اسرائیل کی اکھڑتی سانسیں!
محبوب اسلم


اسرائیل نے کبھی بھی فلسطین پر حملے کیلئے کوئی جواز اور بہانہ نہین ڈھونڈا۔ اُسے کسی نائن الیون کی ضرورت نہیں۔ ہاں مگر فلسطینیوں کو ہمیشہ اسرائیل کی کمزوریوں اور غفلت کے مواقع کا انتظار رہتا ہے۔ فلسطینیوں نے مناسب فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ کر کے اسرائیل کی سیکورٹی کے دعووں اور ناقابلِ شکست طاقت کی قلعی کھول دی ہے۔ جولوگ اسرائیل کی طاقت کے پروپیگنڈے کے شکار ہیں وہ یہ کالم ضرور پڑھیں۔


ہر سال فلسطین کو خون میں نہلایا جاتا ہے۔ 1948 میں یورپ نےزبردستی یہودیوں کو سر زمین فلسطین میں بسایا۔ فقط بسایا نہیں بلکہ سر زمین فلسطین کو تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا: مغربی کنارہ، غزہ کی پٹی اور اسرائیل۔ یوں اسرائیل کا قیام ہی لوٹ مار پر ہوا۔ دوسری طرف مصر ، اردن، اور شام نے جنگ لڑنی چاہی تو اسرائیل نے یورپ کی مدد سے ، اردن سے بیت المقدس، شام سے گولان کی چوٹیاں اور مصر سے سینائی صحرا کا کچھ علاقہ بھی چھین لیا۔ الغرض ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر کے نام نہاد انسانی حقوق اور انسانی آزادی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے دل میں اسرائیل کو جنم دیا۔


یہاں سے فلسطینی مزاحمت اور جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے ۔ فلسطین لیبریشن آرمی یا پی ایل او کے شہرہ آفاق قائد یاسر عرفات، جہاد اور ڈپلومیسی دونوں ہی کے ذریعے ان یورپی طاقتوں کو فلسطین کی آزادی پر مائل کرتے کرتے ایک طویل جدوجہد کے بعد اس دنیا سے چل بسے۔ اسرائیل کے مظالم میں آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔ نہتے فلسطینیوں نے غلیلوں اور پتھروں سے آزادی کی جدوجہد شروع کی۔ 1982 میں لبنان کے فلسطینی پناہ گزین کیمپوں صابرہ اور شتیلہ میں بھی اسرائیل نےاپنے یورپی اور امریکی استعماری آقاؤں کی شہہ پر فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی۔

اسی دوران آزادی کی جدوجہد نے ایک نئی تحریک حماس کو جنم دیا، جس نے پی ایل او کی الفتح تنظیم کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ جب 2006 حماس الیکشن جیت کر غزہ کی پٹی میں بر سرِ اقتدار آئی تو جمہوریت کے ٹھیکیداروں نے اس جمہوری عمل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازیں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر لیا اور وہاں بسنے والے فلسطینیوں کی خوراک، پانی اور بجلی بند کر دی۔ یوں پچھلے بیس سالوں سے اسرائیل نے غزہ کا غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔
اس پر مزید ظلم یہ کہ آئے دن باڑ لگا کر غزہ کی پٹی میں بھی اسرائیل غیر قانونی یہودی آباد کاروں کو بسانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یعنی بچی کھچی فلسطینی زمین کو بھی نگلا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس دنیا کی جمہوریت، عدل،اور انسانی حقوق کی علمبردار حکومتیں خامو شی سے دیکھ رہی ہیں۔ ان سب کو اچانک انسانی حقوق اور انصاف کا دورہ صرف اسوقت پڑتا ہے جب مظلوم فلسطینی اپنے حق کیلئے انسانی حقوق اور عدل کے چیتھڑے اڑانے والے غاصب اسرائیل کیخلاف جدوجہد کا آغاز کرتے ہیں۔
آج فلسطینیوں کا مقابلہ صرف اسرائیل سے نہیں ہے بلکہ اصل میں ان خون آشام استعماری طاقتوں سے ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ویٹو کے نام پر عدل و انصاف کا ایک مذاق بنایا ہوا ہے۔ ان استعماری درندوں نے اسرائیل کو پچھلے ستر سالوں سے فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور آئے دن فلسطینیوں پر انسانیت سوز تشدت کی چھٹی دی ہوئی ہے۔ اقوام عالم کی طرف سے اسرائیلی غاصبانہ قبضے اور قتل و غارتگری پر اگر کوئی ردعمل سامنے آتا بھی ہے تو یہ استعماری درندے کمال بے شرمی سے ان تمام کاوشوں کو ویٹو کر دیتی ہیں۔
درندگی اور سفاکیّت کی اس کہانی کے پیچھے کچھ ایسے کردار بھی ہیں جو ان استعماری درندوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں پر اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ مثال کے طور پر مصر کی حکومت کو ہی لے لیں۔ یہ حکومت ایک آمرانہ حکومت کی غلیظ مثال ہے۔ مصر کی سرحد رفاہ کے مقام پر غزہ کی پٹی سے ملتی ہے لیکن مصر کی آمرانہ حکومت نے یہ سرحد امریکی ایما پر بالکل اسی طرح ہی سیل کی ہوئی ہے جیسے اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ یہ وہ بے شرم نام نہاد اسلامی ممالک ہیں جو یورپینز اور اسرائیلیوں کی درندگی میں برابر کے شریک ہیں۔
دوسری طرف یہی حال مصر کے علاوہ دیگر مسلم ممالک کا بھی ہے۔پاکستان سمیت سعودی عرب، لبنان، متحدہ عرب امارات یہ سب ممالک استعماری طاقتوں کے غلام بن چکے ہیں۔البتہ ایک حوصلہ افزا سچائی یہ ہے کہ بلاشبہ ان مسلم ممالک کی حکومتیں استعماری درندوں کی معاون ہیں لیکن ان ممالک کے عوام اپنے حکمرانوں کے برعکس اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ سڑکوں پر نکلیں اور اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ بڑہائیں اور ہو سکے تو ساری دنیا میں مصر کے سفارتخانوں کے سامنے اور غزہ کی سرحد پر مظاہرے کیے جائیں تا کہ مصر جیسے ملک پر سفارتی و اندرونی دباؤ ڈالاجاسکے۔
یاد رکھئے طاقت ہمیشہ طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے ۔ظالم یاد رکھیں کہ اس عالم کا ایک رب بھی ہے اور وہ ہر طاقتور سے بڑھ کر طاقتور ہے ۔ جب بھی کہیں ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو یہ طاقتور رب وہاں سے ظالموں کی جڑیں اکھاڑ دیتا ہے۔ فلسطین میں یہ حد سے بڑھا ہوا ظلم بتا رہا ہے کہ اسرائیل کی سانسیں اکھڑ چکی ہیں اور جڑیں اکھڑنے والی ہیں۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔ آمین

آپ کی پسند


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv