غزہ۔۔۔خون دیوانہ ہے
محبوب اسلم


جب سے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا ہے بڑے بڑےیورپی اور امریکی جغادری اینکرز اور میڈیا پرسنز اس بات کا واویلا کر رہے ہیں کہ اس دفعہ پہل حماس نے کی ہے اور اسکی مذمت کرنا لازمی ہے اور اسرائیل کو اپنی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن انکا یہ بیانیہ دراصل انکی اسرائیل نوازی کا پول کھول دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ 7- اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملہ کرنے سے نہیں ہوا۔ اور نہ ہی یہ حملہ اسرائیل کی سرزمین پر ہی کیا گیا۔ اسرائیل کی جس سرزمین پر یہ حملہ کیا گیا وہ اسرائیل کی سرزمین ہی نہیں ہے وہ دراصل فلسطین کی سر زمین ہے جس پر اسرائیل نے پچھلے چہتتر سال سے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔
اور نہ صرف قبضہ کیا ہوا بلکہ اس زمین کی اصل مالکوں یعنی فلسطینیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ بھی توڑ رکہے ہیں ۔ فلسطینوں کا اپنی ہی سرزمین کے پانی پر کوئی حق ہے اور نہ ہی خوراک کی ترسیل اور نہ ہی اپنے بجلی گہے چلانے کیلئے ایندھن کی ترسیل ہی پر کوئی اختیار ہے۔ اور نہ ہی فلسطینی اپنے ساحلی علاقے سے ہی تجارت کر سکتے ہیں کہ اسرائیل نے ان سمندری سرحدوں کی بہی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ یوں فلسطینی اپنی سر زمین پر ایک قیدی کی حثیت سے رہ رہے ہیں اور انکے یہ علاقے ایک جیل کا نمونہ پیش کرتے ہیں جہاں کا پانی،بجلی، خوارک اور ایندھن سب کچھ پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔
اور پھر ہر آئے دن یہ غاصب اسرائیلی فوج فلسطینی آبادیوں میں جاکر انکے بچوں اور نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کرتی ہے اور کسی احتساب کے ڈر سے بالا تر ہو کر انکا قتل عام بہی کرتی ہے۔ آئے دن یہ ہولناک مناظر دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور چند ایک آزاد نیوز چینلز ہر بہی دیکھے جا سکتے ہیں کہ کس طرح نابالغ بچوں کو اسرائیلی فوجی تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انکے والدین کے سامنے ان معصوم بچوں کو زبردستی قیدی بنایا جا رہا ہے اور انکی مائیوں اور بہنوں پر بھی تشدت کر رہے ہیں ۔
اور یہ سب ہوتا دیکھ کر یہ یورپی حکومتیں اور انکے جغادری اینکرز خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ۔ اور جب یہ فلسطینی اس ظلم کیخلاف جدوجہد کرتے ہیں تو یہ دوغلی یورپی حکومتیں اور یہ بے ضمیر اینکرز اس جدوجہد کو ظلم کا نام دیتے نہیں تھکتے!!؟ اور پھر جب اسرائیلی فوج اور اسکی دھشت گرد حکومت جب ان نہتوں شہریوں پر بلا امتیاز کارپٹ بمباری کرتی ہے تو یہ یورپی حکومتیں یکلخت اندہی،بہری اورگونگی ہو جاتی ہیں اور انہیں نہتی عوام ، بچوں اور عورتوں کی خون میں نہائی ہوئی اور کٹی پھٹی لاشیں نظر نہیں آتیں!!؟ اور وہ پھر وہی گھسا پِٹا بیانیہ دھرانے لگتے ہیں کہ اسدفعہ پہل تو فلسطینیوں نے کی ہے!!؟
لیکن یہ منافق حکومتیں اور بےضمیر اینکرز اب دنیا کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکتے۔
دنیا کے زیادہ تر لوگ اب اسرائیل کا بھیانک چہرہ اچھی طرح پہچان چکے ہے۔۔۔لوگ جان چکے ہیں کہ اسرائیل فلسطین پر ایک غیر قانونی اور انسانیت سوز قبضہ جاری رکہے ہوئے ہیں اور دنیا کا کوئی قانون اور اخلاق کا کوئی کلیہ فلسطینیوں کو اس قبضہ کے خلاف جدوجہد سے روک نہیں سکتا۔ جب تک فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ جاری ہے اور اسرائیل کا فلسطینی عوام پر ظلم و تشدت جاری ہے فلسطینیوں سے اس ظلم کیخلاف جدوجہد کا حق کوئی نہیں چھین سکتا!!!
یہ عجیب بات ہے کہ امریکہ جب برطانیہ سے آزادی کیلئے اپنی تاریخی جنگ لڑتا ہےتو وہ اسے جنگ آزادی کا نام دیتا ہے اور اسکے لیڈر ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ آزادی یا موت۔۔۔لیکن آج یہی امریکہ کمال منافقت سے فلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد کو دھشت گردی کا نام دیتا ہے!!؟
اور سب سے زیادہ حیرت تو ان صہونیوں کی ذہنیت اور ظالمانہ رویے پر ہے جن کے باپ دادا کو ہٹلر نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور آج انہی یہودیوں کی اولادیں ہٹلر سے بڑھ کر ظلم و ستم نہتے فلسطینیوں پر جاری رکھے ہوئے ہیں !!!
اور وہ ظلم و ستم ہی کیا جس کی جڑوں میں شیطانی نوآبادیاتی طاقت برطانیہ کا ہاتھ موجود نہ ہو۔ 1917 میں برطانیہ نے جنگ عظیم اول میں سلطنت عثمانیہ کے زیر حکومت فلسطین پرقبصہ کرنے کے بعد فلسطین کے علاقے میں ناجائز اسرائیلی حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔ فلسطین کی سر زمین کی اس یکطرفہ اور جبری بندر بانٹ پر فلسطینیوں نے بھرپور مذمت کی لیکن طاقتور غاصبوں نے ایک نہ سنی اور اقوام متحدہ (اسوقت کی لیگ آف نیشن) میں ان غاصب طاقتوں نے فلسطین کی سر زمین پر اسرائیل کی ناجائز ریاست کی بنیاد رکھ دی۔ اور اس ناجائز ریاست کی سپورٹ آج تک امریکی اور برطانوی ویٹو کے ذریعے اقوام عالم کے اجتماعی ضمیر پر تھپڑ کی صورت میں جاری ہے!!؟
لیکن یورپی ممالک کی یہ ناانصافی اور اسرائیل کے ظلم وستم کی کھلی حمایت اب پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ اسطرح کی عالمی غنڈہ گردی اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی۔ عالمی افق پر روس، چین اور ترکی ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر چکے ہیں اور امریکہ کی گرتی معیشت اور بڑھتے بیرونی قرضے اب امریکہ اور اسکے یورپی جوتے چاٹ حکومتوں کو زیادہ عرصہ اقوام متحدہ کو اپنی رکھیل بنا کر رکھنے میں حائل ہیں ۔ اگر اقوام متحدہ کواسی طرح اپنے مذموم ارادوں کیلئے استعمال کیا جاتا رہا تو عنقریب روس، چین، ترکی، ایران اور دیگر ممالک اس عالمی فراڈ جس کو ہم اقوام متحدہ کے نام سے جانتے ہیں کو خیر باد کہہ کر نیا عالمی اتحاد بنانے پر مجبور ہونگے۔ دوسری طرف مسلمان ممالک میں عوامی احتجاج کے سامنے امریکی نواز حکومتوں کیلئے امریکی عالمی ایجنڈے پر قائم رھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائیگا۔ یوں اب سوال یہ نہیں ہے کہ اسرائیل کی جارحیت اور ظلم کبھی ختم ہوگا یا کہ نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس ظالم کے اب کتنے دن باقی رہ گئے ہیں کہ اسکا خاتمہ تو اب حتمی امر ہے۔
کب تک مصر میں بے ضمیر فوجی آمر اسرائیل اور امریکہ کیساتھ ملکر فلسطینیوں کی معاشی ناکہ بندی جاری رکھیں گے؟؟؟کب تک سعودی عرب اور دوسری عرب خلیجی ریاستیں علاقے میں امریکہ کی انسانیت سوز پالیسیوں کی حمایت جاری رکھیں گی؟؟؟ آنے والے دنوں میں روس، چین، ایران، یا ترکی میں سے کسی ایک طاقت کا بھی فلسطینیوں کی حمایت میں کھل کر کھڑا ہونا اسرائیل کیلئے وہ مشکلات کھڑی کر سکتا ہے جن کا اس نے سوچا ہی نہیں۔
دوسری طرف حماس کے حالیہ حملے نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں اور اب حماس اور فلسطینی مزاحمت مستقبل میں بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہونگی۔۔۔الغرض مستقبل قریب میں اسرائیل کی اپنی سیکورٹی کی بھی کوئی ضمانت نہیں رہی۔۔۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو
محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے
(ساحر لدہیانوی)
رب العزت فلسطین کا حامی و ناصر ہو۔۔آمین ثم آمین

مقبول ترین

ترکی فلسطین کی کتنی مدد کرے گا؟


افکار و نظریات: غزہ۔۔۔خون دیوانہ ہے