القاب کا غلط استعمال
تحریر ✒️م ع شریفی۔۔


ہمارے ایک دوست سنارہےتھے کہ ان کے سکول میں ایک تقریری مقابلہ ہوا تو ایک لڑکا کچھ اس طرح مخمصے کاشکار ہوا کہ میں ہیڈ ماسٹر صاحب کانام کس طرح لوں ، جناب محترم ،صاحب، عزت مآب یہ سب دوسرے اساتذہ کےلئے بھی استعمال ہورہاہے۔ آخرکار اس نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنی باری پر ہیڈ ماسٹر صاحب کے نام کے ساتھ ،، علیہ السلام ،، لگالوں گا ۔۔۔اب اس کی باری آئی تو اسٹیج پر جاکر ایسا ہی کر ڈالا ،، میں جناب ہیڈ ماسٹر علیہ السلام کی اجازت سے آگے۔۔۔۔
برصغیر پاک وہند میں ہر شخص اپنی پسندیدہ شخصیت کےلئے ہروہ لقب اور عنوان دینے لگ جاتاہے جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ترقی یافتہ علمی اور باشعور دنیا میں ہر ہر لقب اور ٹائٹل نپا تُلا ہوتا ہے ۔ اگر عنوان اور ٹائٹل حقائق سے دور ہو تو سامنے والا خود دنگ رہ جاتا ہے کہ یاتو کہنے والا میرے بارے میں جاہل ہے یا میرا مذاق اڑایا جارہاہے۔ مثلا ایک آدمی کے پاس پی ایچ ڈی یا ایم بی بی ایس کی ڈگری نہ ہو اور اسے کچھ لوگ ڈاکٹر کہنا شروع کردیں اور وہ بھی کلینک کھول کر مریضوں کا علاج کرنے بیٹھ جائے ،دوائیاں دینے لگے آپریشن کرنا شروع کردے تو بین الاقوامی قانون کے مطابق وہ مجرم ٹھہرے گا اور جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی اسے قانون کے کٹہرے میں لایاجائے گا نیز اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔ (خیر ہمارے ہاں تو ریڑھی والے سے بھی دوائیاں مل جاتی ہیں اور ڈاکٹر کے نام پر قصابوں کی بھی تو کوئی کمی نہیں ہے۔)
اب آتے ہیں دینی حلقوں کی طرف تو یہاں القابات کی دنیا تو کچھ اور ہی ہے ۔عوام کی بےشعوری سے ایک طبقے نےاتنا ناجائز فائدہ اٹھایا کہ دین کو ہی ذریعہ معاش بنادیا ، ان کےلئے ایسےایسے القاب کی منڈی لگائی گئی کہ الاماں ۔عزاداری اور ذکر امام کے نام پر کتنے ہی جاہلوں کو علامہ الدہر، شہنشاہ مصائب،خطیب توانا، ووو ۔۔۔ اور مذہب کابیڑا غرق کرکے رکھ دیا گیا۔ اس میں علماء کرام بھی مصلحتوں کاشکار ہوئے اور سب سے بڑے جاہل کو سب سے بڑے علامہ کے لقب سے نوازا گیا ۔
مجالس میلے کی شکل اختیار کرتی گئیں اور لوگ درس و عبرت اور ثواب لینے کی نیت کے بجائے مزے لینے مجالس ومحافل کی جانب رخ کرنےلگے۔ قرآن ، تعلیمات اور سیرت معصومین بیان ہونے کےبجائے اچھی مجالس کامعیار قصے، کہانیوں ،سریلی آوازوں کو قرار دیاجانے لگا، محافل میں تو آج کل اکثر غیر مستند ،ہنسی مذاق، پر مشتمل اشعار کی تھیلیاں لیکر شعراء کاراج نظر آتا ہے اور ان کی دیکھا دیکھی میں علماء کو بھی شاعری کا خمار چڑھ جاتا ہے اور ان کے رنگ میں رنگے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ مسلمانوں میں آج کل ایک ہی متفقہ دھندہ ہےاور وہ القاب کا دھندہ ہے۔ اس دھندے میں مسلم امہ متحد اور ایک پیچ پر دکھائی دیتی ہے۔ اہل سنت میں بھی یہ بیماری طوفان کی حدتک دکھائی دیتی ہے ایسے القاب دیکھے گئے کہ سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں حضرت اقدس مفتی اعظم ، پیرطریقت ووو۔۔۔جب مریدوں ، شیدائیوں ، چاہنے والوں ، شاگردوں،اور پرستاروں کی ذاتی محبت حد سے بڑھ جاتی ہے تو زمینی حقائق اور علمی دنیا کے معیارات کا کون خیال رکھتا ہے۔
ایسے القابات سے اخلاص، اور دیانت داری سے عاری حضرات کی عوام سے توقعات اور بھی بڑھ جاتی ہیں اور انہیں اپنے لئےحقیقی لقب اور درست عنوان اور ٹائٹل چھوٹا لگنے لگتا ہے۔
میری زندگی میں ایک ہی شخصیت کو القاب سے ناخوش اور کئی بار منع کرتے ہوئے بھی دیکھا اور وہ ہمارے استاد محترم درویش صفت انسان عالم باعمل قبلہ آغا رئیسی صاحب ہیں۔ اس ، القاب اور ٹائیٹلز کے پیاسے دور میں جب بھی ان کو کسی نے آیت اللہ کہکر پکارا تو انہوں نے منع کر دیا۔ ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آیا۔ ایک بار جب کسی پروگرام میں راقم نظامت کے فرائض ادا کررہاتھا تومیں نے بھی "آیت اللہ " کہکر دعوت دی تو آپ نے اسٹیج پر آتے ہی ہنستے ہوئے یہ حدیث پڑھی ،، الإنسانُ حَريصٌ عَلى ما مُنِعَ ،، انسان کو جس چیز سے منع کیا جاتا ہے وہ اس کی طرف زیادہ رغبت پیدا کرتاہے۔ جبکہ ہماری نظر میں اور بھی بہت سی دیگر علمی شخصیات کاکہنا ہے وہ مُسلَّمہ آیت اللہ ہیں لیکن یہ ان کااخلاص ، شہرت سے دوری اور کسرنفسی کی اعلی مثال ہے۔ خدا انہیں طولِ عمر اور مزید ترقی عطا کرے۔

ہمیں جوائن کیجئے

مقبول ترین

قیامی پاکستان اور شیعہ


افکار و نظریات: القاب کا غلط استعمال