملتوں کے افراد بھی موجود تھے۔
تہران میں شیخ کی آمد اُمّتِ مسلمہ کیلئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ شاید بہت کم لوگ شیخ اور تہران کے باہمی تعلق کو جانتے ہونگے۔

اتفاق سے ان دنوں حماس نے فلسطین میں طوفان الاقصی کا آغازبھی کر رکھا ہے۔یہ وہی شیخ زکزاکی ہیں کہ جنہوں نے مسجدِ اقصی کی آزادی کیلئے ہی نائیجریا میں چھ سال قید کاٹی اور یوم القدس کے احیا کیلئے اپنے چھ بیٹے بھی قربان کئے ۔


نائجرین حکومت کو شیخ سے کیا مسئلہ ہے؟ اس بارے میں اکثر لوگوں کو کچھ پتہ نہیں۔ در اصل نائجیریا میں شیخ کا کسی سے کوئی جھگڑا یا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ وہاں عیسائیت کے لئے ایک بڑا اور واضح چیلنج صرف اور صرف اسلام ہے۔
1960ء تک نائیجریا کا منطقہ برطانیہ کی غلامی میں ایک نوآبادی بن کر رہا۔ یہی وہ دور تھا کہ جس میں میں عیسائیت کو نائیجیریا میں خوب پھیلایا گیا، تعلیمی اداروں میں بائبل اور عیسائیت کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا اور مشرقی علاقوں کے قبائل نے اسی عہد میں عیسائیت اختیار کی۔البتہ تبلیغی طور پر عیسائیت کو مسلمان علاقوں میں خاصی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ آبادی کے لحاظ سے اس وقت بھی مسلمان ہی عیسائیت کے مدّ مقابل اور حریف ہیں۔
1960ء عیسوی میں نائجیریا میں ایک عیسائی جنرل برونسی نے خونی انقلاب برپا کر کے اسلامی لیڈر شپ کا قتلِ عام کیا ۔یہ قتلِ عام مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مزید نفرتوں کا باعث بنا۔ بعد ازاں وہاں عیسائیوں اور مسلمانوں کی نسبتاً مخلوط حکومت وجود میں آئی۔ 1967ء میں ایک عیسائی فوجی کرنل اجوکو نے مرکزی حکومت سے بغاوت کرکے مشرقی نائجیریا میں بیافرا کے نام سے نئی حکومت بنا لی۔ پٹرول سے مالا مال یہ منطقہ چونکہ عیسائی آبادی پر مشتمل تھا، چنانچہ مغربی حکومتوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔
کرنل اجوکو کی بغاوت کو مرکزی حکومت نے جلد ہی کچل دیا، البتہ اس کچلنے میں 10 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس عیسائی کرنل کی بغاوت کے صرف چند سالوں کے بعد یعنی 1970ء کے عشرے میں عالمی عیسائیت کے ادارے نے برّاعظم افریقہ کو ایک عیسائی برِّ اعظم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈالروں کی بارش کی گئی اور عیسائی مبلغین کی ایک بڑی کھیپ مختلف شکلوں میں مغرب اور امریکہ سے برِّاعظم افریقہ میں داخل ہوئی۔

ٹھیک اسی عشرے میں یعنی 1978ء کو نائجیریا میں انجمن اسلامی نائجیریا کا سیکرٹری جنرل شیخ ابراہیم زکزاکی کو منتخب کیا گیا۔ شیخ ابراہیم زکزاکی مالکی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔

وہ 1980ء میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ایران آئے، ایران میں دوسری مرتبہ ان کی ملاقات حضرت امام خمینیؒ سے ہوئی۔ اس سے پہلے وہ پیرس میں بھی امام خمینی سے ملاقات کرچکے تھے، اس دوسری ملاقات سے ان کی زندگی اور نظریات میں بھی ایک انقلاب برپا ہوا۔

واپسی پر 80 کی دہائی میں ہی شیخ نے ایک اور تنظیم انجمن اسلامی کی بنیاد رکھی، انجمنِ اسلامی کی بنیاد کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں متحد کرنا اور دشمنوں کی سازشوں سے آگاہ کرنا تھا۔
شیخ نے مسلمانوں کی وحدت اور دشمن شناسی کا پرچار شروع کیا۔ یہ پرچار عیسائیت، سلفیت اور صہیونیت کی مثلث کو بے نقاب کرنے کا باعث بنا۔

چنانچہ یہ شیطانی مثلث ﴿عیسائیت، سلفیت اور صہیونیت﴾ شیخ کی تاک میں لگ گئی۔ انگلش، ہسپانوی، عربی، فارسی اور ہداسائی جیسی زبانوں پر مسلط اس مسلمان لیڈر نے جب استعماری سازشوں خصوصاً مسئلہ فلسطین پر زبان کھولی تو شیطانی مثلث دنگ رہ گئی۔

اب تک دس سے زائد مرتبہ شیخ کو جیل میں ڈالا گیا۔ ۲۰۱۵ سے پہلے آخری مرتبہ شیخ کو 1996ء میں گرفتار کرکے 1998ء میں رہا کیا گیا تھا۔شیخ کی حق گوئی اور بابصیرت گفتگو نے سارے نائیجریا کو بیدار کرنا شروع کر دیا تھا۔ فوری طور پر عیسائیت، صہیونیت اور سلفیت کے ملاپ سے 2002ء میں بوکوحرام کی بنیاد ڈالی گئی۔

اب جو بات میں کہنے جا رہا ہوں اسے میری بات نہ سمجھیں بلکہ یونیورسل ٹروتھ کے طور پر اسے خود بھی چیک کریں کہ دنیا میں ہر جگہ استعمار کی بہترین آلہ کار سلفیت ہے۔ سلفیت و وہابیت کے بارے میں آپ ہماری یا کسی اور کی باتوں پر نہ جائیں بلکہ آپ خود سے ان کی جانچ پرکھ کریں۔ اگر آپ واقعتاً غیر جانبدار اور منصف مزاج ہیں تو طالبان، داعش، بوکوحرام وغیرہ وغیرہ۔۔۔ آپ کو جلد ہی سمجھ آ جائے گی کہ ساری دنیا میں سلفی و وہابی حضرات کس کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔

بوکو حرام نے شیخ زکزاکی کی گفتگو سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے قتل وغارت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کا مقصد لوگوں میں استعمار کے خلاف بڑھتی ہوئی بیداری کو روکنا تھا۔ ان کی یہ کوشش اُس وقت ناکام ہوگئی جب عوام میں بوکو حرام کے بجائے شیخ زکزاکی کی مقبولیت جابجا دکھائی دینے لگی۔ شیخ کی مقبولیت میں شب و روز اضافہ ہوتا چلا گیا۔

”شیطانی مثلث” کے ایجنڈے کے مطابق بوکو حرام نے بچوں کو قتل کرکے، عورتوں کو اغوا کرکے اور بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر اسلام کو بدنام کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا، وہ شیخ کی بابصیرت تعلیمات اور باکردار شخصیت کے باعث ناکام ہوگیا۔


جب لوگوں نے بوکو حرام کے بجائے شیخ کو اسلام کا ماڈل سمجھنا شروع کر دیا، اور لوگوں کی اکثریت نے بلاتفریق مذہب و مسلک شیخ سے اپنی محبت کا اظہار شروع کیا تو شیخ کی عوامی مقبولیت کے باعث اسلامی وحدت کو بھی فروغ ملا اور یوم القدس کو بھی مسلمان مل کر منانے لگے۔

یہ تاثر درست نہیں ہے کہ شیخ زکزاکی صرف افریقی شیعوں کے رہبرورہنما ہیں بلکہ شیخ نے وہاں سارے مسلمانوں کو بیدار کیا اور شیخ کی قیادت میں سب مسلمانوں کو یکجہتی نصیب ہوئی۔
شیخ کی بصیرت کے باعث ہر سال نائجیریا میں یوم القدس کی شان و شوکت میں اضافہ ہونے لگا اور یوم القدس کے پروگراموں میں تمام اسلامی مسالک کے نمائندے بھرپور شرکت کرنے لگے۔

جبکہ دوسری طرف “شیطانی مثلث” کے پالتو درندے ”بوکو حرام“ کے نام سے فقط درندگی تک محدود ہوگئے اور منافقین کی سازشوں کے برعکس عوام کے درمیان شیخ زکزاکی کو حقیقی اسلام کا مبلغ اور رہنما سمجھا جانے لگا۔
چنانچہ 2014ء میں
یوم القدس کے موقع پر ایک حملے میں تقریباً ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا۔ یوم القدس کے موقع پر ان ہونے والی شہادتوں کے ذریعے “شیطانی مثلث” نے عالمِ اسلام کی بے حسی اور بے خبری کا اندازہ لگایا ۔

جس کے ایک سال کے بعد 2015 میں ایک مرتبہ پھر شیخ زکزاکی پر سرکاری فوج نے ایک اور بھرپور حملہ کیا۔

یہ دوسرا حملہ پہلے سے بھی زیادہ شدید تھا، ایک مرتبہ پھر ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس حملے میں شہید اور زخمی ہوئے جبکہ شیخ کو اُن کی دوسری بیوی کے ہمراہ زخمی حالت میں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ان دو سالوں کے دو حملوں میں شیخ کے چھ بیٹے اور ایک بیوی بھی شہید ہوئی۔

بالکل وہی درندگی جو نائجیریا میں بوکو حرام کے کارندے کرتے ہیں، ان کے مذہبی و سرکاری اتحادیوں نے بھی کی۔
اس مرتبہ شیخ نے مسلسل چھ سال بدترین قید کاٹی۔اس قید کے دوران شیخ پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ بہر حال انسانی حقوق کی تنظیموں کی دہائی، سول سوسائٹی کی فریاد اور سب سے بڑھ کر دنیا بھر میں شیخ زکزاکی کے چاہنے والوں کے احتجاج، ریلیوں اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے بالآخر شیخ کو رہا کیا گیا۔
شیخ نے اپنی استقامت اور شجاعت سے شیطانی مثلث(عیسائیت، سلفیت اور صہیونیت) کو عبرتناک شکست دے کر بتا دیا ہے کہ دنیا میں اسلام حقیقی کا چہرہ وہ نہیں جو طالبان، داعش اور تکفیری و ناصبی دکھاتے ہیں بلکہ وہ ہے جو خمینی ؒاور زکزاکی نے دکھایا ہے۔
شیخ زکزاکی نے حضرت امام خمینی ؒ کے افکار اور انقلاب کو بطریقِ احسن پورے افریقہ میں متعارف کرایا۔ صاحبانِ تحقیق جانتے ہیں کہ امام خمینیؒ کا انقلاب ایران یا اہل تشیع کی ملکیت نہیں، یہی وجہ ہے کہ شیخ زکزاکی بھی کوئی شیعہ لیڈر نہیں۔

شیخ کا درست تعارف یہ ہے کہ شیخ زکزاکی دینِ اسلام اور اسلامی انقلاب کے ایک بابصیرت مبلغ ہیں اور دینِ اسلام و اسلامی انقلاب صرف شیعوں یا ایرانیوں کی ملکیّت نہیں۔

دنیا میں جو بھی دینِ اسلام کے ساتھ مخلص ہو گا، چاہے وہ سُنّی ہو یا شیعہ، ایشیائی ہو یا افریقی، عربی ہو یا عجمی، پاکستانی ہو یا ایرانی۔۔۔ یہ شیطانی مثلث اُس کا تعاقب کرتی رہے گی اور ہر زمانے میں صاحبانِ ایمان کا امتحان اسی شیطانی مثلث کے باعث ہوتا رہے گا۔۔۔ یہانتک کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو جائے۔

مقبول ترین


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv