ایسا کیوں ہے؟
تحریر: چمن آبادی

اس وقت دنیا بھر کےسارے باضمیر انسان سڑکوں پر ہیں۔اسرائیل کےمظالم کے خلاف ساری دنیا میں احتجاج جاری ہے۔جگہ جگہ مظلوم فلسطینی شہریوں سے اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔ لیکن مکہ ومدینہ، دبئی و شارجہ کی سڑکوں پر ایک فرد بھی ظلم سے نفرت اور مظلوم سے ہمدردی کے لیے نہیں نکلا۔ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مجھے تاریخ کی ورق گردانی کرنی پڑی۔


امام حسین نے مدینہ منورہ سے یزید کی حکومت کے خلاف قیام کے ارادے سے مکہ اور وہاں سے کوفہ کی طرف سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تو مروان بن حکم نے آپ کو مشورہ دیا کہ قیام کی بجائے یزید کی بیعت کی جائے تاکہ جاں بخشی ہوسکے۔ امام عالی مقام نے مروان سے کہا :صد افسوس ہو تم پر ! تو مجھے یزید جیسے فاسق و فاجر کی بیعت کا مشورہ دیتے ہو۔
آج بھی بعض مسلمان ممالک مروان بن حکم کا کردار پیش کرتے ہوئے غاصب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بنانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ شنید ہے کہ عرب امارات کا فضائیہ اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینیوں پر بم گرانے میں مشغول ہیں۔ سعودی عرب کافی عرصے سے اسرائیل کے ساتھ رابطے میں ہے اور غاصب صہیونی ریاست کے نجس وجود نا صرف کو تسلیم کر چکا ہے بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرئے۔
اردن، مصر اور ترکی پہلے ہی یزید زمان، صہیونی ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ غزہ پر وحشیانہ بمباری، بچوں، خواتین اور معصوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے باوجود ان ممالک میں اسرائیل کے سفارت خانے معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے وارث رجب طیب اردگان ہے یہ حال ہے کہ شام کے تیل والے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کو بیچ رہا ہے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کے بستیوں کے بستیاں تباہ کر کے یہودی کالونیاں بناتا جارہا ہے اور وہاں کی آبادی کاری وتعمیرات کے لیے سیمنٹ، سریے اور دیگر ضروری سامان ترکی سے جاتے ہیں۔قطر ایک طرف فلسطینیوں کے لیے رونا رو رہا ہے لیکن دوسری طرف سے اپنا گیس اسرائیل کو فروخت کر رہا ہے۔
61 ہجری کے کربلا میں امام حسین ع نے دشمن کے مقابلے میں عبداللہ بن حر جعفی سے مدد طلب کی تو اس نے کہا: میری مدد کا آپ کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یزیدی لشکر آپ کو شہید کر کے ہی دم لے گا۔ میں اپنا گھوڑا آپ کی خدمت میں پیش کرونگا لیکن میں خود آپ کی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ دشمن طاقتور ہے اس سے ٹکرانے کا نتیجہ قتل ہے۔امام حسین ؑ نے اس کے گھوڑے کو قبول کرنے سے معذرت کی۔ اسرائیل، یزید کے کردار کو دہراتے ہوئے کربلا عصر غزہ کا 16 سالوں سے بری، بحری اور فضائی محاصرہ کر رکھا تھا اور اب کئی ہفتوں سے غزہ کی سر زمین کو بے گناہوں کے خون سے رنگین کر رہا ہے جبکہ مسلمان ممالک خصوصا *عرب اور ہمسایہ ممالک* عبداللہ بن حر جعفی کا کردار پیش کر رہے ہیں۔ عبداللہ نے فرزند رسول خدا ص کو گھوڑے کی پیش کش کی تھی بالکل اسی طرح اسلامی ممالک کمبل، خیمے، دوائی اور کفن مظلوم فلسطینیوں کی یاد میں مصر پہنچا رہے ہیں جبکہ یزید عصر، اسرائیل کے حامی ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی وغیرہ اسے ممنوعہ بموں، میزائلوں، ٹینکوں اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں۔
پاکستان نے پہلی بار جب ایٹمی دھماکہ کیا تو سب سے زیادہ فلسطینی مسلمان خوش ہوئے تھے کیونکہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سجھتے ہیں لیکن آج وہی واحد اسلامی ایٹمی ملک بھی عبداللہ بن حر جعفی کی طرح خاک وخوں میں غلطاں فلسطینیوں کے لئے صرف خیمے اور کمبل بھیج رہا ہے۔ پاکستانی حکومت میں اتنی جرأت بھی نہیں کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھل کر ایک بیان دے سکے۔ ہم سے تو کافر ملک شمالی کوریا بہتر ہے جس نے کھل اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی کاروائی《طوفان الاقصی》 کو حق بجانب قرار دیا۔
57ایک طرف اسلامی ممالک کے فوجی اسرائیلی درندگی کے سامنے خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں۔دوسری طرف مکتبِ حسین ہے، مکتب حسینی کے تربیت یافتہ لبنانی حزب اللہ، عراقی حشد شعبی، یمنی انصار اللہ اور شام کے لجان شعبی نے ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے یزیدی لشکر پر پے در پے حملے کر کے اس کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے خیمے کا اصلی ستون، اسلامی جمہوریہ ایران وہ واحد ملک ہے جس نے غلیل سے دشمن کا مقابلہ کرنے والے فلسطینی مجاہدوں کو جدید میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون سے مسلحہ کیا اور اس وقت بھی ان کی اقتصادی اور سیاسی سپورٹ کر رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ایک طرف ۵۷ اسلامی ممالک اور ان کی فوجیں خاموش اور ساکت اور دوسری طرف اکیلا ایران چند چھوٹے چھوٹےگروپوں کے ساتھ اسرائیل کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے؟ اس کی وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ میں بھی وجہ تلاش کرتا ہوں آپ بھی تلاش کیجئے۔

ہمیں جوائن کیجئے

مقبول ترین


افکار و نظریات: Pakistan, Violence, links, Middle