اہلسنّت ہوشیار رہیں!
رفیق انجم

فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستان کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ یہاں بھی خون فلسطین کی مانند ہی ارزاں ہے۔ عید میلاد النبی ؐ کے موقعے پر تکفیریوں نے پچاس سے زیادہ افراد کو شہید کر دیا۔ پاکستان میں یہ لوگ کتنے ہی سالوں سے اسرائیلیوں کی مانند بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں۔
کراچی میں ہر ہفتے میں چند قتل ، تفتان اور ریمدان کے بارڈرز پر روزانہ انسانیت کی توہین اور پاکستانی آئین کا قتل روزانہ کا معمول ہے۔ پورے ملک میں خطرناک حد تک خاموشunnoticeable طریقہ واردات جاری ہے۔

مجھے عمران ریاض یا دیگر لاپتہ ہونے والے افراد سے انسان ہونے کے علاوہ کوئی ہمدردی نہیں لیکن مجھے شکایت ہے کہ سرکاری اداروں کے اٹھانے اور ڈاکووں کے اغوا کرنے میں کوئی تو فرق ہونا چاہیے۔ ہمارا اتنا بجٹ خرچ ہوتا ہے سیکورٹی اداروں پر لیکن ہم ان کی انسان ہونے کے ناطے بھی تربیت نہیں کر سکے۔ ہم اتنا خرچہ کر کے کچھ لوگوں کو تو انسان بنا کر انسانوں کے ساتھ مکالمے کیلئے ہی تیار کر دیتے۔

اگر حکومتی ایجنسیوں کا اخلاق اور برتاو دہشت گردوں اور اغوا کاروں جیسا ہوگا تو پھر عوام کے ساتھ ہمدردی کون کرے گا ! ؟
مستونگ اور پشاور مسجد میں جو ہوا کیا وہ کرنے والے ہمارے سیکورٹی اداروں سے مخفی ہیں۔ پھر یہ کیا بات ہوئی کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
یہ صرف سیدھے سادھے اہل سنت بریلوی حضرات کو مروانے کی ملک گیرسازش ہے۔
مولانا مفتی ندیم قمر حنفی کی قیادت میں ۱۲ اکتوبر کو سانحہ مستونگ کے خلاف نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان کے زیراہتمام مصری شاہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے متاثرہ خاندانوں کیلئے حکومت سے خصوصی پیکیج اور سانحے کے ماسٹر مائنڈ اور سولت کاروں کوگرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسئلہ اس سے بہت آگے کا ہے۔ اہلسنّت بریلویوں میں بھی تکفیری اور شدّت پسند ٹولہ تشکیل پا چکا ہے۔ ملک کی خدا ہی خیر کرے۔ البتہ
جب بھی اہل سنت پر حملہ ہوتا ہے تو اہل تشیع برادران اس پر خاموش نہیں بیٹھتے بلکہ وہ آواز بلند کرتے ہیں خلیفہ راشد حضرت علی کے قول " کونو لظالم خصما واللمظلوم عونا" کے حقیقی مصداق بن کے مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم نے دیکھا مستونگ میں ہونے والے حملوں کی اہلسنت سے زیادہ اہل تشیع نے بھرپور انداز میں مذمت کی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اہل تشیع کے مجتہدین کے فتاوی ہیں کہ اہل سنت برادران ہمارے بھائی ہیں لیکن ہم نے کسی سنی مفتی، عالمِ دین یا مولوی کو نہیں دیکھا جو اہل تشیع کے سے تعزیت کرنے اور ان کی جان و مال کی حفاظت کیلئے کوئی بیان دے۔ اکثر اہل سنت ہمیشہ خاموش رہنے میں عافیت دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم تو محفوظ ہیں ۔

انہیں ابھی تک یہ احساس نہیں کہ شرپسند اور فسادی دشمن اب اہل سنّت بن کر ہی اُن کی صفوں میں گھس چکا ہے۔ درندوں نے اہل سُنّت کو اُن کے گھروں میں گھس کر مارنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ باہر سے ناصبی و تکفیری دہشت گرد اہلِ سُنّت پر حملہ آور ہیں اور اندر سے شدّت پسند ٹولہ اہلِ سُنّت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
پاکستان پہلے ہی سخت بحرانوں سے دوچار ہے۔ اسے بچانے کیلئے لوگوں کو لڑواو ، مرواو اور حکومت کرو کی پالیسی اب ملک توڑنے والی بات ہے۔ ہم سب کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو کسی بھی روپ میں لوگوں کو لڑواو، اور مراوو والا کام کر رہے ہیں۔ اس وقت صرف فلسطین ہی لہو لہو نہیں بلکہ پاکستان کا چپہ چپہ بھی زخم زخم ہے۔ فلسطین کی مظلومیت پر ضرور آہ و فغاں کیجئے لیکن اپنے ملک کے حالات سے بھی غفلت جائز نہیں۔

راقم کی دیگر تحریریں


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv