ہم محاصرے میں ہیں!
فصاحت ذوالفقار

ہم محاصرے میں ہیں۔ اس جملے نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ بیان غزہ کے کسی رہنے والے کے بجائے ایک پاکستانی کا تھا۔ دو دن پہلے پارہ چنار سے عنایت طوری نے یہ بیان دیا کہ حکومت ہمارا محاصرہ ختم کرائے۔یقین جانئے ان کی اس فریاد نے ہر صاحبِ دل کو رنجیدہ کر دیا ہے۔ در حقیقت فلسطین کی مانند پارہ چنار کے لوگ بھی اپنی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناتے انہیں پارہ چنار سے ہجرت کرنے پر مجبور کرنا مجھے بھی سخت ناگوار ہے۔ آخر ملکی ادارے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اُس طرف سے افغانستان کے ساتھ لگنے والے پاکستانی بارڈر کے حقیقی محافظ یہی پارہ چنار کے مقامی قبائل ہیں۔

اگر پارہ چنار کے ان پاکستانی مقامی قبائل کو کمزور کیا جاتا ہے یا انہیں نقل مکانی اور ہجرت پر مجبور کیا جاتا ہے تو پھر یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آئندہ یہاں سے پاکستان پر طالبان کی یلغار کو روکنے کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
خیر اب جو ہورہا ہے اس کے پیشِ نظر ہم نے سوچا کہ لوگوں کی کہانیاں سننے کے بجائے کیوں نہ اس مسئلے کو خود وہاں کے مکینوں کی زبان سے سُنا اور سمجھا جائے۔ پہلے تو مجھے یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ پارہ چنار کی مقامی آبادی کو کچلنے کیلئے حکومت افغانستان کے طالبان سے لشکر منگواتی ہے۔ البتہ میں کئی سالوں سے لوگوں کو یہ کہتے سُن رہا ہوں کہ پاکستان میں شیعہ کُشی کیلئے سرکاری اداروں میں ناصبی لوگ پالیسیز بناتے ہیں۔
یقین جانیں کہ جب تفتان بارڈر پر امیگریشن عملے میں آج بھی موجود ایک صوفی صاحب کی بدتمیزیوں کی بات ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اِسے اوپر سے تعینات ہی اہل تشیع کی اہانت کیلئے کیا گیا ہے، اس لئے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ بہر حال میں نے سوچا کہ آج پارہ چنار کی ایک انتہائی معتبر شخصیت اور انجمن حسینہ پارہ چنارکے جنرل سیکرٹری عنایت طوری صاحب سے کچھ سنتے ہیں۔
اس حوالے سے میں نے وائس آف نیشن کے آنلائن سیشن میں پارہ چنار کے مظہر طوری صاحب کا انٹرویو بھی سُنا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اسی حوالے سےگزشتہ روز پارہ چنار میں ایک ہنگامی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس میں پارہ چنار کی تمام بڑی تنظیموں نے اپنے مطالبات بیان کئے۔

آج ہم عنایت طوری صاحب کا خطاب بطورِ خاص آپ کیلئے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خطاب اہالیان وطن کو حقائق سمجھنے میں مدد دے گا ۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ "جو لوگ کہہ رہے ہیں بارڈر کی باڑ کو نہیں اکھاڑا گیا اور نہ ہی کوئی لشکر آیا ہے۔ یہ دیکھو ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ دہشتگردوں کے وائرلیس فون اور ان کے شناختی کارڈ موجود ہیں ان کی اور چیزیں بھی ہمارے پاس ثبوت ہیں۔ ہم یہ میڈیا پہ دکھائیں گے کہ افغانستان طالبان نے بارڈر باڑ کاٹی اور ہزاروں طالبان آئے۔
ہماری جو پالیسی ہے وہ واضح ہے ہم سب سے پہلے امن کیلئے تیار ہیں۔اگر کوئی جنگ چاہتا ہے تو ہم جنگ کیلئے بھی تیار ہیں۔ الحمد اللہ !ہم طوری قوم نے ثابت کیا ہے ہم جنگ کر سکتے ہیں۔ کل رات ہمارے جوانوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے سینے پیش کرتے ہوئے طالبان کو شکست دی مجھے ان جوانوں پر بہت فخر ہے جنہوں نے شدید قسم کا حملہ پسپا کیا۔ قسم کھاتا ہوں اس سے بڑی خوشی مجھے اور کوئی نہیں ہو گی۔
آج کی یہ ہنگامی کانفرنس تری منگل اور مقبل کے مقام پر حفاظتی حصار توڑ کر افغانی دہشتگردوں کا پیواڑ اور کنج علیزئی پر حملہ آور ہونے پر احتجاجاً کر رہے ہیں۔ 2023 میں ایک بار پھر پارا چنار کو ایک سازش کے تحت جنگ میں دھکیل دیا گیا جس کی ابتدا 4 مئی کو تری منگل سکول میں 7 بے گناہ اساتذہ کے قتل سے ہوئی حکومت نے ابھی تک اساتذہ کے قاتلین کو نہیں پکڑا بلکہ جب بھی ان مظلوم اساتذہ کیلئے آواز اٹھائی گئی تو ایک نئے مسئلے کے ذریعے اس آواز کو دبایا گیا ہے۔ جس سے حکومت خود اس کی پشت پناہ نظر آتی ہے۔

اس دلخراش واقع کے بعد محرم میں مقبل قوم نے لارگز گھڑی میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت بی بی سکینہ بنت الحسین کی شان میں گستاخی کی۔ طوری قوم نے اس کے جواب میں کوئی جنگ نہیں کی بلکہ حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

اس کے بعد ایک بد بخت شخص نے اہل سنت مقدسات کی توہین کی جس کی مذمت پوری شیعہ قوم کے مشیران نے اور انجمن حسینہ نے کی لیکن اس کے باوجود صدہ میں تکفیری ٹولہ نے روڈ بند کی اور تمام شیعہ قوم کو کافر قرار دیا۔
اہل تشیع کے خلاف اعلان جہاد کیا نتیجتاً پہلا واقعہ شلوزان تنگی میں رونما ہوا جس میں لقمان خیل سے تعلق رکھنے ٹریکٹر مزدور عمران علی زخمی جبکہ ڈرائیور ارشد علی شہید ہو گئے حالانکہ وہاں آرمی اور ایف سی والے موجود تھے۔ ہم توہین کے ان دونوں واقعات کو ایک سازش قرار دیتے ہیں۔ جس کے ذریعے سے تری منگل سکول کے شہداء کے خون کو کم رنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس کے بعد پشاور کنال روڈ پر پاراچنار کی ایک بلڈر گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں ایک بندہ شہید اور دو بندے شدید زخمی ہو گئے اور اس کے ایک روز بعد لوور کرم چرخیل کے مقام پر سرکاری کانوائی کی موجودگی میں پاراچنار کے مظلوم اور نہتے مسافروں کی گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار بندے شہید جبکہ کئی بندے زخمی ہو گئے۔
اس کے بعد پیواڑ بوشہرہ بالشخیل کڑمان کنج علیزئی غرض ہر طرف سے دہشتگردوں نے پوری پاراچنار پر جنگ مسلط کر دی اس جنگ کو بند کرنے کا دکھاوا کرنے کے لیے جی او سی کمشنر کوہاٹ ڈویژن ڈی آئی جی کوہاڈویژن ڈی سی کورم برگیڈیئر 73 برگیڈ آگے آئے لیکن سوائے اہل تشیع پر ظلم ڈھانے کے اور کچھ نہیں کیا درین اثنا مقبل اور تری منگل بارڈر پر سرکاری باڑ اکھاڑ کر ہزاروں دہشت گردوں نے افغانستان سے دراندازی کی اور پیواڑ ، کنج علیزئی اور نستی کوٹ پر حملہ کیا جبکہ سرکاری مشینری خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھتی رہی اور ان دہشتگردوں کا ساتھ دیتے رہے جبکہ خود یہ اسی پاراچنار میں موجود تھے۔
ہمیں پاراچنار کے غیور جوانوں پر فخر ہے کہ جنہوں نے نصرت الہی سے بھرپور انداز میں اپنے علاقے کا دفاع کیا اور وطن دشمن دہشت گردوں کو ایک عبرت ناک شکست سے دوچار کیا یقینا یہ جوان ہمارے سروں کے تاج ہیں اور اگے بھی وطن کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے یہاں ہم افسوس کے ساتھ کچھ سوال اٹھاتے ہیں کیا باڑ پر سرکاری کیمرے نہیں ہیں؟
کیا بین الاقوامی سرحدوں پر دراندازی روکنا فوج کی ذمہ داری نہیں ہے؟
کیوں پاکستانی فوج بارڈر پار حملوں کو روکنے میں ناکام رہی؟ اس جنگ کی صورتحال کے نتیجے میں پورے ضلع کرم میں اہل تشیع کیلئے روڈ بند ہے جس سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں کھانے پینے کا سامان ادویات پٹرول ڈیزل اور ایندھن ختم ہو چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ مختلف مریض اور زخمی جان کی بازی ہار رہے ہیں اور ان کو پشاور منتقل کرنا ناممکن ہو گیا ہے المختصر یہ کہ پاراچنار پاکستان میں غزہ کی مانند محصور ہو چکا ہے ضلع کرم کی مکمل انتظامیہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اہل سنت میں موجود امن پسند مشیران اور جوانوں کو کسی بھی امن پراسیس کا حصہ نہیں بنایا جا رہا
جبکہ تکفیری عناصر جو شیعہ کی تکفیر کے فتوے اور فساد پہ سب کو اکساتے ہیں ان لوگوں کو جرگوں میں بٹھایا جا رہا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شیعہ قوم کے خلاف جہاد کے فتوے دے رہے ہیں انہیں کے ساتھ ہمیں مذاکرات کے لیے بٹھایا جائے۔ یہ سراسر امن جرگے کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

آخر میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ابھی تک ہم قومی سطح پر اس جنگ میں وارد نہیں ہوئے ہیں اگر حکومت امن برقرار کرنے میں ناکام رہتی ہے اور ہمارا محاصرہ اسی طرح سے جاری رہتا ہے تو ہم پوری قوم اس محاصرے کو توڑنے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترنے پر مجبور ہوں گے اس صورت میں تمام ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوگی۔
اللہ رب عزت سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری اس حالت کو بہترین حالت میں تبدیل فرمائے۔"
قارئینِ کرام
! ہم نے لفظ بہ لفظ محترم عنایت حسین طوری صاحب کی گفتگو آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ اس گفتگو میں پارہ چنار کے مقامی باشندوں کے مشورے، تجاویز، مسائل اور شکایات کی بھرپور ترجمانی کی گئی ہے۔ ہم اس گفتگو میں اپنے جذبات کی آمیزش کئے بغیر ملکی سلامتی کے اداروں، میڈیا پرسنز اورانسانی حقوق کے علمبرداروں کو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ملک پاکستان کسی ایک فرقے یا کمیونٹی کی ملکیت نہیں۔ یہاں کسی ایک فرقے کو باقی مسالک کو دبا کر رکھنے، اُن پر اپنی دھونس جمانے ، اُن کی نسل کُشی کرنے، اُن کی ٹارگٹ کلنگ اور اُن کی توہین و تحقیر کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔


ملت پاکستان کی آواز بننے کیلئے ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے۔


ہمارا تعارف


افکار و نظریات: parachinar, pakistan, army, islam