فلسطین کی آزادی کا راز
ایم اے راجپوت

مسئلہ فلسطین آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے نزدیک مسئلہ فلسطین دو ملکوں،دو ہمسائیوں ،دو گھروں،دو قوموں یا دو مختلف ادیان کے پیروکاروں کا مسئلہ نہیں۔کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین، فلسطین اور اسرائیل دو ملکوں کا مسئلہ ہے۔بعض سمجھتے ہیں کہ عربی بولنے والوں اور عبرانی بولنے والوں کا مسئلہ ہے اور بعض سمجھتے ہیں مسلمانوں اور یہودیوں کا مسئلہ ہے۔جب مسئلہ فلسطین کو غلط انداز میں سمجھا جاجئے گا تو اس کا حل بھی غلط ہی نکلے گا۔پچہتر سال سے اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی ایک وجہ یہی اسے غلط سمجھنا بھی ہے۔
سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہودیوں سے کوئی مشکل نہیں۔ فلسطین کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہودی رہ رہے ہیں ۔عربی بولنے والوں کو بھی عبرانی بولنے والوں سے کہیں کوئی مسئلہ نہیں ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اِس کرہ زمین پر کہیں بھی اسرائیل نام کی ایک چپہ بھی زمین قانونی طور پر موجود نہیں۔

آج جسے اسرائیل کہا جاتاہے وہ درحقیقت مقبوضہ فلسطین ہے ۔اسرائیلی کہلانے والے در اصل مختلف یورپی ممالک کے باشندے ہیں جن کے پاس آج بھی اپنے اپنے ممالک کی شہریت بھی ہے اور یہاں فلسطین میں بھی انھیں گھر بنا کر دئیے گئے ہیں ۔فلسطین کے مقامی یہودی بہت کم ہیں اور مسلمانوں کا ان مقامی یہودیوں سے کوئی جھگڑا بھی نہیں ۔
وہ یہودی جو صہیونیت کے نظریے کے مطابق باہر سے لائے گئے اور آکر فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہو گئے ۔ان غاصبوں کے ساتھ فلسطینیوں کا جھگڑا ہے۔ اب یہ کہنا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو آزاد ریاستیں یعنی اسرائیل و فلسطین قائم کرنا ہے ،ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص آپ کے گھر پر آکر قبضہ کر لے،آپ کو باہر نکال دے اور آپ کہیں یہ میرا گھر تو وہ آپ پر ظلم کرے ،آپ کے پیاروں کو مارے ،قتل کرے اور آپ کو بھی زخمی کر دے ۔آپ کا خون بہہ رہا ہو ۔ آپ کو اس حالت میں دیکھ آپ کو دلاسا دینے کیلئے دوسرے لوگ یہ کہنے لگیں کہ اچھا آپ کا مسئلہ حل کرتے ہیں ۔ گھر کا ایک کمرہ آپ کو لے کر دیتے ہیں ۔ باقی گھر غاصبوں اور قبضہ کرنے والوں کے پاس رہے ۔بس اب دونوں امن سے رہو اور آئندہ ان غاصبوں کو غاصب مت کہنا۔
مسئلے کے حل کے نام پر فلسطینی بیچاروں کے ساتھ یہی مذاق ہو رہا ہے ۔ انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے چونکہ خود اسرائیل پر قبضہ کروایا ہے لہذا وہ اس قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے یہی حل پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے ناسمجھ حکمران بھی بغلیں بجانے لگتے ہیں کہ لو جی مسئلہ حل ہو گیا۔
مسئلہ فلسطین کا حل یہ ہے کہ فلسطین پر قابض یہودی واپس اپنے اپنے ملکوں میں چلے جائیں اور حسبِ سابق فلسطین کو مقامی فلسطینیوں کے سپرد کیا جائے۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور وہاں رہنے والے مسلمان،یہودی ،عیسائی یا دیگر مذاہب کے لوگ سب مل کر ایک فلسطینی حکومت قائم کریں ۔ صہیونیوں نے فلسطین کے ۸۸ فی صد رقبے پر قبضہ جمایا ہوا ہے اس غاصبانہ قبضے کو تسلیم کرنا فلسطینیوں کیلئے کسی بھی طور ممکن نہیں۔ یہ تو اپنی سر زمین کے ساتھ غدّاری ہے۔
یہ مسئلہ کبھی بھی مقامی عرب قومیت کی بنیاد پر حل نہیں ہوسکتا۔ فی الحال عربوں میں قومی غیرت، مسائل میں بصیرت، معاملات میں شجاعت اور مذاکرات میں دورراندیشی والی کوئی بات نہیں۔
اس کا رائے حل وہی ہے جو پیغمبرِ اسلام ﷺ اور قرآن مجید نے چودہ سو برس پہلے دیا تھا۔ عرب قومیت کے بجائے مسلم امہ کے نام پر سب جمع ہو جائیں۔ فلسطینی مظلوم ہیں اور مسلمانوں کیلئے شرعی حکم ہے کہ مظلوم کی مدد کریں ۔شریعت نے یہ نہیں کہا مظلوم حتما مسلمان ہو بلکہ شریعت ہر مظلوم کی مدد کرنے اور اس کی مشکل حل کرنے پر تاکید کرتی ہے چاہے وہ کافر ہی ہوجبکہ فلسطینیوں کی اکثریت تو مسلمان ہے۔
لہذا مسلم امہ پر فرض ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے فلسطینی بھائیوں کی متحد ہو کر مدد کریں ۔ اگر ہم کوئی اور مدد نہیں بھی کر سکتے تو ساری امت مسلمہ اور تمام مسلم ممالک کے حکمران یک زبان ہو کر کہیں کہ باہر سے لائے گئے صہیونیوں کو فلسطین سے نکالا جائے۔
اتحاد میں بڑی برکت ہے۔ تمام امّت اور مسلمان حکمران جب ایک ہی بات کریں گے تو اس سے عالمی برادری کی رائے عامہ تبدیل ہوگی۔ جن اسلامی ممالک نے کسی بھی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے انہیں بھی یہ کہنے پر مجبور کیا جائے اور ان سے دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل کے وجود کی نفی کرائی جائے۔

طوفان الاقصی نے ہمیں ایک مرتبہ پھر متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو عالمی رائے عامہ کو بدلنے کی خاطر ایک بڑی سطح کی پلاننگ کرنی چاہیے۔ حماس کے حملوں نے ان ممالک کو شرمندہ کردیا ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے قریب ہو چکے تھے ۔

مسلم امہ کی عزت ،آبرو،وقار اور مفاد بھی اتحاد ہی میں ہے ۔ فلسطین کی آزادی کا راز بھی اسی اتحاد میں مضمر ہے اور اس مسئلے کے حل کی طرف یہ پہلا اور بنیادی قدم بھی ہے۔

آپ کی پسند:

یہودی اور صہیونی میں فرق

مقبول ترین:

اسرائیل کی مضبوطی میں عربوں کا کردار


افکار و نظریات: https, twitter, com, HaffiNazar