ایک تھا غاصب اسرائیل۔۔۔
✍ نذر حافی

فلسطین میں جاری جنگ اور لڑائی ہمت، دوراندیشی اور منصوبہ بندی کی ہے۔ اس کا دارومدار ہتھیاروں سے زیادہ ارادے، سوچ ، ذہانت اور حکمتِ عملی پر ہے۔ استعماری منصوبہ سازوں کے پاس دنیا کے تمام ممالک اور ان میں پائے جانے والے ہر طرح کے ذخائر اور افرادی صلاحیتوں کی مکمل فہرست ہے۔ اس فہرست کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ و یورپ کے مفادات کے محافظ کے طور پر اسرائیل جیسے قبضہ گروپ کا وجود اُن کیلئے ناگزیر ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ذخائر اور صلاحیتوں سے کمیشن، منافع، سود، چارجز، ٹِپ اور بھتہ وصول کرنے کا مکمل منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس منصوبے میں فلسطین کی کوئی جگہ نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فلسطین مٹے گا تو اسرائیل قائم ہوگا۔ اس منصوبے میں انٹرنیشنل لا، انسانی زندگیوں، انسانی حقوق کے نعروں، امن و سلامتی کے دعووں وغیرہ کا بھی کوئی عمل دخل نہیں۔

جہاں بھی اشرافیہ یا اسٹیبلشمنٹ کے نقشے کو اجرا کرنے میں مشکل پیش آئے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس مشکل کو ہٹانے کیلئے کتنی لاقانونیت، درندگی اور انسانی حقوق کی پامالی کرنی پڑے گی بلکہ گوشت کی ایک بوٹی کیلئے دوسروں کی بھینس مار دی جاتی ہے۔۔۔
نیو ورلڈ آرڈر کو سمجھے بغیر یہ جنگ سمجھ نہیں آ سکتی۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے کہ صہیونی سارے فلسطین کو غصب کرنا چاہتے ہیں اور بس۔ درحقیقت فلسطینی اس وقت ظالمانہ نیو ورلڈ آرڈر ساتھ ٹکرا رہے ہیں۔ یہ کوئی دو ملکوں کی جنگ نہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کا وجود دِن اور رات کی مانند ہے۔ جب تک دن ہے، اُس وقت تک رات نہیں ہوسکتی، اسی طرح جب تک فلسطین موجود ہے، اُس وقت تک اسرائیل قائم نہیں ہوسکتا، چونکہ اسرائیل کے پاس کوئی زمین ہے ہی نہیں۔ فلسطین تو ایک ملک ہے لیکن اسرائیل کسی ملک کا نام نہیں۔ فلسطین کے مقبوضہ علاقے کو زبردستی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا یعنی دنیا کے نقشے سے فلسطین کا خاتمہ۔ یہ خاتمہ استعماری نیو ورلڈ آرڈر کی رو سے ضروری ہے۔
نیو ورلڈ آرڈر کو سمجھنے کیلئے ہمارے سامنے طالبان کی واضح مثال موجود ہے۔ وہ طالبان جنہوں نے امارت اسلامیہ کے قیام کیلئے پاکستان کے چپّے چپّے پر لوگوں کا خون بہایا تھا، آج افغانستان میں اپنی خلافت قائم کئے انہیں دو سال ہوچکے ہیں۔ مجال ہے کہ وہ غزہ کے مظلومین یا کشمیر کی حمایت کیلئے کوئی لشکر کشی کی بات کریں۔ وہ کر ہی نہیں سکتے، چونکہ وہ خود نیو ورلڈ آرڈر کی پیداوار ہیں۔
حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ انہیں ایسے انداز میں حکومت دی گئی ہے، جیسے کسی کو تھالی میں رکھ کر ہدیہ دیا جاتا ہے۔ ورنہ جب ماضی میں طالبان نے اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے امریکی ورلڈ آرڈر کے خلاف حرکت کرنے کی کوشش کی تھی تو اُن کی بنی بنائی حکومت آناً فاناً گرا دی گئی تھی۔ طالبان اب دوبارہ وہی غلطی دہرانے کے موڈ میں نہیں۔

دور کیوں جاتے ہیں؟ اپنے ہاں آپ پاکستان میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کو اپنے سامنے رکھئے۔ 1971ء میں یہ نہیں سوچا گیا کہ ملک کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی بات کرنے والے یہ بنگلہ دیشی پاکستان کیلئے کتنے مفید اور اہم ہیں۔ نہ ہی ان کی تعداد اور آبادی نیز جمہوری حقوق کو خاطر میں لایا گیا۔
مقتدر اشرافیہ نے صرف یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو ہمارے نقشے کے مطابق چلنے والے نہیں، لہذا انہیں بے دردی سے کاٹ کر رکھ دو۔

ان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا، اب باقی ماندہ پاکستانیوں کو دیکھ لیجئے۔ آج بھی پاکستانی عوام اپنی چادر و چاردیواری کے تحفظ، قانون کی بالا دستی، عدل و انصاف، روزگار کی فراہمی اور معیاری تعلیم وغیر وغیرہ کے اعتبار سے وہیں کھڑے ہیں، جہاں ماضی میں بنگالی کھڑے تھے۔ ہم پر جو حکمران مسلط کئے جاتے ہیں، یہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے معیّن شدہ نیو ورلڈ آرڈر کے مہرے ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل کی فہرست میں عوامی و انسانی حقوق اور قانون کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے انٹرنیشنل سنٹرل اشرافیہ کے نقشے کو ہی عملی کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ابھی پی ڈی ایم کی حکومت کا تجربہ سارے پاکستانیوں نے کیا۔ کیا اس کے باوجود ہم عالمی اسٹیبلشمنٹ کی منصوبہ بندی، طاقت اور نیو ورلڈ آرڈر کو نہیں سمجھ سکتے؟
عراق کے صدر صدام کا عروج و زوال بھی آپ کو یاد ہوگا۔ جب ایران میں انقلاب آیا اور انقلابی حکومت نے ایران سے عالمی اشرافیہ کو نکال باہر کیا تو یہ انٹرنیشنل اشرافیہ کیلئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ چنانچہ صدام حسین نے انٹرنیشنل اشرافیہ کے ایک آلہ کار کے طور پر ایران پر حملہ کیا۔ آٹھ سال تک بے گناہ انسان مارے جاتے رہے۔ بعد ازاں اُسی صدام حسین کو جب بہت زیادہ اسلحہ دینے کی وجہ سے عالمی اشرافیہ کو خطرہ محسوس ہوا تو امریکہ نے خود آگے بڑھ کر صدام کو سولی پر لٹکا دیا۔

دوسری طرف آج بھی ایران اگر ظالمانہ نیو ورلڈ آرڈر کو تسلیم کر لے۔ اپنے معدنی ذخائر کے منہ امریکہ و برطانیہ وغیرہ کیلئے کھول دے تو امریکہ فوراً ایران کو گلے لگا لے گا۔ آپ صاف دیکھ لیجئے کہ ایک مہسا امینی کی خاطر کئی مہینے تک ماتم اور آہ و فغاں کرنے والا امریکہ آج آٹھ ہزار نہتے فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کیلئے مزید اسلحہ اور فوج بھیج رہا ہے۔
نیو ورلڈ آرڈر دراصل ساری دنیا کے سرمایہ داروں اور اشرافیہ کی مرکزی حیثیت کا ظالمانہ و جارحانہ استعماری منصوبہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کوئی ملک نہیں بلکہ یہ صدام، طالبان، القاعدہ اور داعش کی مانند انٹرنیشنل اشرافیہ کا ایک قبضہ گروپ ہے۔ ساری دنیا کی اشرافیہ اور بڑی طاقتیں اگر اسرائیل کی حمایت نہ کریں تو کیا اپنے مفادات کو خود ہی پھونک ڈالیں۔ اسرائیل کی تباہی یعنی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی تباہی۔

عرب ممالک کے درمیان میں اسرائیلی قابض فورسز نے کتنی بے دردی سے بچوں اور خواتین کو نشانے پر لے رکھا ہے، لیکن وہ غیرتِ مُسلم کے ترانے گنگنانے والے اور تلواروں پر رقص کرنے والے سب عرب حکمران کاملاً ساکت ہیں۔ یہ سکوت بلاوجہ نہیں، چونکہ سب جانتے ہیں کہ بات فوج کے ساتھ جنگ لڑنے کی نہیں، بات منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکی نیو ورلڈ آرڈر سے ٹکرانے کیلئے ایران کے سوا عرب و عجم کی ریاستوں کے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں۔

ہمارے سامنے امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے پاکستان میں دہشت گرد انڈسٹری کی وساطت سے اسّی ہزار کے لگ بھگ انسانوں کا خون بہایا۔ نیز سارے ملک میں منشیات اور اسلحے کی سپلائی کو عام کیا۔ یعنی اشرافیہ اپنے نقشے کی تکمیل کیلئے کسی قسم کی انسانیت کو خاطر میں نہیں لاتی۔

اس وقت دنیا میں عالمی اور ظالمانہ و سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا ایک ہی حریف ہے، جسے ایران کہتے ہیں۔ ایران نے شام ، عراق اور یمن میں ڈٹ کر اور کھل کر انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔ ایران میں انقلاب نہ آتا تو فلسطین کو عربوں نے کب کا بیچ دیا ہوتا۔
آج حماس کی مخالفت کی وجہ بھی ظالمانہ نیو ورلڈ آرڈر کے نقشے کو خراب کرنا ہے۔ ان دِنوں میں کہ جب سعودی عرب اور وطنِ عزیز پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے درپے تھے۔ طوفان الاقصی نے اس سازش کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ جو لوگ غزہ میں ہونے والے مظالم کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتے ہیں وہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ حماس نے بروقت اقدام کر کے فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹنے سے اور فلسطینیوں کو ہمیشہ کی غُلامی سے بچالیا ہے۔

اگر سب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے جائیں گے تو دنیا کے نقشے سے خود بخود فلسطین مٹتا جائے گا۔ اس وقت نیو ورلڈ آرڈ کو چیلنج کرنے کی سزا فلسطینیوں کو مل رہی ہے۔ اسلامی ممالک کے حکمران چُپ سادھے کھڑے ہیں۔ آئندہ بھی یہ نیو ورلڈ آرڈر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کریں گے، اس لئے کہ یہ خود عالمی اشرافیہ کے مفادات کے مُہرے اور پہرے دار ہیں۔ نیو ورلڈ آرڈر سے ٹکرانے کیلئے ایران جیسا حوصلہ اور حماس و حزب اللہ جیسی ہمت چاہیئے۔

ایران اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ پرانے اور ظالمانہ ورلڈ آرڈر کی جگہ ایک نیا ورلڈآرڈر تشکیل دے رہا ہے۔

ایک ایسا نیو ورلڈ آرڈر جس میں ظالم اشرافیہ کے بجائے مظلوم ملتوں کو مرکزیت حاصل ہو۔ دنیا بھر کے مظلوموں کی ایسی مضبوط مرکزیت کہ جس کی طاقت کا اظہار یمن و عراق اور شام میں بھرپور طریقے سے ہو چکا ہے اور اب غزہ میں ہو رہا ہے۔

غزہ کی جنگ در اصل ظالموں کے ورلڈ آرڈر نامی منصوبے کے ساتھ مظلوموں کے نیو ورلڈ آرڈر منصوبے کی جنگ ہے۔ اس میں فتح و شکست کا دارومدار لاشوں کی تعداد پر نہیں بلکہ فلسطین کی بقا یا خاتمے پر ہے۔ اگر اس جنگ کے بعد شام، عراق اور یمن کی طرح فلسطین بھی دنیا کے نقشے پر زندہ رہا تو یہ مظلوموں کے مرکز یعنی محور مقاومت اور مظلوموں کی طاقت پر مبنی نئے ورلڈ آرڈر کی ایک اور فتح ہو گی۔

یہ فتح یقینا حماس کا مقدر ہے۔ اسرائیل و امریکہ سمیت سب استعماری ممالک نوشتہ دیوار پڑھ چکے ہیں لہذا اب اپنی یقینی شکست اور خِفت کو چھپانے کیلئے غزہ کو راکھ کا ڈھیر بنا رہے ہیں۔
اس ظلم و ستم کا خاتمہ اب انتہائی قریب ہے۔ یہ وقت گزر جائے گا۔ ان شااللہ غزہ بھی دوبارہ آباد ہو جائے گا ، قدس شریف بھی آزاد ہو گا اور جلد ہی فلسطین ایک آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر اپنے وجود کو منوا لے گا۔

آئندہ نسلیں ایران کی حکمتِ عملی اور اہلِ عراق و اہلِ شام و اہلِ یمن اور اہلِ فلسطین کی شجاعت و استقامت کی داستانیں اپنے بچوں کو سنایا کریں گی۔ دنیا صرف اتنا یاد رکھے گی کہ ایک تھا غاصب اسرائیل اور وہ بہت ظالم تھا۔۔۔

ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے

مقبول ترین


افکار و نظریات: attack, blast, bomb, iran